چین میں پاک افغان مذاکرات
أج کا اداریہ
اطلاعات ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان چین میں مسائل کے حل کیلیے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ چین کے شہر اُرمچی میں افغانستان کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں جس میں شرکت کے لیے پاکستان کا ایک وفد وہاں موجود ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کو روکنے کے لیے دیرپا حل اور قابلِ اعتماد عمل کی حمایت کے اپنے مستقل موقف کے مطابق ایک مذاکراتی وفد بھیجا ہے۔
مذاکرات میں شرکت ہمارے بنیادی خدشات کی دوبارہ توثیق ہے۔ تاہم حقیقی عمل کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے۔ طالبان حکومت کو قابلِ اعتبار اور قابلِ تصدیق اقدامات دکھانا ہوں گے تاکہ دہشتگرد گروہوں کی طرف سے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’آپریشن غضب للحق اب بھی جاری ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں أئی۔
افغان حکومت نے بھی اسکی تصدیق کی ہے ۔نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اپنے اصولی مؤقف کی بنیاد پر باضابطہ بات چیت کے لیے افغانستان کا ایک درمیانی درجے کا وفد چین پہنچ چکا ہے۔ اُرمچی میں ہونے والے مذاکرات چینی حکومت کی ثالثی میں ہو رہے ہیں اور یہ عمل چین کی درخواست پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
’افغانستان حکومت کا ماننا ہے کہ سفارتی کوششوں کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان موجود مسائل کے عملی اور دیرپا حل تلاش کیے جا سکتے ہیں اور خطے کے استحکام اور تعاون کے لیے راہ ہموار ہو سکتی ہے۔حالیہ دنوں میں یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ گذشتہ ماہ بھی چین نے دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان ثالثی کی کوششیں کی تھیں۔
اس وقت چین کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ ’چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کروانے کے لیے متحرک ہیں۔ جبکہ دونوں ممالک میں چین کے سفارتخانے دونوں فریقین کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چین پاکستان اور افغانستان کے مابین تنازع کے حل کے لیے کوششیں کیوں کر رہا ہے اور آیا چین کا اتنا اثر و رسوخ ہے کہ وہ اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے حل کر پائے گا۔جب طالبان کی حکومت آئی اور غیر ملکی چلے گئے تو ان کی خواہش تھی کہ جو چیزیں جنگ کے دوران نہیں ہو سکی تھیں جیسے کہ انفراسٹرکچر منصوبے، انھیں شروع کیا جائے۔‘
’چین کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال ان کے معاشی مفادات کے حق میں نہیں اور تجارت، ٹرانزٹ، واکھان کوریڈور اور بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹیو جیسے منصوبوں پر عملدرآمد ممکن نہیں ہو سکے گا۔
چین کا پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کا کردار نیا نہیں ہے۔ چین دونوں ملکوں پر اثر و رسوخ رکھتا ہے بلکہ اس کے معاشی مفادات بھی دونوں ملکوں سے جڑے ہیں۔چین کا پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کا کردار کوئی کوئی چنبھے والی بات نہیں۔ پاکستان، چین اور افغانستان کا سہہ فریقی گروپ 2017 سے کام کر رہا ہے۔ چین سمجھتا ہے کہ خطے میں ایران اور امریکہ، اسرائیل کے درمیان جنگ چل رہی ہے، اس سارے تناظر میں دو پڑوسی مسلم ممالک کا اختلاف طاقت کی بجائے بات چیت سے حل کیا جائے۔چین کافی عرصے سے کوششیں کر رہا ہے کہ کسی طرح سے مفاہمت ہو جائے اور دونوں فریق بات چیت کے لیے بیٹھیں اور یہ مذاکرات اس ہی کی ایک کڑی ہے۔چین ہمیشہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔
چین کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ہو گی تو اس کا نقصان خطے میں تعاون اور رابطے کی کوششوں پر اثر پڑے گا۔
’خطے کی بڑی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ چین کے اس خطے میں سی پیک جیسے منصوبوں کی شکل میں مفادات ہیں۔ معاشی مفادات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے چین سے بہتر کوئی ثالث کا کردار نہیں ادا کر سکتا۔ اب اس صورت حال میں چین ایک مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن نتائج کا دارومدار اس بات پر ہے کہ افغانستان اور پاکستان اپنے طویل بارڈر پر سرحد پار دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کس طرح ایک مکینزم بناتے ہیں۔
پاکستان کا موقف ہے کہ دھشت گردی سرحدپار سے ہو رہی ہے لہذا افغان حکومت اسے روکے یا دونوں ممالک مل کر اسکا حل نکالیں۔ طالبان کے نقطہ نظر سے مشترکہ بارڈر میکانزم بنانے کا مطلب ڈیورنڈ لائن کو تسلیم شدہ سرحد کے طور پر قبول کرنا ہو گا۔’افغان طالبان نہ صرف علاقے کے جغرافیہ کو تاریخی پس منظر میں دیکھتے ہیں بلکہ وہ پاکستانی طالبان کو تحفظ فراہم کرنا اپنا نظریاتی فرض سمجھتے ہیں۔
اگر پاکستان اور افغانستان اپنے سکیورٹی اور تجارتی مسائل کے معاملے میں حد متعین کر لیں کہ وہ سکیورٹی مسائل کو تجارتی معاملات پر اثر انداز ہونے نہیں دیں گے تو وہ جنگ بندی دیرپا ثابت ہو سکتی ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان اس وقت تک مستقل جنگ بندی ممکن نہیں جب تک دونوں فریق ایک قابل تصدیق طریقہ کار پر متفق نہ ہو جائیں۔اگر چین کی ثالثی کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کسی معاہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو یہ ایک خوش آئند پیشرفت ہو گی۔






