اللہ کی مدد آئی اور ہم نے دیکھی ۔۔۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
تحریر ۔۔۔صفدر علی خاں
پاک بھارت جنگ کے بعد جنرل سید عاصم منیر نے مندرجہ بالا تاریخی الفاظ کہے، ان الفاظ پر تب بھی یقین آیا تھا لیکن ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جارحیت کے بعد ایمان پختہ ہو گیا ، کیونکہ تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ اقوام کی تقدیر صرف وسائل یا سازگار حالات سے نہیں بلکہ قیادت، عزم اور یقین سے طے ہوتی ہے۔ بعض اوقات ایسے بھی لمحات آتے ہیں جب بظاہر کمزور نظر آنے والی قومیں غیر معمولی کردار ادا کرتی ہیں اور یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں اہلِ ایمان اسے ۔۔۔اللہ کی مدد۔۔۔ سے تعبیر کرتے ہیں۔ آج کے پیچیدہ عالمی منظرنامے میں پاکستان کا کردار اسی زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک طرف معاشی دباؤ ، سیاسی چیلنجز اور داخلی مسائل ہیں۔۔۔ تو دوسری طرف عالمی سطح پر پاکستان کی زبردست موجودگی اور اثر و رسوخ ایک حقیقت ہے کہ جس پر ہمارے ہمسایہ ملک میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ یہ تضاد نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ ریاستیں صرف معیشت سے نہیں بلکہ حکمت عملی، جغرافیائی معنویت اور پختہ قیادت سے بھی اپنا مقام بناتی ہیں۔
اس تناظر میں پاکستان کی عسکری قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ ان کی قیادت میں نہ صرف دفاعی استحکام کو یقینی بنایا گیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو بھی مؤثر انداز میں پیش کرنے کے حالات بنے اور پیش کیا بھی گیا۔ میرے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےعسکری نظم و ضبط، اسٹریٹیجک سوچ اور ایک واضح نظریاتی سمت کے ساتھ پاکستان کو ایک ایسے مقام پر قائم رکھا ہوا ہے جہاں وہ بڑے علاقائی اور عالمی معاملات میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ موجودہ دور میں پاکستان کے ۔۔۔لیڈ رول۔۔۔ کی بنیاد محض سیاسی بیانات نہیں بلکہ ایک منظم قومی حکمت عملی ہے، جس میں عسکری قیادت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ سیاسی قیادت کی کوششیں بھی قابلِ تحسین ہیں۔ وزیرِاعظم میاں محمد شہباز شریف کی سفارتی حکمت عملی، فعالیت اور معاشی استحکام کی کوششیں اور نائب وزیراعظم و زیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی مؤثر اور انتھک سفارتکاری نے پاکستان کے مؤقف کو عالمی فورمز پر مزید مضبوط انداز میں پیش کیا ہے ۔ میرے خیال میں اگر ہم خطے میں ایران کی مثال دیکھیں تو وہاں بھی یہی عنصر کار فرما نظر آتا ہے۔ شدید دباؤ کے باوجود ایران کا قائم رہنا اور اپنا اثر برقرار رکھنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب قیادت اور قوم ایک نظریے پر متحد ہوں تو حالات کے طوفان بھی ان کا راستہ نہیں روک سکتے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان اور یقین، محض مذہبی اصطلاحات نہیں بلکہ ایک عملی قوت بن جاتے ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے ۔۔۔اللہ کی مدد ۔۔۔ کا تصور بھی اسی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ کوئی غیر مرئی معجزہ نہیں بلکہ اظہر من الشمس حقیقت ہے۔ یہ اس اجتماعی یقین کا نام ہے جو قوم کو مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کی طاقت دیتا ہے۔ جب قیادت صاحب بصیرت ہو، نیت مضبوط ہو اور سمت درست ہو تو نتائج بھی غیر معمولی ہوا کرتے ہیں۔تاہم ہمارے خیال سے یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جانی چائیے کہ پاکستان کو اپنی داخلی کمزوریوں پر قابو پانا ہوگا کیونکہ معاشی اصلاحات ، سیاسی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی استحکام وہ عناصر ہیں جو اس ابھرتے ہوئے کردار کو پائیدار بنا سکتے ہیں۔ قیادت کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ وقتی کامیابیوں کو مستقل استحکام میں بدل سکے۔
آخر میں یہ کہنا بھی بجا ہو گا کہ پاکستان آج جس مقام پر کھڑا ہے ، وہ محض حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ قیادت، حکمت عملی اور یقین محکم کا ثمر ہے۔ فیلڈ مارشل سید صاصم منیر کی قیادت میں عسکری استحکام، وزیر اعظم پاکستان کی حکومتی کاوشیں اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی سرگرمیاں ۔۔۔ یہ سب مل کر ایک ایسے پاکستان کی تصویر پیش کرتی ہیں جو مشکلات کے باوجود دنیا میں اپنا منفرد اور اہم کردار ادا کر رہا ہے۔۔۔ایمان ، اتحاد اور قیادت۔۔۔ یہی وہ تین ستون ہیں جن پر کسی بھی قوم کی حقیقی طاقت قائم ہوتی ہے اور جب یہ تینوں یکجا ہو جائیں تو تاریخ کا دھارا بھی بدلتا ہوا نظر آتا ہے ۔ بے جا ، عادتی ناقدین چونکہ ایمان اور امید سے محروم ہوتے ہیں لہٰذا وہ معاملہ فہمی نہیں کر پاتے۔ بقول نوجوان شاعر احمد نواز کے ۔۔۔۔
پاتال زدہ ذہن کہاں بات کو پہنچیں
اونچی ہے نگہ ،سوچ ہے بالائی ہماری





