عید مبارک — خوشیوں، احساس اور اجتماعی ذمہ داری کا پیغام“عید مبارک”
ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
آج خوشیوں کا دن ہے، ایک ایسا دن جو صدیوں سے امتِ مسلمہ کے لیے مسرت، شکر اور روحانی سکون کا پیغام لے کر آتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عبادت، صبر اور قربانی کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو انعام سے نوازتا ہے۔ مگر جب ہم اس خوشی کے دن کو اپنے گرد و پیش کے حالات کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو دل بے اختیار ہو جاتا ہے۔ کہیں جنگ کی آگ بھڑک رہی ہے، کہیں انسان بھوک اور افلاس کی چکی میں پس رہے ہیں، کہیں ناانصافی انسانیت کا مذاق اڑا رہی ہے اور کہیں بے بسی اور محرومی انسان کے وجود کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں عید صرف ایک ذاتی یا گھریلو خوشی کا نام نہیں رہتی بلکہ یہ ایک اجتماعی احساس، ایک اجتماعی دعا اور ایک اجتماعی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
عید ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خوشی صرف اس وقت مکمل ہوتی ہے جب ہمارے آس پاس کے لوگ بھی خوش ہوں۔ اگر ہمارے اردگرد کوئی بھوکا ہے، کوئی بیمار ہے، کوئی بے گھر ہے، کوئی ظلم کا شکار ہے تو ہماری مسکراہٹ ادھوری رہ جاتی ہے۔ اسلام کا حسن ہی یہی ہے کہ وہ فرد کو اجتماع سے جوڑتا ہے اور عبادت کو انسانیت کی خدمت کے ساتھ ملا دیتا ہے۔ عید الفطر ہو یا عید الاضحی، دونوں ہمیں یہی درس دیتی ہیں کہ اپنے اندر سے “میں” کو نکال کر “ہم” کو زندہ کیا جائے۔
یا اللہ! اس بابرکت دن کے صدقے ہم سب کے دلوں کو روشنی عطا فرما۔ دنیا کے ہر کونے میں بسنے والے مظلوموں پر رحم فرما۔ فلسطین، کشمیر، افغانستان، شام، اور دنیا کے ہر خطے میں جہاں انسان ظلم، جنگ اور بے انصافی کا شکار ہیں، وہاں امن اور سکون قائم فرما۔ جو بچے یتیمی کی زندگی گزار رہے ہیں، جن ماؤں کی گودیں اجڑ چکی ہیں، جن بزرگوں کے سہارے چھن گئے ہیں، ان سب کو اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔
آج جب ہم اپنے گھروں میں خوشی کے دسترخوان سجاتے ہیں، نئے کپڑے پہنتے ہیں، بچوں کی ہنسی سے گھر گونج اٹھتے ہیں، تو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا میں لاکھوں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے لیے یہ دن بھی ایک عام دن کی طرح گزرتا ہے۔ جن کے پاس نہ خوشی کے کپڑے ہیں، نہ کھانے کے لیے وافر رزق، نہ سر چھپانے کے لیے چھت۔ یہ احساس ہمیں صرف افسردہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ ہمارے اندر ذمہ داری جگانے کے لیے ہے۔
عید دراصل ایک تربیت ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ رمضان کے بعد بھی ہمارا دل نرم رہے، ہماری نگاہ حساس رہے اور ہمارا ہاتھ ضرورت مند کے لیے کھلا رہے۔ اگر ہم عید کے دن صرف اپنے لباس، اپنی دعوتوں اور اپنی تقریبات تک محدود ہو جائیں اور انسانیت کو بھول جائیں تو ہم عید کے اصل پیغام سے دور ہو جاتے ہیں۔
آج کے دور میں میڈیا اور ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک گلوبل گاؤں بنا دیا ہے۔ ہم ایک لمحے میں دنیا کے دوسرے کونے میں ہونے والے واقعات دیکھ لیتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف دیکھتے ہیں یا محسوس بھی کرتے ہیں؟ کیا ہم صرف خبریں سنتے ہیں یا ان خبروں کے پیچھے چھپے انسانوں کے درد کو بھی سمجھتے ہیں؟ عید ہمیں یہی سوال اپنے اندر اٹھانے پر مجبور کرتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں بے شمار چیلنجز ہیں۔ معاشی عدم استحکام، سیاسی کشیدگی، اخلاقی گراوٹ اور سماجی انتشار نے انسان کو ایک عجیب بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسے میں عید ایک امید کی کرن بن کر آتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اندھیروں کے باوجود روشنی موجود ہے، اور مایوسی کے باوجود امید زندہ ہے۔
یا اللہ! ہمارے دلوں کو ایک دوسرے کے لیے نرم فرما۔ ہمارے اندر سے نفرتیں، تعصبات، اور اختلافات ختم فرما۔ ہمیں ایک ایسی قوم بنا دے جو محبت، برداشت اور بھائی چارے کی علامت ہو۔ ہمارے ملک پاکستان کو ترقی، امن اور استحکام عطا فرما۔ یہاں کے نوجوانوں کو علم، ہنر اور بہتر مستقبل عطا فرما۔ ہمارے اداروں میں انصاف اور دیانت کو فروغ دے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ عید صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک پیغام ہے۔ یہ پیغام ہے خوشی بانٹنے کا، محبت دینے کا اور دوسروں کے دکھ بانٹنے کا۔ اگر ہم عید کے دن کسی ایک ضرورت مند کے چہرے پر مسکراہٹ لا سکتے ہیں تو یہی ہماری عید کی اصل کامیابی ہے۔ اگر ہم کسی بھوکے کو کھانا کھلا سکتے ہیں، کسی بچے کے سر پر ہاتھ رکھ سکتے ہیں، کسی ٹوٹے دل کو سہارا دے سکتے ہیں تو ہم نے عید کو صحیح معنوں میں سمجھ لیا ہے۔
عید کے دن جب ہم ایک دوسرے کو “عید مبارک” کہتے ہیں تو یہ صرف ایک لفظ نہیں ہوتا بلکہ ایک دعا ہوتی ہے، ایک احساس ہوتا ہے، ایک تعلق ہوتا ہے۔ یہ تعلق ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم سب ایک ہی انسانیت کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی خوشیوں کو صرف ذاتی دائرے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے وسیع کریں۔ اپنے اردگرد دیکھیں، اپنے محلے، اپنے شہر اور اپنی سوسائٹی میں جھانکیں۔ کہیں کوئی ایسا ضرور ہوگا جسے ہماری تھوڑی سی مدد، تھوڑی سی توجہ اور تھوڑی سی محبت کی ضرورت ہوگی۔
یا اللہ! ہماری عبادات، ہماری دعاؤں اور ہماری خوشیوں کو قبول فرما۔ ہمیں غرور اور تکبر سے بچا اور عاجزی عطا فرما۔ ہمیں سچا مسلمان اور اچھا انسان بنا۔ ہماری عید کو حقیقی معنوں میں امن، محبت اور ہمدردی کی عید بنا دے۔
آخر میں دل کی گہرائیوں سے یہی دعا ہے کہ یہ عید ہم سب کے لیے خوشیوں، برکتوں اور امن کا پیغام لے کر آئے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک، ہماری امت اور پوری انسانیت کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھے۔
آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے عید مبارک 🌙✨
اللہ کرے یہ عید ہم سب کی زندگیوں میں نئی روشنی،






