پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن قسط:22
(شاہد بخاری)
تلاوتِ دل
حمد و نعت: 53 نعتیہ منظومات: 7 اشاعت: 1998
ثنائی پریس سرگودہا
انتساب
”والدہ مرحومہ کے نام، اگر ان کی شفقتیں اور محبتیں نہ ہوتیں تو گلشنِ حیات میں کوئی بھی پھول دکھائی نہ دیتا،خار ہی خار ہوتے یا میں نہ ہوتا، الللہ تعالیٰ انہیں ابدی نیند میں سکون و راحت دے اور ان کی بخشش فرمائے۔ آمین“
بہت سے نقادوں کا خیال یہے کہ کسی شاعر کی شاعری کو مومن بنانے کے لئے حمدو نعت کا التزام ضروری ہے، نہیں شاید ایسا نہیں! حمد و نعت ایک دلی کیفیت کا نتیجہ ہوتی ہے اور کوئی شاعر بھی جو حساس ہونے کا دعویٰ کرتا ہو،الللہ اور اس کے رسولؐ کو کسی صورت صرفِ نظر نہیں کر سکتا بلکہ غیر مسلم شعراء نے بھی بسا اوقات اپنے کلام کا آغاز نعت یا حمد سے کیا ہے مجھے ڈاکٹر شیخ اقبال نے بتایا اور مجھے سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ ”تلاوتِ دل“ کا اکثر کلام ماہِ صیام میں ہوا۔بالخصوص وقت سحر۔ بس یہ سعادت انہیں الللہ اور اس کے رسول ؐ کی بے پناہ محبت نے عطا کی۔ ڈاکٹر شیخ اقبال حضرت محمدﷺ کو دل کی گہرائیوں سے ایک عظیم ترین شخصیت سمجھتے ہیں۔ان کی رائے میں سیرتِ نبیؐ پر عمل قوم کے سارے دکھوں کا مداوا ہے۔ ان کے نثری مضامین اس حقیقت کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔
ان سے راقم نےاکثر یہ شعر سنا ھے: جو مانے گا حکم خدا و رسول
نہ ہوگا قیامت میں وہ دل ملول
تلاوتِ دل میں ”عرضِ شاعر“کے عنوان سے لکھتے ہیں:
”تلاوتِ دل، زبان و ذہن پر جاری عقیدتوں او رمحبتوں کے نغموں کا مجموعہ ہے،جسے میں دل کی گہرائیوں سے اپنے اخروی سفر کا زادِ راہ سمجھتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ جس ذات کی محبت اور عقیدت نے مجھ سے یہ نغمے تحریر کروائے وہ میری تمام تر خطاؤں اور کمزور یوں کے باوجود مجھے سینے سے لگائے گی اور میری مغفرت کا اہتمام کرے گی“
میری رائے میں تلاوتِ دل کا کلام ڈاکٹر صاحب کے روحانی اور ایمانی تجربات کا مرقع توہے ہی یہ کلام ادبِ عالیہ کا بھی حصہ متصور کیا جا سکتا ہے۔ نعتیں کوئی قافیہ پیمائی نہیں ہوتیں بلکہ محبتوں کا گلدستہ ہوتی ہیں ایمانیات کا چراغ ہوتی ہیں اور جذبات اور احساسات کا مرقع بھی، ان کے اشعار سلیس بھی ہیں اور متاثر کن بھی یہ اشعار دل کی گہرائیوں سے تحریر ہوئے ہیں اور قارئین کے دلوں کو چھو لیتے ہیں۔پروفیسر عاصی کرنالی جن کا پی ایچ ڈی کا تھیسز ہی نعت کے حوالے سے تھا”تلاوتِ دل“پر اپنی رائے یوں دے رہے ہیں۔
”حضرت محمد ؐ کو نعت کا چراغاں ازل سے ابد تک ضیاء ریز اور جلوہ افشاں ہے۔ان روشنیوں میں بقدرِ چراغ روشنی بڑھی ہے۔یہ چراغ پروفیسر شیخ محمد
ا قبال کے دستِ عقیدت نے ”تلاوتِ دل“ کے نام سے روشن کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے اوّل سے آخر تک تمام نعتوں کو حرف حرف پڑھنے کا شرف حاصل ہوا اور اطمینان ہے کہ بلند پایہ اور گراں پایہ نعتوں کا ایک صحیفہ ”تلاوتِ دل“ کے نام سے قارئین کے ذہن و دل کو روشنی سے منور کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے بہت مسرت اور نہایت طمانیت ہے کہ پروفیسر شیخ محمدا قبال نے اپنی توفیقات کے مطابق آداب نعت گوئی کی تمام تر نزاکتوں کو ملحوظ خاطر رکھاہے اور جادہء احترام و ادب سے کہیں بھی سرِ مو انحراف نہیں کیا۔ ان کی نعتیں ان کی باطنی سچائی کا آئینہء مصفا ہیں اور سچے جذبوں کی کرنوں سے گندھی ہوئی ایک صبح فروزاں ہیں۔
نعت و ثناء میں جتنے ممکن موضوعات و مضامین ہو سکتے ہیں وہ ان کے یہاں موجود ہیں عقیدت و صداقت کے اس منظر نامے میں،میں نے بہت سا قیمتی اور قابلِ قدر سامان پایا۔ اقبال کے یہاں مجہوری اور ناصبوری کا موضوع بھی ہے اور مشتاقی اور حضور ی کے مضامین بھی۔ مدینے کا تصور اور مدینے میں شرف حاضری ان کا کلیدی مضمون ہے۔ یہ آرزو ان کے وجود کی نس نس میں بسی ہوئی ہے۔ حضور ؐ کے نام سے ان کی یاد سے اور ان کے ذکر و بیان کے کیف سے ان کا قلب ہمہ وقت سر شار ہے اور ان کی زبان مسلسل کیف آگیں ہے۔ ان کے یہاں عجزو فن کااظہار جا بجا ہے“
حافظ لدھیانوی جنہوں نے نعت کے حوالے سے بڑی پُر مغز گفتگو کی ہے اور آخر میں ڈاکٹر اقبال کے حوالے سے لکھتے ہیں ”پروفیسر ڈاکٹر شیخ اقبال نے دل کے نور سے یہ آیاتِ نعت لکھی ہیں۔ یہ قلبی واردات کا پہلا مجموعہ ہے میں نے قصداً اپنی تحریر میں وہ اشعار نہیں دیئے، جو موضوع کے اعتبار سے نئے اور اچھوتے ہیں،ان اشعار کا انتخاب قارئین پر چھوڑتا ہوں وہ مطالعہ نعت کرتے وقت محظوظ ہوں گے“
چند حمدیہ اشعار:
ترے ہر کام میں ہے مصلحت پر تیری دنیا میں
کوئی بھوکا کوئی بے گھر ذرا اچھا نہیں لگتا
جھلستے راستے ہوں چلچلاتی دھوپ ہو میں ہوں
نہ ہو سر پہ تیری چادر ذرا اچھا نہیں لگتا
مرے کشکولِ جاں میں ڈال دے تسکیں کی دو گھڑیاں
میں دستک دوں کسی در پر ذرا اچھا نہیں لگتا
ہونٹوں پہ رہ گیا ہے ترا نام اے خدا
میں گرتا جا رہا ہوں مجھے تھام اے خدا
ہر صبح تیرے نور سے بھرتی ہیں جھولیاں
محتاج تیرے حسن کی ہے شام اے خدا
کوئی شیطاں کوئی فرشتہ ہے
مجھ کو انساں میرے خدا لکھ دے
اس قریہء عذاب میں میرے لئے بہت
دستِ دعا اور آس کا داماں بچا رہے
فکر و نظر کی دھرتی بنجر پڑی ہوئی ہے
بس بوند ایک کرم کی ابرِ بہار تو ہے
نعتیہ اشعار:
مرے آقا کوئی رحمت کا چھینٹا
زمیں اقوام کی بنجر پڑی ہے
مری قندیلِ شب و روز بجھی جاتی ہے
اس کو دو چار گھڑی جلنے کی ہمت دے دے
میں عجب عذاب میں تھا گھرا مری جان پہ تھی بنی ہوئی
مرے لپ پہ آگیا ناگہاں صلو علیہ وآلہٖ
ایسا کردار کہ افکار کی آنکھیں روشن
ایسا کردار کہ احساس کے دل میں ٹھنڈک
ایسا کردار لئے آیا وہ مہتاب طرب
جس کے آجانے سے حق آیا،






