سرکاری ہسپتال کے گائنی وارڈ کی وڈیو وائرل
أج کا اداریہ
لاہور کے لیڈی ویلینگڈن ہسپتال کی ایک اور وڈیو سامنے اگئی ۔ھسپتال کے گائنی آپریشن تھیٹر میں دو مریضوں کی سی سیکشن کی ویڈیو بناکر اسے سوشل میڈیا پر ڈالنے کا واقعہ پیش ایا ہے جس سے انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دو خواتین کے سی سیکشن ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ ویڈیو کب بنائی گئی تھی تاہم یہ گذشتہ روز سے ایکس سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئی ہے جس پر صارفین نے سخت ردعمل دیا ہے۔اس سے قبل بھی ایک سکیورٹی گارڈ کی خاتون مریض کو انجکشن دینے کی وڈیو سامنے اگئی تھی۔اب نئی وڈیو وائرل ہوئی ہے۔ایک اعلامیے کے مطابق حکومت پنجاب نے ہسپتال میں گائنی ڈپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر عظمیٰ حسین سے تین روز میں وضاحت طلب کی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ کچھ ڈاکٹرز مبینہ طور پر مریضوں پر کیے جانے والے سی سیکشن پروسیجرز پر ’شرط‘ لگا رہے تھے جو کہ نہ صرف طبی ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ مریض کے وقار اور پیشہ ورانہ معیار کے بھی منافی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سنگین غفلت کے اس واقعے نے ’طبی شعبے پر اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔‘
جبکہ اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر پاکستان میں طبی قوائد و ضوابط اور مریضوں کے تحفظ سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے۔
خیال رہے کہ جنوری کے دوران پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے شعبے میں کام کرنے والے عملے اور ڈاکٹروں کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
وائرل ویڈیو کی شروعات آپریشن تھیٹر میں ہوتی ہیں جہاں دو بیڈز پر دو الگ مریض موجود ہیں اور ان کے گرد ڈاکٹروں کی ٹیمیں موجود ہیں
بظاہر موبائل سے ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں ڈاکٹروں نے سرجری ماسک پہن رکھے ہیں اور مریضوں کے چہرے پردوں سے ڈھکے ہوئے ہیں۔
ساتھ یہ سنائی دیتا ہے کہ ’یہاں پر فُل مقابلہ چل رہا ہے کہ کون پہلے سیکشن کرتا ہے، ڈاکٹر عائشہ اور ڈاکٹر طیبہ (کے درمیان)۔‘پھر ویڈیو میں ایک دوسری آواز سنائی دیتی ہے کہ ’ڈاکٹر عیسیٰ جج ہوں گے۔‘ اس پر قہقے بھی لگتے ہیں ۔اس کے بعد ویڈیو بنانے والی دو ڈاکٹرز کیمرا اپنی طرف کرتی ہیں اور خود کو اس ’مقابلے‘ میں شامل ڈاکٹروں کی سپورٹرز بناتی ہیں۔ویڈیو کے اواخر میں یہ آواز سنائی دیتی ہے کہ ’عائشہ جلدی کر۔‘اور پھر کیمرے کو مریضوں کے قریب لے جایا جاتا ہے اور آپریشن کرتے ڈاکٹروں کو دکھایا جاتا ہے۔ اس دوران بظاہر نومولود بچوں کے چیخنے کی آوازیں بھی سنی جا سکتی ہیں
رپورٹ مطابق حکومت پنجاب نے مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث چار ڈاکٹروں کو معطل کیا ہے جبکہ ہسپتال کی ایم ایس ڈاکٹر فرح انعام اور ہیڈ آف گائنی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ حسین سے تین روز میں جواب طلب کیا گیا ہے۔
ایک نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ معطل کی جانے والی ڈاکٹروں نے طبی قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ ایسے واقعے ’طبی اخلاقیات کی خلاف ورزی، مریض کے وقار کی توہین اور پیشہ ورانہ مہارت کی خلاف ورزی کی نمائندگی کرتے ہیں جو کہ حکومتی قواعد اور ہسپتال کے ایس او پیز کے تحت سختی سے ممنوع ہیں۔‘
ایک سرکاری اعلامیے میں اس واقعے کو ’سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں غفلت کی ایک سنگین مثال‘ قرار دیا گیا ہے۔اس کے مطابق یہ ’سنگین بدنظمی اور انتظامی خامیوں کی عکاسی کرتی ہے۔سیکریٹری صحت پنجاب عظمت محمود کا کہنا ہے کہ مقررہ وقت میں تسلی بخش جواب جمع نہ کروانے کی صورت میں ہسپتال کے اعلیٰ حکام کے خلاف بھی تادیبی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔اس ویڈیو نے پاکستانی سوشل میڈیا پر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا ملک کے ڈاکٹروں کو مریضوں کے تحفظ اور طبی شعبے کے ضابطہ اخلاق کے حوالے سے تربیت دی جاتی ہے۔ایک لیڈی ڈاکٹر نے تبصرہ کیا کہ ملک میں ڈاکٹروں کو اس کی تربیت نہیں دی جاتی۔ ’ہم غیر ملکی مصنفین کی کتابوں میں طبی ضابطہ اخلاق کے کئی باب نہیں پڑھتے کیونکہ وہ ہمارے امتحان میں نہیں آنے ہوتے۔ ڈاکٹر خود اپنے مطالعے سے طبی ضابطہ اخلاق پڑھتے ہیں اور انھیں پریکٹس کرتے ہیں۔
تاھم’انسانی عزت اور پرائیویسی کا تحفظ سب سے مقدم ہونا چاہیے۔‘ایک صارف نے مثال دی کہ ’دنیا میں آپ مریض کی زبانی معلومات بھی اس کی مرضی کے بغیر شیئر نہیں کر سکتے۔‘خواتین کو سی سیکشن کے دوران سپائنل اینستھیزیا دیا جاتا ہے جس سے نچلا حصہ سن ہو جاتا ہے لیکن مریض پوری طرح ہوش میں ہوتا ہے۔
بعض صارفین نے ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جیسے ایک صارف نے کہا کہ ’حساس ترین آپریشن کی ویڈیو بنا کر اس کا مذاق اڑا کر سوشل میڈیا پر ڈال رہے ہیں۔ دنیا کا مہذب ملک ہوتا تو ڈاکٹرز کا لائسنس کینسل ہوجاتا
بہرحال واقعے میں ملوث ویڈیو بنانے کے الزام میں چار ڈاکٹروں کو معطل کیا ہےصوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ ایسے واقعے ’طبی اخلاقیات کی خلاف ورزی، مریض کے وقار کی توہین اور پیشہ ورانہ مہارت کی خلاف ورزی کی نمائندگی کرتے ہیں جو کہ حکومتی قواعد اور ہسپتال کے ایس او پیز کے تحت سختی سے ممنوع ہیں۔واقعے میں ملوث طبی عملہ کیخلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔اور شوکاز نوٹس جاری کرکے تادیبی کارروائی شروع کردی گئی ہے
29/03/2026
أج کا اداریہ
سرکاری ہسپتال کے گائنی وارڈ کی وڈیو وائرل
لاہور کے لیڈی ویلینگڈن ہسپتال کی ایک اور وڈیو سامنے اگئی ۔ھسپتال کے گائنی آپریشن تھیٹر میں دو مریضوں کی سی سیکشن کی ویڈیو بناکر اسے سوشل میڈیا پر ڈالنے کا واقعہ پیش ایا ہے جس سے انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دو خواتین کے سی سیکشن ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ ویڈیو کب بنائی گئی تھی تاہم یہ گذشتہ روز سے ایکس سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئی ہے جس پر صارفین نے سخت ردعمل دیا ہے۔اس سے قبل بھی ایک سکیورٹی گارڈ کی خاتون مریض کو انجکشن دینے کی وڈیو سامنے اگئی تھی۔اب نئی وڈیو وائرل ہوئی ہے۔ایک اعلامیے کے مطابق حکومت پنجاب نے ہسپتال میں گائنی ڈپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر عظمیٰ حسین سے تین روز میں وضاحت طلب کی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ کچھ ڈاکٹرز مبینہ طور پر مریضوں پر کیے جانے والے سی سیکشن پروسیجرز پر ’شرط‘ لگا رہے تھے جو کہ نہ صرف طبی ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ مریض کے وقار اور پیشہ ورانہ معیار کے بھی منافی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سنگین غفلت کے اس واقعے نے ’طبی شعبے پر اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔‘
جبکہ اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر پاکستان میں طبی قوائد و ضوابط اور مریضوں کے تحفظ سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے۔
خیال رہے کہ جنوری کے دوران پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے شعبے میں کام کرنے والے عملے اور ڈاکٹروں کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
وائرل ویڈیو کی شروعات آپریشن تھیٹر میں ہوتی ہیں جہاں دو بیڈز پر دو الگ مریض موجود ہیں اور ان کے گرد ڈاکٹروں کی ٹیمیں موجود ہیں
بظاہر موبائل سے ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں ڈاکٹروں نے سرجری ماسک پہن رکھے ہیں اور مریضوں کے چہرے پردوں سے ڈھکے ہوئے ہیں۔
ساتھ یہ سنائی دیتا ہے کہ ’یہاں پر فُل مقابلہ چل رہا ہے کہ کون پہلے سیکشن کرتا ہے، ڈاکٹر عائشہ اور ڈاکٹر طیبہ (کے درمیان)۔‘پھر ویڈیو میں ایک دوسری آواز سنائی دیتی ہے کہ ’ڈاکٹر عیسیٰ جج ہوں گے۔‘ اس پر قہقے بھی لگتے ہیں ۔اس کے بعد ویڈیو بنانے والی دو ڈاکٹرز کیمرا اپنی طرف کرتی ہیں اور خود کو اس ’مقابلے‘ میں شامل ڈاکٹروں کی سپورٹرز بناتی ہیں۔ویڈیو کے اواخر میں یہ آواز سنائی دیتی ہے کہ ’عائشہ جلدی کر۔‘اور پھر کیمرے کو مریضوں کے قریب لے جایا جاتا ہے اور آپریشن کرتے ڈاکٹروں کو دکھایا جاتا ہے۔ اس دوران بظاہر نومولود بچوں کے چیخنے کی آوازیں بھی سنی جا سکتی ہیں
رپورٹ مطابق حکومت پنجاب نے مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث چار ڈاکٹروں کو معطل کیا ہے جبکہ ہسپتال کی ایم ایس ڈاکٹر فرح انعام اور ہیڈ آف گائنی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ حسین سے تین روز میں جواب طلب کیا گیا ہے۔
ایک نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ معطل کی جانے والی ڈاکٹروں نے طبی قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ ایسے واقعے ’طبی اخلاقیات کی خلاف ورزی، مریض کے وقار کی توہین اور پیشہ ورانہ مہارت کی خلاف ورزی کی نمائندگی کرتے ہیں جو کہ حکومتی قواعد اور ہسپتال کے ایس او پیز کے تحت سختی سے ممنوع ہیں۔‘
ایک سرکاری اعلامیے میں اس واقعے کو ’سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں غفلت کی ایک سنگین مثال‘ قرار دیا گیا ہے۔اس کے مطابق یہ ’سنگین بدنظمی اور انتظامی خامیوں کی عکاسی کرتی ہے۔سیکریٹری صحت پنجاب عظمت محمود کا کہنا ہے کہ مقررہ وقت میں تسلی بخش جواب جمع نہ کروانے کی صورت میں ہسپتال کے اعلیٰ حکام کے خلاف بھی تادیبی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔اس ویڈیو نے پاکستانی سوشل میڈیا پر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا ملک کے ڈاکٹروں کو مریضوں کے تحفظ اور طبی شعبے کے ضابطہ اخلاق کے حوالے سے تربیت دی جاتی ہے۔ایک لیڈی ڈاکٹر نے تبصرہ کیا کہ ملک میں ڈاکٹروں کو اس کی تربیت نہیں دی جاتی۔ ’ہم غیر ملکی مصنفین کی کتابوں میں طبی ضابطہ اخلاق کے کئی باب نہیں پڑھتے کیونکہ وہ ہمارے امتحان میں نہیں آنے ہوتے۔ ڈاکٹر خود اپنے مطالعے سے طبی ضابطہ اخلاق پڑھتے ہیں اور انھیں پریکٹس کرتے ہیں۔
تاھم’انسانی عزت اور پرائیویسی کا تحفظ سب سے مقدم ہونا چاہیے۔‘ایک صارف نے مثال دی کہ ’دنیا میں آپ مریض کی زبانی معلومات بھی اس کی مرضی کے بغیر شیئر نہیں کر سکتے۔‘خواتین کو سی سیکشن کے دوران سپائنل اینستھیزیا دیا جاتا ہے جس سے نچلا حصہ سن ہو جاتا ہے لیکن مریض پوری طرح ہوش میں ہوتا ہے۔
بعض صارفین نے ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جیسے ایک صارف نے کہا کہ ’حساس ترین آپریشن کی ویڈیو بنا کر اس کا مذاق اڑا کر سوشل میڈیا پر ڈال رہے ہیں۔ دنیا کا مہذب ملک ہوتا تو ڈاکٹرز کا لائسنس کینسل ہوجاتا
بہرحال واقعے میں ملوث ویڈیو بنانے کے الزام میں چار ڈاکٹروں کو معطل کیا ہےصوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ ایسے واقعے ’طبی اخلاقیات کی خلاف ورزی، مریض کے وقار کی توہین اور پیشہ ورانہ مہارت کی خلاف ورزی کی نمائندگی کرتے ہیں جو کہ حکومتی قواعد اور ہسپتال کے ایس او پیز کے تحت سختی سے ممنوع ہیں۔واقعے میں ملوث طبی عملہ کیخلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔اور شوکاز نوٹس جاری کرکے تادیبی کارروائی شروع کردی گئی ہے






