پاکستانی کرکٹ کی بقا
ریڈ بال کرکٹ کو نظر انداز کرنا دراصل اپنی کرکٹ کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے مترادف ہے، اور بدقسمتی سے ہم اسی راستے پر گامزن ہیں۔ نوجوان کھلاڑیوں کی تکنیکی تربیت، صبر اور فٹنس کا اصل امتحان صرف طویل دورانیے کی کرکٹ میں ہوتا ہے، مگر ہم نے اسے ثانوی حیثیت دے کر خود اپنی تباہی کا سامان کر لیا ہے۔
بھارت کا ماڈل ہمارے سامنے ایک واضح مثال ہے۔ رانجی ٹرافی جیسے سخت اور مسابقتی نظام نے وہاں ایسے کھلاڑی پیدا کیے جو نہ صرف ٹیسٹ کرکٹ میں بلکہ وائٹ بال فارمیٹ میں بھی تسلط رکھتے ہیں۔ وہاں ڈومیسٹک کرکٹ کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، اسے مالی طور پر بھی مضبوط بنایا گیا ہے، اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کے پاس ٹیلنٹ کی ایک نہ ختم ہونے والی قطار موجود ہے۔
اس کے برعکس، ہمارے ہاں وائٹ بال کرکٹ کی چمک دمک نے آنکھیں بند کر دی ہیں۔ ہم نے یہ مان لیا ہے کہ چند اوورز کی جارحانہ بیٹنگ اور وقتی کامیابیاں ہی اصل کرکٹ ہیں، جو کہ ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔ یہ شارٹ کٹ کلچر کھلاڑیوں کو نہ تو تکنیکی طور پر مکمل بناتا ہے اور نہ ہی ذہنی طور پر مضبوط۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب یہی کھلاڑی مشکل حالات میں آتے ہیں تو ان کی کمزور بنیاد فوراً بے نقاب ہو جاتی ہے۔
سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ہم نے اپنی ریڈ بال ڈومیسٹک کرکٹ کو تقریباً نظر انداز کر دیا ہے۔ نہ معیاری پچز، نہ مناسب ڈھانچہ، نہ ہی کھلاڑیوں کے لیے واضح مالی تحفظ—یہ سب عوامل مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دے رہے ہیں جو ٹیلنٹ کو ابھارنے کے بجائے اسے دبا رہا ہے۔
کھلی حقیقت یہ ہے کہ اگر یہی روش برقرار رہی تو ہم عالمی کرکٹ میں مزید پیچھے چلے جائیں گے۔ صرف وائٹ بال کرکٹ پر انحصار ایک کھوکھلا خواب ہے، جس کی بنیاد کمزور ہے اور انجام ناکامی کے سوا کچھ نہیں۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم حقیقت کا سامنا کریں۔ ریڈ بال کرکٹ کو دوبارہ مرکزی حیثیت دینا ہوگی، ڈومیسٹک نظام کو ازسرِ نو مضبوط کرنا ہوگا، اور کھلاڑیوں کو طویل فارمیٹ میں سنجیدہ مواقع دینے ہوں گے۔ بصورت دیگر، ہم نہ صرف اپنی شناخت کھو دیں گے بلکہ عالمی کرکٹ کے نقشے پر بھی غیر متعلق ہو جائیں گے۔






