#کالم

گٹر کا ڈھکن اور گند اپانی

Untitled 5 1

احساس کے انداز  تحریر :۔ جاویدایازخان 

آج بہاولپور شہر کی سڑکوں پر واسا کی جانب سے آویزاں پوسٹر اور بینرز اور بورڈز میں درج یہ فقرہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے کہ "گٹر کا ڈھکن چرانا جرم ہے ” گٹر کے ڈھکنوں کا چرچا  اور شور کئی دنوں سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے ۔گذشتہ دنوں حکومت پنجاب کے مطابق جو گٹر کاڈھکن چوری کرے گا ،جو گٹر کا ڈھکن بیچے گا ،جو گٹر کا چوری شدہ  ڈھکن خریدے گا اسے ایک سے تین سال تک قید  یا تیس لاکھ تک جرمانہ ہو گا ۔پنجاب حکومت نے پنجاب پبلک یوٹیلٹیز انفراسٹرکچر پروٹیکشن آرڈیننس منظور کر لیا ہے ۔پنجاب میں کئی انقلابی اقدامات کے بعد اب گٹر کے ڈھکن اور سرکاری تنصیبات کی چوری پر سخت سزائیں ایک مثبت اور اچھا اقدام ہے ۔جو قابل تعریف بھی ہے اور قابل تحسین بھی ہے یقینا” اس قانون پر عملدرآمد سے بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے ۔لیکن دوسری جانب سوشل میڈیا پر بہاولپور میں میگا سیوریج پروجیکٹ کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے کیونکہ پرانے اور بوسیدہ سیوریج سسٹم کی وجہ سے جگہ جگہ گٹر بند ہو کر ابل رہے ہیں ۔دوسری جانب گندگی کے ڈھیر اکثر خالی پلاٹ میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔

گٹرکا ڈھکن چوری کرنا یقینا” جرم ہے کیونکہ وہ فوری طور پر نظر میں آجا تا ہے ۔جس میں کبھی بھی کسی بھی بچے یا بڑے کے گرنے کا خطرہ موجود ہوتا ہے اور اس کا ذمہ دار بھی واضح طور پر وہی چور ہی ہوتا ہے ۔پاکستان پینل کوڈ کے تحت سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا یا چوری کرنا قابل سزا جرم ضرور ہے ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گٹر بند ہوجاۓ اور گندا پانی ابل ابل کر سڑکوں یا گلیوں میں بہنا شروع کردے اور بیماریوں کا سبب بننے لگے تو کیا یہ جرم نہیں ہے ؟ کیا اس کے ذمہ داروں کا تعین ضروری نہیں ہے ؟ یہاں معاملہ قانونی سے زیادہ انتظامی اور اخلاقی ذمہ داری کا ہے ۔ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ ہم ہر طرح کا کچرا گٹر میں پھینککنا حق سمجھتے ہیں جبکہ صفائی کا نظام انفرادی اور اجتماعی سطح   پر بے حد  کمزور ہے ۔شکایت درج کرانے کا کلچر نہیں ہے ۔پھر جب گٹر ابلتے ہیں تو ہم اسے خاموشی سے "قسمت” سمجھ لیتے ہیں جرم نہیں سمجھتے ۔جبکہ گٹر کے ڈھکن کی طرح یہ گندا پانی بھی انسانی جان کے لیے جان لیوا  ثابت ہو سکتا ہے ۔گٹر چوری کرنے والا فرد مجرم ضرور ہے مگر گٹر بند ہونے پر خاموش رہنے والا معاشرہ بھی بے قصور نہیں ہے ؟ درحقیقت یہ صرف "بدقسمتی ” نہیں بلکہ ایک اجتماعی غفلت ہے ۔یہ درد اوردکھ محض سیوریج لائن کا نہیں پورے نظام کا ہے ۔یہ ہمارا انفردی اور اجتماعی المیہ ہے کہ ہم بیماریاں پھیلنے کے بعد تو بڑی مہم چلاتے ہیں لیکن اس بیماری پھیلنے کی وجہ  جاننا نہیں چاہتے۔ہم اپنے بچوں کی دوائیوں اور علاج  پر تو بے دریغ خرچ کر دیتے ہیں مگر صفائی سے بےاعتناعی اختیار کر تے ہیں جبکہ "صفائی کو نصف ایمان کا درجہ دیا گیا ہے "

شہر کی سڑکوں یا گلیوں میں بہتا ہواگندا پانی صرف سیوریج کا مسئلہ نہیں ہوتا ۔یہ حکمرانی  پر ایک سوالیہ نشان ہوتا ہے کہ گٹر کا ڈھکن چوری ہوجاۓ تو ایف آئی آر درج ہو جاتی ہے ۔ملزم پکڑا جاۓ تو سزا بھی ہو جاتی ہے ۔مگر جب گٹر مہینوں بند رہیں ،گندگی ابل کر پھیلنے لگے ،مچھروں کی افزائش ہو ،بیماریاں جنم لیں ۔۔تو اسے جرم نہیں کہا جاتابس "مسئلہ "کہہ کر آگے بڑھ جایا کرتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ قانون صرف فرد کے لیے کیوں ہے ؟ ان کے خلاف کیوں نہیں جن کا بنیادی فریضہ ہی نکاسی آب ہوتا ہے؟ اگر یہ ادارۓ اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو اس کو کیا نام دیا جاۓ ؟غفلت ؟ کوتاہی ؟ یا اجتماعی غیر ذمہ داری ؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ حکومت اس غفلت ،لاپرواہی اور کام چوری کا سدباب بھی کرتی اور اس کے ذمہ داروں کا احتساب بھی کیا جاتا ۔کاش ہمارےمسجدو منبر سے اس بارے میں تلقین ہوتی  ہمارے تعلیمی اداروں میں اس کی تربیت کا اہتمام ہوتا ۔ہمارا پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا اس کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرۓ ۔کیونکہ معاشرے اور ماحول کی صفائی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری بھی ہے ۔اسے قومی اور مذہبی فریضہ سمجھنا چاہیے ۔دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ جونہی ہم پاکستان سے کسی ترقی یافتہ ملک پہنچتے ہیں ہمیں صفائی کے بارے میں بتانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی  اوروہاں کے صفائی کے   قوانین پر عمل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں  تو پھر پاکستان میں ہی یہ سب کچھ جائز کیوں سمجھا جاتا ہے؟

ہمارے ہاں گٹر دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ایک وہ جو سڑکوں کے کنارۓ دکھائی دیتے ہیں اور دوسرے وہ جو نظام کے اندر چھپے ہوتے ہیں ۔پہلے گٹر میں کچرا ہم خود ڈالتے ہیں پھر اس کے بند ہونے پر شور مچاتے اور آپس میں لڑتے ہیں ۔دوسرے گٹر میں سفارش ،بدانتظامی ،اقربا پروری اور بےحسی کا ملبہ ڈالا جاتا ہے جس کا ڈھکن کبھی چوری نہیں ہوتا مگر جب یہ گٹر بند ہوتے ہیں تو ہماری سوچ کی سڑکوں پر تعفن پھیلتا ہے ۔المیہ یہ ہے کہ ہم گٹر کے ڈھکن کے چور کو تو مجرم سمجھتے ہیں مگر اس اہلکار کو نہیں جو مہینوں شکایت کے باوجود اختیار ہوتے ہوۓ بھی کاروائی نہ  کرۓ ۔ہم منشیات کے عادی اس نوجوان  کو تو کوستے ہیں جو لوہے کا ڈھکن بیچ دیتا ہے مگر اس نظام سے سوال نہیں کرتے جو اسے روزگار نہ دے سکا ۔کبھی کسی گلی میں کھڑا ہو کر دیکھیں جب گٹر ابل رہا ہوتا ہے تو لوگ ناک پر رومال رکھ کر گزرجاتے ہیں ۔کوئی یہ نہیں سوچتا کہ یہ تعفن صرف ناک تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہماری اجتماعی سوچ میں سرایت کر رہا ہے ۔ہم بدبو سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں مگر بدبو کے سبب کو ختم نہیں کرتے ۔اگر کسی کھلے گٹر میں کوئی بچہ گر جاۓ تو پورا شہر سوگ مناتا ہے مگر سوال یہ نہیں پوچھتا کہ وہ گٹر بند کیوں اور کب سے تھا ؟ اس کا ڈھکن غائب کیوں تھا اور کب سے غائب تھا ؟ شکایات پر بروقت کاروائی کیوں نہ ہوسکی ؟ قانون موجود ہے مگر ذمہ داری کا احساس  نظر نہیں آتا ۔ہمیں مان لینا چاہیے کہ گٹر کا بند رہنا بھی ایک طرح غفلت اور لاپرواہی ہے ۔اگر وہ  غفلت سے بند ہو اور  گندگی کا بہنے بھی جرم سمجھا جاۓاور اگر اسے بروقت روکا جاسکتا ہو تو  اس پر خاموش رہنا بھی اخلاقی جرم ہے اگر ہم آواز اٹھا سکتے ہیں ۔اصل مسئلہ سیوریج لائن کا نہیں ذمہداری کا ہے ۔جب ذمہ داری کا احساس نہ ہو تو معاشرہ ابلنے لگتا ہے کیونکہ شہروں کی صفائی صرف جھاڑو یا  صفائی کی مشینوں سے نہیں  ہوتی ذمہ داری کے احساس سے ہوتی ہے ۔ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم صرف ڈھکن چور وں کو ہی پکڑیں گے یا پھر بند گٹروں کے ذمہ داروں کو بھی آئینہ دکھائیں گے ؟

گٹر کا ڈھکن اور گند اپانی

14/03/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے