بہن بھائی کے حبس بیجا اور موت کے مشہور کیس کا فیصلہ
اج کا اداریہ
چکوال میں کروڑوں روپے کی جائیداد کے مالک بہن بھائی کو حبسِ بے جا میں رکھنے اور طویل بھوک کے باعث بہن کی موت کے الزامات کے تحت ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزم کو دی جانے والی تین سال قید کی سزا کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کو بری کر دیا ہے۔لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس صداقت علی خان نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف ملزم کی طرف سے دائر کی گئی اپیل کا فیصلہ سنادیاعدالتِ عالیہ نے ‘ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی’ کی بنیاد پر ملزم عنصر عباس کو بری کیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال فروری میں چکوال کے تھانہ نیلہ کی پولیس نے نواحی گاؤں گھگھ سے موصول ہونے والے ایک گمنام خط پر کارروائی کرتے ہوئے 26 سالہ جبین بی بی کی لاش ایک کمرے سے برآمد کی تھی جبکہ ان کے 32 سالہ بھائی حسن رضا کو لاغر حالت میں بازیاب کیا تھا۔ بہن بھائی کا ذہنی توازن درست نہیں تھا۔
پولیس کی طرف سے درج کی جانے والی ایف آئی آر کے مطابق اس گمنام خط میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کروڑوں روپے کی جائیداد ہتھیانے کی خاطر دونوں بہن بھائی کو ایک گھر میں بند رکھا گیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ڈھائی ماہ قبل اس کیس میں مرکزی ملزم عنصر کو تین سال قیدِ بامشقت اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے ملزم پر اٹھانوے لاکھ اٹھائیس ہزار چھ سو ستر روپے رقم کی دیت عائد کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ ملزم دیت مرحومہ کے قانونی ورثا کو ادا کرے گا اور دیت ادا نہ کرنے تک ملزم جیل میں ہی رہے گا۔
دونوں بہن بھائی کو بنیادی ضروریاتِ زندگی فراہم نہ کرنے کے الزام میں ملزم کو تین ماہ کی قید اور پانچ سو روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔
عدالت نے نو ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا تھا جبکہ مرکزی ملزم عنصر عباس کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر کے جہلم جیل بھیج دیا تھا۔اس فیصلے کے خلاف ملزم نے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس پر فیصلہ دیتے ہوئے اب عدالت نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ملزم کے وکیل ملک فخر حیات کا کہنا ہے کہ قانونِ شہادت آرڈیننس کے آرٹیکل تین کے تحت یہ ضروری ہوتا ہے کہ سٹار وٹنس (گواہ) کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے لیکن اس کیس میں یہ گواہ جبین بی بی کے بھائی حسن رضا تھے جنھیں دورانِ ٹرائل عدالت میں اس وجہ سے پیش نہیں کیا گیا کہ وہ سکیٹسوفرینیا کے مرض میں مبتلا ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ استغاثہ کی طرف سے جن دو گواہوں کا دعویٰ کیا گیا تھا وہ دونوں گواہ بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ سامنے آیا کہ جبین بی بی کی لاش اگرچہ 15 دن پرانی تھی لیکن اُن کا معدہ آدھا بھرا ہوا تھا جس نے شک کو جنم دیا اور اس کا فائدہ ملزم کو ملا۔ایڈوکیٹ ملک فخر حیات نے کہا کہ ’کیس ثابت کرنا پراسکیوشن کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن پراسیکیوشن یہ کیس ثابت نہ کر سکا جس کی وجہ سے ہائیکورٹ نے ملزم کو بری کر دیا۔یاد رہے کہ رفاقت علی، جو جبین بی بی اور ان کے بھائی حسن رضا کے ماموں ہیں، نے دعویٰ کیا تھا کہ ان بہن بھائی کے والد کی زرعی زمین ساڑھے نو سو کنال کے لگ بھگ تھی جو ان کے ماموں زاد عنصر عباس کے قبضے میں تھی اور دونوں بہن بھائی کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی عنصر عباس پر تھی۔
پولیس کی طرف سے درج کی جانے والی ایف آئی آر کے مطابق اس گمنام خط میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کروڑوں روپے کی جائیداد ہتھیانے کی خاطر دونوں بہن بھائی کو ایک گھر میں بند رکھا گیا تھا۔پولیس نے مرکزی ملزم عنصر عباس اور اس کے دو بھائیوں کو گرفتار کر لیا تھا جبکہ باقی سات ملزمان نے ضمانت قبل از گرفتاری کروا لی تھی۔ بعد میں تینوں گرفتار ملزمان بھی ضمانت پر رہا ہو گئے تھے۔23 دسمبر کو سنائے جانے والے فیصلے میں ایڈیشنل سیشن جج امیر مختار گوندل نے لکھا تھا کہ مرکزی ملزم کے خلاف جبین بی بی کو عمداً قتل کرنے کا الزام ثابت نہیں ہوا تاہم قتلِ بالسبب ثابت ہوا کیونکہ ڈسرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چکوال کی طرف سے پیش کی گئی میڈیکل رپورٹ کے مطابق جبین بی بی کی موت اور پوسٹ مارٹم کے درمیان چودہ پندرہ یوم کا وقفہ بنتا تھا۔عدالتی فیصلے کے مطابق ڈاکٹر نے میڈیکل رپورٹ میں لکھا کہ جبین بی بی کی موت طویل دورانیے پر مشتمل شدید بھوک کے باعث ہوئی۔’ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے عدالت نے دفعہ 302 کے الزام کو دفعہ 322 کے جرم میں بدل کر مرکزی ملزم پر اٹھانوے لاکھ اٹھائیس ہزار چھ سو ستر روپے کی دیت عائد کی۔
تاہم ایس ایچ او صہیب ظفر نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ دو سال پہلے اپنے والد کے زندہ ہوتے ہوئے جبین بی بی اور ان کا بھائی بالکل نارمل تھے اور ’جبین بی بی نے چند برس قبل بی ایس سی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا تھا۔‘
گگھ گاؤں چکوال کے شمال میں بھگنائے ندی کے کنارے آباد ہے۔ اس علاقے میں مغل کسر برادری بااثر خاندان ہیں جن کی زرعی زمین ماضی میں ہزاروں ایکڑز تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ لوگ اپنے نام کے ساتھ سردار لکھتے ہیں۔
جبین بی بی اور ان کے بھائی کا تعلق بھی مغل کسر سرداروں کے قبیلے سے ہے اور مقامی سرکاری اہلکار (جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کی) اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے والد کا زرعی رقبہ دو ہزار کنال کے لگ بھگ ہے جو ابھی تک جبین بی اور بھائی کے نام منتقل نہیں ہوا۔ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ ’پہلے تو جبین کا بھائی ڈر اور خوف کی وجہ سے کچھ بول نہیں رہا تھا لیکن اب اس نے بولنا






