#کالم

عمران خان رہائی فورس بنانے کا منصوبہ ترک

Fahad 01

اج کا اداریہ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے "عمران خان رہائی فورس” بنانے کی مجوزہ منصوبہ بندی کو اندرونی اعتراضات اور قانونی خدشات کے بعد ترک کر دیا ہے، جسے پارٹی کے سخت گیر عناصر کے لیے بڑی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔رمضان سے قبل خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ
سہیل آفریدی نے ایک مخصوص فورس کے قیام کا اعلان کرتےہوئے کہاتھا کہ یہ فورس بنانےکا مقصد جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنا ھے۔
احتجاج اور مذاکرات کی ذمہ داری علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو دی گئی تھی، بانی پی ٹی آئی نے اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کی ذمہ داری انہیں سونپی ہے، جس کے تحت “عمران خان رہائی فورس” قائم کی جا رہی ہے۔سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اس فورس میں پی ٹی آئی، آئی ایس ایف اور وومن ونگ سمیت تمام طبقات شامل ہوں گے، عید کے بعد پشاور میں حلف لیا جائے گا اور پھر آئندہ لائحہ عمل کا اعلان ہوگا۔ دوسری جانب عمران خان رہائی فورس کی تشکیل کا عمل بھی جاری تھا۔پارٹی قیادت کے مطابق کارکنوں کو نہ صرف رضاکار فورس تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی تھی بلکہ ان سے باقاعدہ حلف بھی لیا جائے گا تاکہ احتجاجی تحریک کو منظم اور فعال بنایا جا سکے۔
پشاور سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی فضل الہیٰ نے کہا تھا کہ شہر کے کارکن پہلے بھی تحریکوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اور اس بار بھی ہر احتجاجی مظاہرے میں فرنٹ لائن پر موجود ہوں گے۔ جبکہ عمران خان رہائی فورس میں پشاور کے کارکنوں کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی۔
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر عمران خان کی رہائی میں مزید تاخیر ہوئی تو کارکن قیادت کے بغیر بھی احتجاج شروع کر سکتے ہیں۔ پارٹی حکمت عملی کے تحت ہر ویلیج کونسل کی سطح پر سینئر کارکنوں پر مشتمل رضاکار فورس تیار کی جا رہی ہے۔ تاکہ احتجاج کو مؤثر اور مربوط بنایا جا سکے۔
دوسری جانب کارکنوں نے پارٹی کے منتخب سینیٹرز، اراکین قومی اسمبلی اور اراکین صوبائی اسمبلی کی ماضی کی غیر حاضری پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس بار تمام عوامی نمائندے احتجاج کے دوران میدان میں موجود رہنے کا حلف دیں
ایک سینئر کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ماضی کے احتجاجوں میں کئی منتخب نمائندے غیر حاضر رہے۔ جس پر کارکنوں میں ناراضی پائی جاتی ہے۔ اس بار قیادت کو واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران کابینہ اور منتخب نمائندے سب سے آگے ہوں گے اور کارکن ان کے بعد شامل ہوں گے
منصوبے میں رضاکاروں سے حلف لینے اور باقاعدہ طور پر ارکان کی رجسٹریشن کرنے کے بعد منظم مہم شروع کرنے کی تجویز شامل تھی۔ تاہم یہ تجویز جلد ہی پارٹی کے اندر سے مزاحمت کا شکار ہو گئی۔ 
پی ٹی آئی چیئرمین گوہر علی خان نے اس خیال کو غیر آئینی اورغیر قانونی قرار دیا اور خبردار کیا کہ ایسی کسی فورس کی تشکیل عسکریت پسندی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔
اندرونی مشاورت کے بعد پارٹی قیادت نے فورس کے تصور کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بجائے اس اقدام کو اب ایک وسیع، جامع سیاسی تحریک کی شکل دے دی گئی ہے جو تمام حامیوں کے لیے کھلی ہو گی، بغیر کسی حلف برداری یا کسی ایسی رسمی ساخت کے جو کسی فورس سے مشابہت رکھتی ہو۔
ذرائع کے مطابق نظرثانی شدہ حکمت عملی تدریجی، پُرامن اور جمہوری سڑکوں پر مبنی تحریک پر زور دیتی ہے۔ شرکت محدود نہیں ہو گی اور پارٹی نے واضح طور پر کسی بھی قسم کے تشدد یا عسکریت پسندی کو مسترد کر دیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ سڑکوں پرکسی بھی احتجاج کے وقت اور نوعیت کے بارے میں فیصلے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے پاس نہیں ہوں گے۔ اس کے بجائے سڑکوں پر تحریک یا مارچ کے آغاز اور وقت سے متعلق فیصلے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کریں گے۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا کہ نہ صرف پی ٹی آئی کے اندر بلکہ اتحادی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بھی وسیع مشاورت کی گئی ہے تاکہ ایک متحد اور محتاط حکمت عملی اپنائی جا سکےذرائع کے مطابق سینئر پی ٹی آئی رہنماؤں نے ماضی کے پرتشدد واقعات، جن میں 9 مئی کی بدامنی اور 2024 کے آخر میں اسلام آباد میں احتجاج کے دوران جھڑپیں شامل ہیں، کو دہرانے سے بچنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ 
انہوں نے پختہ یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ کسی بھی تحریک کو سختی سے پُرامن اور آئینی حدود کے اندر رکھا جائے گا۔”فورس” سے ایک روایتی سیاسی تحریک کی طرف تبدیلی کو پی ٹی آئی کے سخت گیر عناصر کی شکست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ پارٹی کے اندر عملی اور محتاط مؤقف رکھنے والی آوازیں زیادہ جارحانہ حکمت عملی پر غالب آتی دکھائی دیتی ہیں۔

عمران خان رہائی فورس بنانے کا منصوبہ ترک

31/03/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے