#کالم

1940ء میں قیام پاکستان کا اٹل فیصلہ ۔۔۔!!

Untitlesssdddd 1

تحریر و تحقیق ۔ پیر مشتاق رضوی

23 مارچ 1940ء کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے 27 ویں سالانہ اجلاس میں قرارداد لاہور منظور کی گئی، جس میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لیے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا۔ یہ قرارداد قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں پیش کی گئی اور اسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا یہ قرارداد برصغیر کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی، کیونکہ اس میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے علیحدہ وطن کے قیام کا اٹل فیصلہ کیا
23 مارچ 1940ء کی قرارداد میں کہا گیا کہ ہندو اور مسلمان دو علیحدہ قومیں ہیں اور ان کے لیے علیحدہ وطن ضروری ہے۔ قرارداد میں مسلمانوں کے آئینی حقوق کے مکمل تحفظ کا مطالبہ کیا گیا
اسی لئے 23 مارچ 1940ء تحریک و تاریخ پاکستان کا ایک اہم دن ہے، جو پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا یہ تاریخء دن پاکستان کی قوم کے لیے تجدید عہد ،قومی عزم اور اتحاد کا دن ہے دو قومی نظریہ ہی قرارداد پاکستان کی بنیاد ہے۔ دو قومی نظریہ یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان دو علیحدہ قومیں ہیں، جن کی اپنی علیحدہ تاریخ، ثقافت، اور مذہب ہے۔ اس نظریے کے تحت، مسلمانوں کو اپنے لیے علیحدہ وطن کی ضرورت ہے جہاں وہ اپنی مذہبی، ثقافتی، اور سیاسی آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ جبکہ دو قومی نظریہ نے ہی بر صغیر کے مسلمانوں میں جذبہ حریت کو از سر نو زندہ کیا ، جو قرارداد پاکستان کا ایک اہم پہلو ہے۔
دو قومی نظریہ نے مسلمانوں کو اپنی قومی تشخص اور قومی اتحاد کے جذبہ کو فروغ دیا یہ حقیقت ہے کہ دو قومی نظریہ قرارداد پاکستان کی بنیاد ہے اور یہ پاکستان کے قیام کی اہم وجہ ہے۔
قرار داد لاہور تحریک پاکستان کا اصل مقصد اور قیام پاکستان کا نتیجہ تھی۔ بعد ازاں قرار داد مقاصد پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے، جس نے قیام پاکستان کے مقاصد اور اصولوں کو واضح کیا۔قرار داد پاکستان کی تائید اور توثیق کرنے والوں میں چند اہم شخصیات شامل ہیں شیر بنگال مولوی فضل الحق نے قرارداد پاکستان پیش کی ۔قائد اعظم نے قرارداد پاکستان کو متفقہ طور پر منظور کرنے کے بارے مدلل اور مفصل خطاب کیا اور اس کی تائید کی۔ تحریک پاکستان کے سرکردہ راہنماؤں سردار عبدالرب نشتر،چودھری خلیق الزماں ، سر عبداللہ ہارون ، مولانا ظفر علی خان سر سکندر حیات خان ،حسرت موہانی اور بیگم مولانا محمد علی جوہر نے بھی قرارداد پاکستان کی بھر پور تائید کی۔
قرار داد پاکستان 23 مارچ 1940 کو لاھور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ کے رہنماؤں نے قرارداد پاکستان کو متفقہ طور پر منظور کرنے کے لیے کام کیا۔بر صغیر کے مسلمانوں نے اپنے اختلافات کو ختم کر کے قرارداد پاکستان کو متفقہ طور پر منظور کرنے کے لیے قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں متحد ہوگئےاس متفقہ قرار داد کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت نے قرارداد پاکستان کی حمایت کی، قرار داد لاھور کی منظوری پر کانگریس کا ردعمل بہت سخت تھاکانگریس نے قرارداد لاھور کو "پاکستان کا مطالبہ” قرار دیا اور اس کی سخت مخالفت کی۔کانگریس کے رہنماؤں نے قرارداد لاھور کو ہندوستان کی اتحاد اور یکجہتی کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ یہ قرارداد ہندوستان کو دو قومی ریاستوں میں تقسیم کرنے کی سوچ ہے۔کانگریس کے صدر مولانا ابوالکلام آزاد نے قرارداد لاھور کو "ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ” قرار دیا اور کہاکہ کانگریس اس قرارداد کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔کانگریس کے دیگر رہنماؤں جیسے کہ جواہر لال نہرو، سروجنی نائیڈو، اور سی راج گوپال آچاری نے بھی قرارداد لاھور کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ ہندوستان کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔کانگریس کے ردعمل کے باوجود، مسلم لیگ نے قرارداد لاھور کو اپنی جدوجہد کا بنیادی مقصد قرار دیا اور ہندوستان کی تقسیم کے لیے جدوجہد جاری رکھی
قرار داد پاکستان سے قیام پاکستان کے تاریخی سفر کی تفصیل مختصرا” کچھ یوں ہے کہ 23 مارچ 1940 کو لاھور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں قرار داد پاکستان منظور کی گئی، جس میں مسلمانوں کے لیے باقاعدہ علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا 1940-1946ء کے دوران مسلم لیگ نے قرار داد پاکستان کے بعد مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے مطالبے کی بھر پور سیاسی قوت کے ساتھ منظم تحریک شروع کی۔ 1946ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے مسلمانوں کے لیے مختص کردہ تمام سیٹوں پر کامیابی حاصل کی، جس سے مسلمانوں کی حمایت کا واضح اظہار تھا اور قرار داد پاکستان کا عملی پیغام تھا کہ” بن کے رہے گا پاکستان ” اور” بٹ کے رہے گا ہندوستان ” 1946ء میں برطانوی حکومت نے کابینہ مشن پلان پیش کیا، جس میں ہندوستان کو ایک متحد ریاست بنانے کا منصوبہ تھا لیکن مسلم لیگ نے اس پلان کو رد کر دیا اور علیحدہ وطن کے مطالبے پر اصرار کیا۔ جس پر برطانوی حکومت نے 3 جون 1947ء کو ہندوستان کی تقسیم کا منصوبہ پیش کیا، جو۔ پاکستان کے قیام کا پیش خیمہ ثابت ہوا بالآخر 14 اگست 1947ء کو پاکستان ایک آزاد ریاست کے طور پر قائم ہوا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے طور پر حلف اٹھایا۔11 اگست 1947ء کو۔ قائد اعظم نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں تقریر کی، جس میں پاکستان کے اصولوں اور مقاصد کو واضح کیا۔
یوم پاکستان ہمیں اپنے وطن کی آزادی اور خودمختاری کی یاد دلاتا ہے۔ یوم پاکستان کے تقاضے یہ ہیں کہ ہماری قوم کو اتحاد اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے مقاصد کو حاصل کر سکیں ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہوگا اور اسلامی اقدار کو اپنی زندگی میں شامل کرنا ہوگا۔ہمیں اپنے معاشرے میں نظم و ضبط قائم کرنا ہوگا اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا۔ہمیں اپنی معیشت کو مضبوط بنانے اور ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ہمیں اپنی تعلیم کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا اور اپنے نوجوانوں کو آگاہ کرنا ہوگا یوم پاکستان کے موقع پر، ہمیں اپنے وطن کی خدمت کرنے اور اسے ایک بہتر

1940ء میں قیام پاکستان کا اٹل فیصلہ ۔۔۔!!

لائی بے قدراں نال یاری

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے