#کالم

علاقائی صحافی مظفرگڑھ میں خدمات قربانیاں اور نظر انداز ہوتا کردار

kdsugd22

تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید عمران سلیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضلع مظفرگڑھ جو جنوبی پنجاب کا ایک اہم اور زرخیز خطہ ہے یہاں کی صحافت بھی ویسی ہی غیر معمولی ہے یہاں درجنوں نہیں سیکڑوں ایسے علاقائی صحافی موجود ہیں جو بغیر کسی صحافتی ڈگری تنخواہ یا مراعات کے دن رات اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ان کے پاس نہ کوئی مستقل روزگار ہے نہ تحفظ لیکن ان کے جذبے میں کوئی کمی نہیں
یہ وہ لوگ ہیں جو رنگ پور سے لے کر تھانہ چوک سرور شہید اسپتال علی پور، سیت پور جھگی والا جتوئی شاہجمال خانگڑہ روہیلا نوالی شہر سلطان چوک قریشی وسندے والی ماہڑہ چوک مکول شریف چھجڑا جتوئی بیٹ میر ہزار ہو یا قصبہ گجرات کچہری مظفرگڑھ ہو یا کسی دور دراز دیہی علاقے کی گلی سے بھی خبر نکال کر عوام تک پہنچاتے ہیں اکثر اپنی جیب سے سفر کرتے ہیں اور کبھی دھمکیاں سہتے ہیں لیکن خاموش نہیں ہوتے
اداروں کی بے نیازی صحافیوں کی خودداری
المیہ یہ ہے کہ مظفرگڑھ کے بیشتر علاقائی صحافی ان اداروں کو بیک اپ فیس یا نمائندگی فیس دیتے ہیں جن کے نام پر وہ خبریں بھجواتے ہیں سالانہ کارڈز کی تجدید ہو یا ایڈیشنز کی اشاعت ان تمام اخراجات کا بوجھ انہی پر ہوتا ہے پریس کلبز کی سالگرہ ہو یا یوم آزادی پر خصوصی صفحات اشتہارات کے لیے دوڑ دھوپ بھی یہی نمائندے کرتے ہیں اور اکثر خود پیسے لگا کر ادارے کا نام بچاتے ہیں
یہ وہی لوگ ہیں جنہیں نہ ادارے شناخت دیتے ہیں نہ حکومت تحفظ لیکن پھر بھی سچ بولنے سے باز نہیں آتے
زمینی صحافت کا اصل چہرہ
مظفرگڑھ کا علاقائی صحافی عام طور پر درمیانے یا کم تعلیمی پس منظر سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس کی زمینی گرفت کسی سینئر اینکر سے کم نہیں اس کا رابطہ عوام سے براہِ راست ہوتا ہے وہ کسی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنتا بلکہ مقامی سچ بولتا ہے وہ پٹرول ڈیزل مہنگا ہونے پر کسان کی فریاد بھی رپورٹ کرتا ہے ڈیزل بجلی مہنگی اور بی ایچ یو میں دوائی نہ ملنے پر بھی آواز اٹھاتا ہے
کئی نام ایسے ہیں جنہوں نے اپنے قلم اور کیمرے سے نہ صرف مظفرگڑھ کی ترجمانی کی بلکہ خطرات میں بھی میدان نہیں چھوڑا ان کے کام کو نہ تنخواہ ملی نہ تمغے بس عوام کی داد اور ضمیر کی تسکین
ضرورت کس بات کی ہے؟
میڈیا ہاؤسز کو مظفرگڑھ کے نمائندوں کو باضابطہ تسلیم کرنا چاہیے فیسیں ختم کر کے باقاعدہ معاوضہ دیا جائے
صحافتی تنظیمیں علاقائی صحافیوں کے تحفظ تربیت اور فلاح و بہبود کے لیے موثر اقدامات کریں
ضلعی انتظامیہ اور حکومت پنجاب مظفرگڑھ میں صحافیوں کے لیے سوشل سیکیورٹی پروگرام میڈیکل کارڈ اور پینشن اسکیمز کا اعلان کرے
پریس کلبز اور صحافی قائدین صرف ایونٹس کی تصاویر نہ لیں اصل کرداروں کو بھی اسٹیج دیں
مظفرگڑھ کے علاقائی صحافی سچ کے سپاہی ہیں وہ اپنے فرض کی ادائیگی میں سب کچھ قربان کر دیتے ہیں وقت آ گیا ہے کہ ان خاموش آوازوں کو نہ صرف سنا جائے بلکہ ان کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے کیونکہ اگر یہی آوازیں خاموش ہو گئیں تو پھر دیہی پاکستان کی حقیقت کون بتائے گا ؟

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے