#کالم

آئی جی پنجاب اور پولیس میں احتساب کا نیا دور

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.56.49

تحریر: محمد ندیم بھٹی

لاھور پولیس میں حالیہ دنوں ھونے والی وسیع پیمانے پر محکمانہ کارروائی نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ھے کہ کیا ہمارے نظامِ پولیس میں احتساب واقعی مؤثر انداز میں نافذ ھو رہا ھے یا یہ محض وقتی دباؤ کا نتیجہ ھوتا ھے۔ پندرہ پولیس افسران، جن میں مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز اور انچارجز شامل ہیں، کی رینک تنزلی ایک غیر معمولی قدم ھے جو نہ صرف محکمانہ نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ھے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ھے کہ اعلیٰ قیادت اب کارکردگی کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی کے موڈ میں نہیں۔
یہ فیصلہ بظاہر انتظامی کارروائی لگتا ھے، مگر اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے اور دور رس ھو سکتے ہیں۔ ایک طرف یہ اقدام ان افسران کے لیے واضح پیغام ھے جو اپنے فرائض میں غفلت برتتے ہیں، تو دوسری جانب یہ عوام کے لیے امید کی کرن بھی ھے کہ شاید اب پولیس نظام میں بہتری کی سنجیدہ کوشش کی جا رہی ھے۔ مگر سوال یہ ھے کہ کیا صرف تنزلی جیسے اقدامات سے وہ بنیادی مسائل حل ھو سکتے ہیں جو برسوں سے پولیس کے نظام کو دیمک کی طرح چاٹ رھے ہیں؟
اگر حالیہ کارروائی کی تفصیل دیکھی جائے تو معلوم ھوتا ھے کہ مختلف حساس اور اہم تھانوں میں تعینات افسران کو براہِ راست احتساب کے دائرے میں لایا گیا۔ لوئر مال کے ایس ایچ او SI سید نبیل محسن کو سب انسپکٹر سے اسسٹنٹ سب انسپکٹر بنا دیا گیا، جبکہ گوالمنڈی کے ایس ایچ او IP یونس کو انسپکٹر سے سب انسپکٹر کر دیا گیا۔ نیو انارکلی کے ایس ایچ او IP اختر حسین اور داتا دربار کے ایس ایچ او IP عثمان یونس کو بھی اسی نوعیت کی سزا دی گئی۔
اسی طرح بھاٹی گیٹ کے ایس ایچ او SI توصیف احمد، رنگ محل کی ایس ایچ او SI فرح مشتاق، شاد باغ کے ایس ایچ او SI سبحان الیاس، شاہدرہ کے ایس ایچ او SI زاہد حسین، اپرکاں پارک کے انچارج SI طاہر مسعود، میو ہسپتال پولیس پوسٹ کے انچارج SI زہیر احمد، سبزی منڈی کے انچارج SI فیصل بھٹی اور جوزف کالونی کے انچارج SI ایم اعظم کو سب انسپکٹر سے اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے عہدے پر تنزلی دی گئی۔
مزید برآں یکی گیٹ کے ایس ایچ او IP شکیل کاشف یوسف، موچی گیٹ کے ایس ایچ او IP علی زبیر مقبول اور راوی روڈ کے ایس ایچ او IP آصف ذوالفقار کو بھی انسپکٹر سے سب انسپکٹر بنا دیا گیا۔ یہ تمام نام اس بات کی نشاندھی کرتے ہیں کہ کارروائی محض نمائشی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ احتسابی عمل کا حصہ ھے جس میں بڑے پیمانے پر فیصلے کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائی سٹی ڈویژن کی سطح پر کی گئی، جہاں متعلقہ ایس پی سٹی کی نگرانی میں کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور ناقص کارکردگی دکھانے والے افسران کے خلاف فوری ایکشن لیا گیا۔ یہ پہلو اس لیے بھی اہم ھے کہ اس سے واضح ھوتا ھے کہ فیلڈ لیول پر بھی احتساب کے عمل کو مضبوط بنایا جا رہا ھے، نہ کہ صرف اعلیٰ دفاتر تک محدود رکھا گیا ھے۔
لاہور جیسے بڑے شہر میں، جہاں جرائم کی نوعیت اور شدت دونوں پیچیدہ ھوتی جا رھی ہیں، ایس ایچ او کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ھے۔ ایک ایس ایچ او نہ صرف تھانے کا سربراہ ھوتا ھے بلکہ وہ عوام اور ریاست کے درمیان اہم رابطہ بھی ھوتا ھے۔ اگر یہی افسر اپنی ذمہ داریوں میں ناکام ھو جائے تو اس کا براہِ راست اثر شہری کی زندگی پر پڑتا ھے۔
حالیہ کارروائی میں جن افسران کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑا، ان میں کچھ ایسے تھانوں کے سربراہ بھی شامل ہیں جو حساس اور مصروف ترین علاقوں میں تعینات تھے۔ گوالمنڈی کے علاقے میں غیر معینہ عرصے تک وارداتیں غیر رپورٹ اور ناقص تحقیقات کی گئی، جس سے شہریوں میں شدید غم و غصہ پیدا ھوا۔ لوئر مال تھانے میں شہریوں کی شکایات یہ تھیں کہ پولیس نے چھوٹے چھوٹے جھگڑوں اور سڑک پر ھونے والے جرائم میں بروقت کارروائی نہیں کی، جس سے جرائم کا ماحول بڑھ گیا۔
نیو انارکلی اور داتا دربار تھانے میں بھی شہریوں نے رپورٹ کیا کہ چوری اور چھینا جھپٹی کے کیسز میں پولیس سست روی کا مظاہرہ کر رھی تھی، اور مقدمات کی کارروائی میں کئی ماہ تاخیر ہورھی تھی۔ بھاٹی گیٹ اور رنگ محل کے ایس ایچ اوز نے اکثر شکایات کو نظر انداز کیا، جس کی وجہ سے شہری خوفزدہ اور لاچار نظر آئے۔ شاد باغ، شاہدرہ اور اپرکاں پارک کے ایس ایچ اوز نے مقامی عوام کو بروقت تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی دکھائی، جس سے شہریوں میں پولیس کے تئیں اعتماد کم ھو گیا۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پولیس افسران کو سیاسی دباؤ، وسائل کی کمی، اور غیر واضح پالیسیوں کا سامنا کرنا پڑتا ھے۔ ایک طرف جرائم پیشہ عناصر کی بڑھتی ہوئی چالاکی، دوسری طرف عوامی توقعات کا بوجھ، اور تیسری جانب محکمانہ دباؤ، یہ سب عوامل ایک ایسے ماحول کو جنم دیتے ہیں جہاں متوازن کارکردگی دکھانا انتہائی مشکل ھوتا ھے۔
تاہم، احتساب کے بغیر کوئی ادارہ درست سمت میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ناقص کارکردگی اور عوامی اعتماد کے نقصان پر فوری اور شفاف کارروائی ناگزیر ھے۔ لیکن یہ بھی ضروری ھے کہ احتساب محض سزا تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اصلاح اور تربیت کے ذرائع بھی فراہم کیے جائیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پولیس اصلاحات کا عمل صرف سزاؤں تک محدود نہیں بلکہ افسران کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے، باقاعدہ آڈٹ، اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے جاری رہتا ھے۔ ہمارے ہاں بھی ایسے اقدامات متوازن احتساب کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
لاہور پولیس کے حالیہ کریک ڈاؤن کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اگر یہ اقدام واقعی میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کیا گیا ھے تو یہ خوش آئند پیش رفت ھے۔ مگر ساتھ ہی اچھا کام کرنے والے افسران کی حوصلہ افزائی بھی اتنی ھی ضروری ھے۔ صرف سزا کا نظام ادارے کو متوازن نہیں رکھ سکتا۔
عوامی سطح پر اس اقدام کو خاصی پذیرائی ملی ھے۔ شہریوں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے