توانائی کی بچت — وقت کی اہم ترین ضرورت
احساس کے انداز تحریر:۔ جاویدایازخان
گذشتہ روز وزیراعظم پاکستان کے قوم سے خطاب میں توانائی کے بحران اور اس سلسلے میں توانائی کی بچت کے بارۓ میں مشترکہ قومی پالیسی تشکیل دینے کا عندیہ دیا گیا ہے جو موجودہ جنگی و معاشی حالات میں وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔یہ اعلان اس لیے بھی اہم ہے کہ آج یعنی اٹھائیس مارچ کو دنیا بھر میں "ارتھ ڈے "منایا جارہا ہے جو ارتھ آور یا یا توانائی کی بچت کا ایک عالمی دن سمجھا جاتا ہے اور اس روز ایک گھنٹہ لائٹس بند کرکے زمین اور ماحولیات ساتھ ساتھ توانائی کے تحفظ کے بارے میں شعور اجاگر کیا جاتا ہے ۔ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ یعنی( ڈبلیو ڈبلیو ایف )کی طرف سے پیش کردہ توانائی کی بچت کے اس عالمی پروگرام پر لوگوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ہر سال مارچ کے آخری ہفتہ میں رات ساڑھے اٹھ بجے سے رات ساڑھے نو بجے تک غیر ضروری لائٹس اور بجلی کے آلات بند کردیں ۔جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے لیے ان کا تعاون ظاہر کرتا ہے ۔وزیراعظم نے اس موقع پر ہدایت کی ہے کہ توانائی کی بچت اور ماحولیات کی اہمیت کے پیش نظر تمام عمارتوں اور سڑکوں کی غیر ضروری لائٹس ایک گھنٹہ کے لیے بند کردی جائیں تاکہ عوام میں ماحولیاتی شعور اجاگر ہو اور قدرتی وسائل کے تحفظ کی ترغیب دی جاسکے ۔کیونکہ بڑھتی ہوئی الودگی سے گھرۓ شہر تیزی سےپگھلتے گلیشیئرزاور پانی کی قلت جیسے مسائل ایک ایسی تلخ حقیقت اور چیلنج بن چکے ہیں جن سے چشم پوشی خودکشی کے مترادف ہوگی ۔توانائی کی بچت سے قبل توانائی کی تعریف سمجھنا بہت ضروری ہے ۔عام لفظوں میں توانائی یا انرجی سے مراد کام کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔یعنی کوئی بھی قوت یا صلاحیت جو کسی جسم کو حرکت دے ،اس کی حالت بدل دۓ یا کوئی عمل سرانجام دے سکے وہ توانائی یا انرجی کہلاتی ہے ۔توانائی وہ طاقت ہے جو کسی کام کو انجام دینے کے قابل بناتی ہے ۔جیسے بجلی سے بلب جلتا ہے ،ایندھن یا پیٹرول سے گاڑی چلتی ہے ۔خوراک سے انسان کو طاقت اور انرجی ملتی ہے ۔توانائی کی کئی اقسام ہیں جیسے حرارتی توانائی،برقی توانائی ،کیمیائی توانائی حرکی توانائی اور وضعی توانائی وغیرہ ۔مختصر یہ کہ توانائی کائنات کی بنیادی ضرورت ہے اور زندگی کا ہرعمل کسی نہ کسی صورت میں توانائی کا محتاج ہوتا ہے ۔سورج کو توانائی کا منبع بھی سمجھا جاتا ہے اور پاکستا ن کو یہ نعمت خداوندی حاصل ہے ۔توانائی کی بچت کی مشترکہ مہم کا وزیراعظم کی جانب سے اعلان ایک مثبت قدم ہے لیکن اس کے لیے سب سے پہلے حکومتی سطح پر توانائی کی بچت کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا ۔دوسری جانب اس بچت کی مشترکہ جدوجہد میں عوام کی شمولیت تب ہی ممکن ہوسکتی ہے جب حکومتی پالیسیوںکے نفاذ میں توانائی کی بچت ان کی روزمرہ زندگی کو متاثر نہ کرۓپاۓ ۔مہنگائی کے اس طوفان میں پسے عوام سہولت اور آسانی چاہتے ہیں توانائی کی بچت کے نام پر مزید بوجھ برداشت کرنا شاید اب ممکن نہیں رہا ۔البتہ ہر غیر ضروری توانائی کا استعمال ہر سطح پر کرنا وقت کی ضرورت ہے اور اس کی ابتدا عوام کو ہی نہیں بلکہ ملک کی اشرافیہ کو بھی کرنی پڑے گی ۔توانائی کی بچت کی مہنگائی سے نجات کا ذریعہ بن سکتی ہے ۔یقینا” انرجی اور توانائی کےموجود بحران کا واحد حل اس کے غیر ضروری استعمال کا خاتمہ ہے ۔
موجودہ دور ترقی، سہولت اور رفتار کا دور ہے، مگر اس ترقی کی قیمت ہم توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں توانائی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو چکا ہے۔ ایسے میں توانائی کی بچت محض ایک مشورہ نہیں بلکہ وقت کی ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ توانائی کی کمی نہ صرف صنعتی ترقی کو متاثر کرتی ہے بلکہ عام شہری کی زندگی کو بھی مشکلات میں ڈال دیتی ہے۔ لوڈشیڈنگ، بڑھتے ہوئے بجلی کے بل اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہمارے روزمرہ مسائل کا حصہ بن چکے ہیں۔ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو آنے والے دنوں میں یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔توانائی کی بچت دراصل ایک شعور اور طرز زندگی کا نام ہے ۔یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات سے شروع ہوتی ہے جیسے غیر ضروری لائٹس اور پنکھے وغیرہ بند کرنا ،کم توانائی لینے والے بلب یا ایل ای ڈی کا استعمال ،برقی اشیاء کے استعمال میں کمی لانا ،پیٹرول اور ڈیزل کی ہر ممکن بچت اور اسی طرح شمسی توانائی جیسے متبادل ذرائع کو اپنانا بھی ایک موثر حل ہے جو نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ طویل مدت میں معاشی فائدہ بھی دیتا ہے ۔ حکومتی سطح پر بھی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو توانائی کے ضیاع کو روکے اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دے۔ عوام میں آگاہی پیدا کرنا بھی نہایت ضروری ہے تاکہ ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اس قومی فریضے میں اپنا کردار ادا کرے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ توانائی کی بچت صرف وسائل کی حفاظت نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ اگر ہم آج شعور اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے تو کل ایک روشن، مستحکم اور خوشحال پاکستان ہمارا روشن مقدر ثابت ہو گا ۔آئیں صرف ایک دن ہی ارتھ ڈے نہ منائیں بلکہ ہر دن کو ارتھ ڈے سمجھیں اور توانائی کی بچت کو ہر سطح پر اپنی عادت اور روزمرہ کا معمول بنا لیں ۔یہ کام صرف حکومت نے ہی نہیں بلکہ ہم سب نے ہر سطح پر مل جل کر کرنا ۔کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہماری ضرورت کی ہر چیز کو متاثر کرتا ہے ۔یا درہے کہ مہنگائی کا مقابلہ توانائی کی بچت سے ہی ممکن ہو سکتا ہے ۔ہم نے توانائی کی بچت اور ماحولیات کےتحفظ کی سوچ کواپنی زندگی کا حصہ بنانا ہےکیونکہ سوچ ہی انسان کی عادت بنتی ہے اوریہی ارتھ ڈے کا مقصد ہے اور یہی وقت کی ضرورت ہے ۔






