#کالم

“روزنامہ سرزمین، صفدر علی خان اور مثبت صحافت کی روایت”

new desing 20

تحریر: ڈاکٹر محمد جلال عارف

safdar sb copy 1
صفدر علی خان

صحافت کسی بھی معاشرے کا فکری آئینہ ہوتی ہے۔ جب صحافت ذمہ داری، حب الوطنی اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ کی جائے تو وہ معاشرے کی اصلاح اور ترقی میں ایک طاقتور کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان کی صحافت میں چند شخصیات ایسی ہیں جو اسی مثبت اور تعمیری روایت کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ ان میں نمایاں نام روزنامہ سرزمین کے چیف ایڈیٹر صفدر علی خان کا ہے۔

چند سال قبل لاہور میں ایک موقع پر میری ملاقات صفدر علی خان صاحب سے ہوئی۔ اس ملاقات کا ذریعہ ایک قابل اور متحرک افسر شفقت اللہ مشتاق بنے، جو اس وقت ڈپٹی کمشنر راجن پور تھے۔ شفقت اللہ مشتاق نے نہایت محبت کے ساتھ میرا تعارف صفدر علی خان صاحب سے کروایا۔ پہلی ملاقات ہی میں صفدر علی خان صاحب کی شخصیت، ان کے خیالات اور پاکستان سے ان کی والہانہ محبت نے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔

صفدر علی خان صاحب کی صحافت کا بنیادی مقصد معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ دینا اور قومی ترقی کے موضوعات کو اجاگر کرنا ہے۔ روزنامہ سرزمین نہ صرف قومی اور بین الاقوامی معاملات بلکہ تعلیم، ثقافت، مذہب، شو بزنس اور سماجی مسائل جیسے موضوعات کو بھی متوازن انداز میں پیش کرتا ہے۔

مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ صفدر علی خان صاحب نے اپنے اخبار میں مجھے “فکری زاویے” کے عنوان سے کالم لکھنے کا موقع دیا۔ زرعی مسائل، گندم کے بحران، جعلی پیسٹی سائیڈز اور ایم آر ایل (Maximum Residue Limit) جیسے موضوعات پر لکھے گئے میرے مضامین کو انہوں نے نمایاں انداز میں شائع کیا۔ اسی طرح ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے حوالے سے میرے کالموں کو بھی انہوں نے خصوصی اہمیت دی۔

اس موقع پر میں شفقت اللہ مشتاق کا ذکر بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ وہ میرے لیے ایک چھوٹے بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اپنی انتظامی صلاحیتوں اور خدمتِ خلق کے جذبے کی وجہ سے ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ بطور ڈپٹی کمشنر راجن پور انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اگر کسی افسر میں خلوص اور دیانت ہو تو وہ ایک پسماندہ ضلع میں بھی مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔

راجن پور کے عوام آج بھی ان کے دور کو یاد کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے ریاستی رٹ قائم کی، عوام کے مسائل حل کیے اور خصوصاً غریب اور نادار طبقات کے ساتھ ہمدردی کا عملی مظاہرہ کیا۔ پنجاب کے تقریباً چالیس اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی کے جائزے میں حکومت پنجاب نے انہیں پنجاب کا نمبر ون ڈپٹی کمشنر قرار دیا۔ چند ماہ قبل ان کا تبادلہ لاہور ہوا جہاں وہ اب ایڈیشنل سیکرٹری پنجاب سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

صفدر علی خان صاحب کی صحافت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ معاشرے میں ہونے والی مثبت تبدیلیوں کو بھی بھرپور انداز میں اجاگر کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں پنجاب میں عوامی فلاح کے بعض اقدامات قابل ذکر ہیں جن میں مریم نواز کی حکومت کے مختلف پروگرام شامل ہیں۔

پنجاب میں صحت کے شعبے میں ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے، مریضوں کو مفت ادویات فراہم کرنے اور فری آپریشنز کی سہولت دینے جیسے اقدامات عوام کے لیے باعث اطمینان بنے ہیں۔ کینسر کے علاج کے لیے ہسپتالوں کا قیام اور طبی سہولیات کی بہتری بھی قابل ذکر پیش رفت ہے۔

اسی طرح پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے گرین بسوں کا آغاز اور عام شہریوں کے لیے آسان اور سستی سفری سہولیات فراہم کرنا بھی ایک اہم قدم ہے۔ طلبہ کے لیے انٹرن شپ پروگرام اور لیپ ٹاپ اسکیم جیسے اقدامات نوجوان نسل کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

قانون کی عملداری کے حوالے سے سیف سٹی اور سی سی ڈی کے اقدامات، ٹریفک نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے ہیلمٹ، سیٹ بیلٹ اور لین ڈسپلن جیسے قوانین پر عمل درآمد نے شہری زندگی میں بہتری پیدا کی ہے۔ آج لوگ زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنے خاندان اور بچوں کے ساتھ بازاروں اور سڑکوں پر آ جا سکتے ہیں۔

ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے بسنت جیسے تہوار کو ریاستی نگرانی میں منانے کی بات بھی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر حکمرانوں کی نیت صاف اور ارادے مضبوط ہوں تو معاشرے میں خوشی، امن اور ترقی کی فضا پیدا کی جا سکتی ہے۔

میں اس موقع پر روزنامہ سرزمین کے چیف ایڈیٹر صفدر علی خان صاحب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے نہ صرف مجھے اپنے اخبار میں لکھنے کا موقع دیا بلکہ میری تحریروں کو عزت اور پذیرائی بھی دی۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت اور طویل عمر عطا فرمائے اور روزنامہ سرزمین کو دن دگنی رات چوگنی ترقی نصیب کرے۔

پاکستان کو آج ایسی ہی مثبت اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت ہے جو قوم کو امید، شعور اور ترقی کی سمت دکھائے۔ صفدر علی خان اور روزنامہ سرزمین یقیناً اسی روشن روایت کے علمبردار ہیں۔

ڈاکٹر محمد جلال عارف
سابق پروفیسر و چیئرمین
شعبہ اینٹومولوجی
یونیورسٹی آف

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے