پاکستان امریکہ و ایران میں ثالثی کیلیے تیار
اج کا اداریہ
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
ایکس پر اس پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ اور ایران کی رضامندی کی صورت میں پاکستان اس تنازع کے اختتام کے لیے نتیجہ خیز اور معنی خیز مذاکرات کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے اور اسے اپنے لیے ایک اعزاز سمجھے گا۔‘جسے امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کر دیا جس کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہےکئی روز سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی اطلاعات بین الاقوامی میڈیا میں گردش کر رہی ہیں اس حوالے سے کئی ممالک کے وفود پاکستان پہنچیں گے۔ اسی سلسلے میں پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت فریقین سے رابطوں کی خبریں بھی سامنے أرہی ہیں
وائیٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر گفتگو ہوئی جبکہ پیر کو وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بات چیت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کو 48 گھنٹوں کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو امریکہ ایران کے پاور پلانٹس کو ’تباہ‘ کر دے گا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر یہ دھمکی امریکی صدر نے پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی صبح چار بج کر 44 منٹ پر دی تھی۔
مہلت ختم ہونے میں ابھی چند گھنٹے باقی تھے جب سوموار کے روز صدر ٹرمپ نے ایران میں تمام حملوں کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا اور یہ بھی کہا کہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران میں ’نہایت مثبت، نتیجہ خیز اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔‘
تاہم ایران کی وزارت خارجہ نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کی تردید کی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے بیان کو توانائی کی قیمتیں کم کرنے اور اپنے فوجی منصوبوں کے لیے وقت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔
اسی دوران پیر کو وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے فون پر بات چیت کی تھی اور ’کشیدگی میں فوری کمی اور پڑوسی ممالک کے ساتھ بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے اختلافات کو ختم کرنے‘ پر زور دیا تھا۔
وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق شہباز شریف نے ایران کی قیادت کو یقین دلایا تھا کہ ’پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔‘
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فون پر گفتگو ہوئی تھی
ایران کی وزارتِ خارجہ ان مذاکرات پر پاکستان کے کردار پر تاحال خاموش ہے، تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے آگاہ ایک ایرانی سفارتکار نے بی بی سی نیوز اردو کے نامہ نگار روحان احمد کو بتایا کہ اس ’بات چیت کے معمولی امکانات موجود ہیں۔‘
اگرچہ امریکہ یا ایران کی جانب سے سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی، لیکن واشنگٹن میں کئی حلقوں کے لیے پاکستان کا انتخاب کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی۔
پاکستان کے ایران کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بھی۔
چیف آف ڈیفنس فورسز، عاصم منیر نے گذشتہ سال جون اور ستمبر میں ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ ستمبر کے دورے کے دوران عاصم منیر کے ساتھ پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی موجود تھے۔
جون اور اکتوبر میں پاکستان نے انڈیا کے ساتھ تنازع کے دوران ثالثی کی کوششوں پر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے بھی نامزد کیا تھا۔ یہ قدم ٹرمپ انتظامیہ کے کئی ارکان کی نظر میں پاکستان کے لیے مزید ہمدردی کا باعث بنا۔
امریکی خارجہ پالیسی کے ماہر مائیکل کوگلمین نے ایکس پر لکھا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ ثالث کے طور پر پاکستان کا سامنے آنا کوئی غیر فطری بات نہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان متعدد اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوئیں اور ’امریکی انتظامیہ بھی پاکستان کی مداح ہے۔‘
مائیکل کوگلمین کے مطابق: ’ٹرمپ نے کہا ہے کہ عاصم منیر ایران کو زیادہ تر لوگوں سے بہتر سمجھتے ہیں۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ امریکہ میں ایران کے سفارتی مفادات کی نمائندگی پاکستان ہی کرتا ہے۔اب سوال پیدا ہوتاہے کہ پاکستان ثالث کا کردار ادا کرتا ہے تو یہ ایران کے لیے کس حد تک قابل قبول ہو گا؟تو اسکا سیدھا سا جواب ہے کہ کسی بھی عرب ملک کے مقابلے پر ایرانی پاکستان پر زیادہ اعتبار کریں گے۔‘
واضح رہے کہ ایران کے تیسرے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے نوروز کے تہوار کے موقع پر تحریری بیان میں کہا تھا کہ ’پاکستان اُن کے والد (علی خامنہ ای) کا ‘خاص پسندیدہہ ملک تھا۔اس صورت حال میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جو اس وقت امریکہ و ایران کے قریب ہے۔






