#کالم

محبت، اصلاحِ باطن، خدمتِ انسانیت اور حقیقی تصوف

Untitled 1665577

تحریر: صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
آج کے اس شور زدہ، اضطراب بھرے اور مادہ پرستی کے غلبے والے دور میں انسان نے بظاہر ترقی کی بہت سی منازل طے کر لی ہیں، مگر اس کے باطن میں ایک عجیب سی ویرانی، بے سکونی اور روحانی تشنگی بڑھتی جا رہی ہے۔ ظاہری آسائشوں کے باوجود دلوں سے سکون رخصت ہو رہا ہے، تعلقات سے خلوص کم ہو رہا ہے، عبادات میں تاثیر گھٹ رہی ہے، اور معاشرتی زندگی سے برداشت، رحم، محبت، دیانت اور خیر خواہی جیسی اقدار کمزور پڑتی محسوس ہو رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر کسی چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو وہ محض رسمی مذہبیت نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی وہ زندہ اور بیدار روح ہے جو انسان کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن کو بھی سنوارتی ہے، اس کے اعمال کے ساتھ اس کی نیت کو بھی پاک کرتی ہے، اور اس کے کردار میں ایسی روشنی پیدا کرتی ہے جو خود اس کے لیے بھی باعثِ سکون ہو اور دوسروں کے لیے بھی باعثِ خیر۔ اسی باطنی، اخلاقی اور روحانی تربیت کو اہلِ علم نے مختلف ادوار میں تزکیۂ نفس، احسان، اصلاحِ باطن اور حقیقی تصوف کے عنوان سے بیان کیا ہے۔
حقیقی تصوف اسلام سے الگ کوئی راستہ نہیں، نہ یہ شریعت کے مقابل کوئی متوازی تصور ہے، اور نہ ہی یہ کسی مخصوص طبقے یا خانقاہی ماحول تک محدود کوئی کیفیت ہے۔ حقیقی تصوف دراصل قرآن و سنت کے تابع رہتے ہوئے انسان کے باطن کی اصلاح، نفس کے تزکیے، اخلاق کی درستی، نیت کے اخلاص اور تعلق باللہ کی مضبوطی کا نام ہے۔ یہ وہی کیفیت ہے جس میں انسان اپنے رب کے سامنے جھکنے کے آداب سیکھتا ہے، اپنے نفس کی کمزوریوں کو پہچانتا ہے، اپنی خواہشات کو شریعت کے تابع کرتا ہے، اور اپنی زندگی کو اس انداز سے ڈھالتا ہے کہ اس کے اندر عبادت بھی زندہ ہو، اخلاق بھی روشن ہوں، اور معاملات بھی پاکیزہ ہوں۔ اگر شریعت انسان کے ظاہر کو منظم کرتی ہے تو یہی باطنی تربیت اس کے اندر وہ نور پیدا کرتی ہے جس سے عمل میں جان آتی ہے اور عبادت محض رسم نہیں رہتی بلکہ بندگی بن جاتی ہے۔
قرآن مجید کا مطالعہ کیا جائے تو بار بار انسان کی ظاہری کامیابی سے زیادہ اس کے قلب و باطن کی اصلاح پر زور ملتا ہے۔ قرآن انسان کو تقویٰ، اخلاص، صبر، شکر، توکل، عفو، درگزر، عدل، احسان اور خوفِ خدا کی طرف بلاتا ہے۔ یہ تمام اوصاف وہی ہیں جنہیں حقیقی تصوف اپنی عملی تربیت کے ذریعے پروان چڑھاتا ہے۔ اسی طرح سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر گوشہ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ اسلام صرف عبادات کے ظاہری ڈھانچے کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل اخلاقی اور روحانی تہذیب کا نام ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف نماز پڑھنا نہیں سکھایا، بلکہ نماز میں خشوع بھی سکھایا۔ صرف روزہ رکھنا نہیں سکھایا، بلکہ زبان، آنکھ، دل اور نیت کا روزہ بھی سکھایا۔ صرف صدقہ دینا نہیں سکھایا، بلکہ اخلاص، عاجزی اور بے لوثی کے ساتھ دینا بھی سکھایا۔ صرف لوگوں سے ملنا جلنا نہیں سکھایا، بلکہ حسنِ سلوک، عفو و درگزر، رحم دلی، نرم خوئی اور خیر خواہی کے آداب بھی عطا فرمائے۔ یہی وہ اسلامی تصورِ احسان ہے جو حقیقی تصوف کی بنیاد ہے۔
افسوس یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بعض حلقوں نے تصوف کے نام پر ایسی باتیں بھی پھیلا دیں جو نہ قرآن سے ثابت ہیں، نہ سنت سے، اور نہ سلف صالحین کے مزاج سے ہم آہنگ۔ کہیں شخصیت پرستی نے دین کی روح کو دھندلا دیا، کہیں ظاہری رسوم نے باطنی حقیقت کی جگہ لے لی، کہیں شریعت سے بے اعتنائی کو روحانیت کا نام دے دیا گیا، اور کہیں محبت کے نام پر حدودِ شرع کو پس پشت ڈالنے کی کوشش ہوئی۔ یہ سب کچھ حقیقی تصوف نہیں۔ جس تصوف میں شریعت کی پابندی نہ ہو، سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع نہ ہو، عقیدہ درست نہ ہو، اور اخلاق کی اصلاح کے بجائے محض دعوے اور نمائشی وابستگیاں ہوں، وہ اسلام کی مطلوب روحانیت نہیں۔ اس لیے یہ بات پوری وضاحت سے سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ حقیقی تصوف ہمیشہ شریعت کے تابع رہتا ہے، شریعت سے آگے نہیں نکلتا، اور نہ شریعت سے بے نیاز ہونے کی اجازت دیتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ تصوف ہے یا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم کس چیز کو تصوف سمجھ رہے ہیں۔ اگر تصوف سے مراد وہ راہ ہے جو انسان کو نماز کا پابند بنائے، جھوٹ سے دور کرے، دل میں اللہ کا خوف پیدا کرے، زبان میں نرمی پیدا کرے، رزق میں حلال کی طلب پیدا کرے، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سکھائے، رشتہ داروں کے حقوق یاد دلائے، پڑوسی کے احترام کا شعور دے، مظلوم کے لیے دل میں درد پیدا کرے، اور نفس کے تکبر، حسد، بغض، ریا اور خود پسندی کو کم کرے، تو پھر یہی وہ مبارک راہ ہے جسے اسلام کے اندر احسان، تزکیۂ نفس اور اصلاحِ باطن کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر تصوف کے نام پر شریعت سے دوری، بے عملی، غلو، اندھی عقیدت، یا غیر ثابت رسوم کو فروغ دیا جائے تو پھر اس کی اصلاح بھی ضروری ہے اور اس سے براءت بھی لازم ہے۔
آج ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے دین کو اکثر اوقات صرف ظاہری شناخت تک محدود کر دیا ہے۔ ہمارے پاس مذہبی نعروں کی کمی نہیں، مگر باطن کی صفائی کم ہے۔ مساجد آباد ہیں مگر دلوں میں کدورتیں بھی آباد ہیں۔ تلاوت کی آوازیں سنائی دیتی ہیں مگر معاملات میں دیانت کم نظر آتی ہے۔ مذہبی تقریبات منعقد ہوتی ہیں مگر گھروں میں تحمل، شفقت اور اخلاقی حسن کم دکھائی دیتا ہے۔ ہم نے دین کے عنوانات تو محفوظ رکھ لیے، مگر اس کی روح سے دور ہوتے چلے گئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقی تصوف کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے، کیونکہ یہ انسان کو خود اپنے اندر

محبت، اصلاحِ باطن، خدمتِ انسانیت اور حقیقی تصوف

اللہ کی مدد آئی اور ہم نے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے