پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن قسط:21
(شاہد بخاری)
ابھی زندگی کا جواز ہے:
صفحات: 207 غزلیات: 68 منظومات:29
سرورق: اسلم کمال اشاعت:2017 ثنائی پریس سرگودہا
انتساب
اپنے گلستانِ زندگی کے نودمیدہ پھول اور کلیوں
(شایان تابش، عمار تابش، شجان اختر،
سبحان تابش،زینب ملک اور لائبہ ملک)
کے نام
اللہ تعالیٰ ان کی عمریں دراز کرے
اور وہ زندگی میں اپنا بھر پور کردار ادا کر سکیں (آمین)
پروفیسر ڈاکٹر فخر الحق نوری(ڈین کلیہء علومِ شرقیہ/پرنسپل اورنٹیل کالج لاہور) اِس کتاب کے حوالے سے رقم طراز ہیں:
”ابھی زندگی کا جواز ہے“ کے خالق ڈاکٹر شیخ محمد اقبال بھی اسی نقطہ نظر کے حامل ہیں۔ اس وقت ان کا مذکورہ مجموعہء کلام میرے پیشِ نظر ہے۔ اس میں چند نظمیں اور دو ایک قطعات بھی شامل ہیں تاہم بنیادی طور پر یہ مجموعہ غزلیات ہے۔غزل روایتی طور پر تو حسن و عشق کی شاعری ہے مگر عہد بہ عہد اس نے اپنے دامن میں سیاسی و سماجی اور نفسیاتی و معاشی، ہر طرح کے موضوعات کو سمو لیا ہے۔ یہ موضوعات انفرادی و اجتماعی اور قومی و بین الاقوامی حوالوں سے غزل کا حصّہ بنے ہیں۔ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال ایک صاحبِ علم شاعر ہیں۔ ان کا مطالعہ خاصہ وسیع ہے۔ وہ اردو ادب ہی کے نہیں، انگریزی ادب کے بھی قاری ہیں۔ اسی طرح وہ ذاتی جذبات و احساسات سے عاری نہ ہونے کے باوجود مقامی سے عالمی سطح تک پھیلتے ہوئے انسانی منظر نامے پر بھی نگاہ رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے ان کا دائرہء خیال اپنے اندر قابلِ لحاظ پھیلاؤ رکھتا ہے۔ وہ گرد و پیش کے مسائل کو محسوس کرتے ہیں۔ انھیں احساس ہے کہ زندگی مجبوریوں سے بھری پڑی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں:
کچھ مری کچھ آپ کی مجبوریاں
سچ تو یہ ہے زندگی مجبوریاں
اور کبھی کبھی تو انھیں یہ دنیا ایک جہنم محسوس ہوتی ہے اور وہ اس کے خالق سے مخاطب ہو کر یوں گویا ہوتے ہیں:
اک جہنم ہے یہ جہاں سائیں
اور مری جانِ ناتواں سائیں
دم نکلتا ہے اب مکاں میں مرا
ہے کہاں تیرا لامکاں سائیں
غم و اندوہ کا یہ احساس اس وقت اور بھی تکلیف دہ ہو جاتا ہے جب انسانوں کے جمِ غفیر میں ایسے انسان دکھائی نہ دیں جو احساس ِ مروت کی دولت سے مالا مال ہوں اور صحیح معنوں میں خلیفۃ الللہ فی الارض کہلانے کے مستحق ہوں۔ انھیں انسانوں کے روپ میں زیادہ تر بے حِس پتھر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ اس اندیشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ کہیں وہ خود بھی پتھر نہ بن جائیں۔ کہتے ہیں:
جانے کیسے آ بسا ہوں پتھروں کے شہر میں
آدمی کو ڈھونڈتا ہوں پتھروں کے شہر میں
پتھروں کے شہر میں پتھر نہ بن جاؤں کہیں
جانے کیا کیا سوچتا ہوں پتھروں کے شہر میں
لیکن یہ سب حقائق انھیں کسی مستقل یاسیت و قنوطیت میں مبتلا نہیں کر پاتے۔ وہ کسی نہ کسی صورت میں زندہ رہنے کا جواز ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ مثلاً وہ حیاتِ انسانی کو سنوارنے میں ہی زندگی کا جواز تلاش کرتے ہیں:
زندگانی کا کچھ جواز تو ہو
زلفِ گیتی سنوارتے رہنا
قرض لاکھوں ہیں پچھلی نسلوں کے
جتنے اتریں اتارتے رہنا“
ممتا زشاعر اور دانشورڈاکٹر احسان اکبر کچھ یوں لکھتے ہیں:
”آج تو سرگودہا کا دوسرا نام شیخ محمد اقبال کا نام ہے۔ پروف راک پر ان کی نظم چغلی کھاتی ہے کہ انہوں نے ایلیٹ کا بھی مطالعہ کیا اور اسے چاہا ہے۔ ڈاکٹر شیخ اقبال نے انگریزی اردو دونوں زبانوں کے عظیم شعراء سے اثر لیا ہے۔ جون ڈن، شیلے، کیٹس، بائرن، ملٹن اور شیکسپیئر کے ساتھ، میر، غالب اور اقبال سے بھی فیض پایا۔ شاعری کبھی سخن کا پردہ بھی بن جاتی ہے مگر شیخ محمد اقبال کو شاعری اظہارِ ذات کے لئے درکار تھی۔
یہ سعادت ہمیں نہیں منظور
دل کہے کچھ، کہے زباں کچھ اور
شیخ محمد اقبال کی یہ شاعری شعر کے اس مقام سے بے خبر بھی نہیں جہاں شعرو دانش باہم مل جاتے ہیں انہوں نے دنیا کو دیکھ رکھا ہے“
نیشنل بک فاؤنڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر انعام الحق جاوید رقم طرا ز ہیں:
”پروفیسر شیخ محمد اقبال کا یہ تازہ مجموعہء کلام ”ابھی زندگی کا جواز ہے“ بیک وقت کئی شعری محاسن لیے ہوئے ہے، مثلاً چھوٹی بحر میں تیکھے، ترچھے اور احساس میں کُھب جانے والے پختہ اور جمے ہوئے شعر اور پھر اُن میں تخلیقی ہنرمندی اور فکری تازگی قاری کو متاثر کرتی ہے۔ اُن کے ہاں طنز نگاری، شوخی اور بول چال کا بیانیہ واضح ہے۔ جب کہ غزلوں میں نیم کلاسیکی رنگ اور نیا لہجہ باہم پیوست دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کی غزلوں میں موسیقیت کا جادو سرچڑھ کر بولتا ہے اور پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شیخ اقبال کی تگ و دو سے پُر زندگی کی بارہ دری میں ایک در موسیقی کا بھی ہے۔ اُن کی بیشتر غزلیں مجازی محبوب سے مکالمہ کرتی دکھائی دیتی ہیں اور سیدھے سبھاؤ بیانیے میں بھی فنی سرور کا احساس دلاتی ہیں۔ اس مجموعے میں بہت سی نظمیں بھی شامل ہیں جو موضوعات اور اظہار میں روایتی ہوتے ہوئے بھی اپنی شعری فضا بندی میں مثبت رویوں، اعلیٰ انسانی اقدار اور محبت کا پیغام لیے ہوئے ہیں“
معروف شاعر وادیب نسیمِ سحر لکھتے ہیں:
”میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر شیخ اقبال کو اگر دنیا کے چند مصروف ترین لوگوں میں سے ایک قرار دیا جائے تو یہ غلط نہ ہو گا۔۔جب شاعر پر آمد کا لمحہ طاری ہوتا ہے تو اس کے راستے میں کوئی مصروفیت اور کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی۔
اگر کسی شاعر کے تازہ شعری مجموعے اور اس سے پہلے والے مجموعے میں ایک واضح ارتقائی عمل دکھائی نہ دے تو میں سمجھتا ہوں کہ تازہ شعری مجموعے کی اشاعت کا جواز ہی ختم ہو جاتا ہے۔ شیخ محمد اقبال نے اپنے تازہ مجموعے کی مزید توانا، پُر خیال اور نکھری ہوئی شاعری کے ذریعے اس کا جواز فراہم کر دیا ہے۔ بظاہر وہ بے حد آسانی سے شعر کہتے چلے جاتے ہیں،شعرکہنا اور سانس لینا انکے لئے ایک ہی جیسی کیفیت ہے اور ایک ہی جیسا عمل ہے مگر






