#کالم

سفید کوٹ سے آگے: ڈاکٹر بہو کلچر اور ٹوٹتے خواب

Untitledwwwee1 copy

ہم ایک عجیب سماج میں جی رہے ہیں۔ ایسا سماج جو بظاہر دعاؤں، تمناؤں اور خوابوں سے بھرا ہوا ہے، مگر اندر سے خوف، عدم تحفظ اور فرسودہ سوچ کی زنجیروں میں جکڑا ہوا۔ یہاں خواب دیکھے تو جاتے ہیں، مگر خوابوں کی تعبیر کے راستے صدیوں پرانے نقشوں سے متعین کیے جاتے ہیں۔ یہاں والدین بچوں سے محبت بھی کرتے ہیں، مگر اس محبت میں آزادی کم اور جبر زیادہ ہوتا ہے۔
اور اس جبر کا سب سے بڑا، سب سے مہنگا اور سب سے تباہ کن نام ہے: “ڈاکٹر بہو کلچر”۔
ہر سال میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے دن ایک ہی منظر دہرایا جاتا ہے۔ امتحانی مراکز کے باہر سفید بالوں والے باپ، لرزتے ہاتھوں میں تسبیح، آنکھوں میں آنسو اور دل میں ایک ہی دعا: “یا اللہ بچی کا داخلہ ہو جائے”۔
یہ دعا غلط نہیں، والدین کی محبت قابلِ احترام ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ دعا واقعی بچے کے مستقبل کے لیے ہے یا سماج کے سامنے سرخرو ہونے کے لیے؟
کیا ہم واقعی اپنی بیٹی کی خوشی مانگ رہے ہیں یا صرف یہ چاہتے ہیں کہ کل لوگ کہیں: “ماشاءاللہ، ڈاکٹر بیٹی ہے”؟
ہم نے کب طے کر لیا کہ کامیابی کے دروازے صرف دو ہیں؟
ایک دروازہ جس پر لکھا ہے “ایم بی بی ایس” اور دوسرا جس پر لکھا ہے “ناکامی”۔
کیا شہر کے باقی تمام دروازے بند ہو چکے ہیں؟
کیا خدا نے بچے کو صرف سٹیٹھوسکوپ کے ساتھ پیدا کیا تھا اور باقی تمام صلاحیتیں پیدائش کے وقت ہی ضبط کر لی تھیں؟
یہ ماننا ہوگا کہ یہ سوچ صرف غلط نہیں، ظالمانہ بھی ہے۔
ہم اس حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں کہ دنیا اب صرف ڈاکٹر اور انجینئر کے سہارے نہیں چل رہی۔ علم کا پہیہ اب ایک نئی سمت میں گھوم رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت فیصلے کر رہی ہے، مشینیں سیکھ رہی ہیں، روبوٹ سرجریاں کر رہے ہیں، ڈیٹا انسان سے زیادہ درست ہو چکا ہے۔
دنیا رفتار پکڑ چکی ہے اور ہم ابھی تک وہیں کھڑے ہیں، ہاتھ میں تسبیح اور آنکھ میں آنسو لیے، ایک ہی دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔
آج کا دور عہدوں کا نہیں، مہارتوں کا ہے۔
آج ٹائٹل نہیں، ٹیلنٹ جیت رہا ہے۔
آج شناخت کسی پیشے سے نہیں، برانڈ بننے سے بنتی ہے۔
ایک وقت تھا جب ڈاکٹری واقعی سونے کی کان سمجھی جاتی تھی۔ مگر اس دور میں اور آج کے دور میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ آج لاکھوں روپے فیس دے کر، پرائیویٹ میڈیکل کالجز سے فارغ التحصیل ہونے والے ہزاروں نوجوان 20 سے 30 ہزار کی نوکریوں کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
یہ وہ حقیقت ہے جسے ہم جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہیں۔
ہم بچوں کو یہ نہیں بتاتے کہ ایم بی بی ایس کے بعد بھی ایک طویل، مہنگا اور تھکا دینے والا سفر ہوتا ہے۔ ہم یہ نہیں بتاتے کہ ہر ڈاکٹر کامیاب نہیں ہوتا۔ ہم یہ بھی نہیں بتاتے کہ اگر اس سفر میں جذبہ، جدت اور سیکھنے کی لگن نہ ہو تو یہی ڈگری بوجھ بن جاتی ہے۔
ہم بچوں کو خواب دیتے ہیں، مگر پورا سچ نہیں دیتے۔
کیا یہ ظلم نہیں کہ ایک بچی، جو مصوری میں کمال رکھتی ہے، جو ٹیکنالوجی میں دماغ رکھتی ہے، جو بزنس میں وژن رکھتی ہے، اسے زبردستی ایک ایسے راستے پر دھکیل دیا جائے جہاں اس کا دل ہی نہ ہو؟
اور پھر جب وہ تھک جائے، ٹوٹ جائے، یا بیچ راستے میں رہ جائے تو اسے ناکام کہہ دیا جائے؟
ہم نہیں سمجھتے کہ انسان کو پیشے سے نہیں، صلاحیت سے پہچانا جاتا ہے۔
ایک پولیس افسر اگر بہترین مصور ہے تو دنیا اسے وردی سے نہیں، اس کے فن سے جانے گی۔
ایک خاتون اگر اسکول ٹیچر ہے مگر نعت خوانی میں کمال رکھتی ہے تو اس کی پہچان کلاس روم نہیں، منبر بنے گا۔
یہ دنیا اب ایک ہی شناخت برداشت نہیں کرتی۔
یہ دنیا ملٹی اسکل انسان مانگتی ہے۔
آج ایک 19 سال کا نوجوان، جو ای کامرس جانتا ہے، جو ڈیجیٹل مارکیٹنگ سمجھتا ہے، جو ڈیٹا پڑھنا جانتا ہے، وہ کروڑوں میں کھیل رہا ہے۔
اور اس کے والد، جو دہائیوں سے میڈیسن میں ہیں، وہ لاکھوں میں بھی نہیں۔
یہ مثالیں کہانی نہیں، حقیقت ہیں۔
اور حقیقت یہی ہے کہ مستقبل ان کے ساتھ ہے جو سیکھتے ہیں، بدلتے ہیں اور جدت کو اپناتے ہیں۔
ہم نے ڈاکٹری کو اتنا مقدس بنا دیا ہے کہ باقی تمام علوم ہمیں حقیر لگنے لگے ہیں۔
نفسیات، ڈیٹا سائنس، بایو انفارمیٹکس، ہیلتھ ٹیک، ایجوکیشن ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، کریئیٹو ڈیزائننگ، فلم میکنگ، ایڈیٹنگ، پرفارمنس مارکیٹنگ—یہ سب ہمیں غیر سنجیدہ لگتا ہے۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ میدان ہیں جہاں قومیں آگے بڑھ رہی ہیں۔
ہم ابھی تک بچوں کو کہتے ہیں:
“یہ سب فضول ہے، ڈاکٹر بنو”
جبکہ دنیا کہہ رہی ہے:
“سکل سیکھو، مسئلہ حل کرو، ویلیو پیدا کرو”
اصل کامیابی اس میں نہیں کہ نام کے ساتھ کیا لگا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ نام خود کیا بن چکا ہے۔
بیٹی کا نام ڈاکٹر کے بغیر بھی برانڈ بن سکتا ہے۔
اور اگر نام برانڈ بن جائے تو ٹائٹل خود پیچھے آ جاتا ہے۔
ہم بچوں کو یہ کیوں نہیں سکھاتے کہ خود کو دنیا کی ضرورت کیسے بنایا جاتا ہے؟
ہم کیوں انہیں صرف نسخے لکھنا سکھاتے ہیں، دنیا لکھنا کیوں نہیں؟
یہ بات پتھر پر لکھ لیں:
جس بچے کے اندر آگ ہے، وہ ہر میدان میں کامیاب ہو جائے گا۔
اور جس کے پاس صرف ٹائٹل کا خواب ہے، وہ ایم بی بی ایس کر کے بھی ناکام رہے گا۔
کتنی بیٹیاں ہیں جو ڈگری کے باوجود گھروں میں بیٹھی ہیں، صرف اس انتظار میں کہ “اچھا رشتہ” آ جائے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں خواب مر جاتے ہیں اور ذہنی دباؤ جنم لیتا ہے۔
خدارا، بیٹیوں کو صرف ڈاکٹر بہو بنانے کے خواب سے آزاد کیجیے۔
انہیں سوچنے دیجیے، تلاش کرنے دیجیے، گرنے دیجیے، سیکھنے دیجیے۔
خدا کبھی وہ چیز چھین کر شرمندہ نہیں کرتا جو ہمارے نصیب میں نہیں ہوتی۔
وہ

سفید کوٹ سے آگے: ڈاکٹر بہو کلچر اور ٹوٹتے خواب

پاکستانی کرکٹ کی بقا

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے