#بغیر زُمرہ

دعا اپنی مادری زبان میں مانگیں یا اس زبان میں جس میں آپ اظہار و بیان کر سکتے ہیں

Untitldskjsgskjed 1

ابرپارے

تحریر: ریاض احمد احسان

انسان کی زندگی ایک مسافر خانہ ہے جہاں ہر سانس پیش قدمی ہے اور ہر قدم کسی نہ کسی دروازے کی طرف بڑھتا ہے۔اس سفر کی سب سے روشن منزل وہ دروازہ ہے جو آسمانوں کے اس پار نہیں بلکہ دل کے اندر کھلتا ہے،دل میں کُھلنے والے اِس دروازے کا نام دعا ہے، دعا دراصل بندگی کا وہ چراغ ہے جو روح و بدن کے اندھیروں میں جلتا ہے اور انسان کو اِس حقیقت سے آشنا کرتا ہے کہ وہ خود کچھ بھی نہیں اور سب کچھ اُس ربِ کریم کا ہے جس کے حکم سے کائنات کے ذرے حرکت میں آتے ہیں۔ انسان جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے تو گویا وہ اپنے وجود کی ساری گرد جھاڑ کر اس حقیقت کا اعلان کرتا ہے کہ وہ ایک محتاج بندہ ہے اور اس کا رب ہی بے نیاز بادشاہ ہے
دعا کا تعلق زبان سے کم اور دل سے زیادہ ہوتا ہے الفاظ تو صرف وہ کشتی ہیں جن پر سوار ہو کر دل کے جذبات ساحلِ قبولیت کی طرف بڑھتے ہیں اگر کشتی سادہ ہو لیکن اس میں خلوص کا بادبان لگا ہو تو وہ یقیناً منزل تک پہنچ جاتی ہے اگر کشتی سونے کی بنی ہو لیکن اس میں اخلاص نہ ہو تو وہ پانی پر حرکت بھی نہیں کر سکتی اسی لیے دعا کے لیے کسی خاص زبان کی قید نہیں رکھی گئی،آسمان کا مالک انسان کے لہجے کو نہیں بلکہ اس کے دل کی دھڑکن کو سنتا ہے،وہ گلابی لفظوں پر کم اور روح و بدن کی شادابی کو زیادہ قبول کرتا ہے وہ زبانوں کے لہجے نہیں بلکہ قلب و نگاہ کی یکسانیت کو دیکھتا ہے،وہ عہدوں کی بجائے عہد نبھانے والوں کو عزیز رکھتا ہے، وہ اعمال کے ساتھ ساتھ نیتوں کو بھی پرکھتا ہے،اُس کی نظر عادتوں کی ورزش پر بھی ہوتی ہے اور کامل اطاعت پر بھی جب ایک ماں اپنے بچے کی ٹوٹی پھوٹی زبان سمجھ سکتی ہے تو وہ رب جو ماں کے دل میں محبت رکھتا ہے اپنے بندے کی دعا کیوں نہ سمجھے گا؟ وہ تو دلوں کے رازوں کو جاننے والا ہے اُس عرش والے کے لیے عربی، فارسی، اردو یا کوئی بھی زبان اہم نہیں اُس کے لیے اصل زبان عاجزی ہے،اصل لغت آنسو ہیں اور اصل بیان وہ عاجزانہ خاموشی بھی ہے جس میں بندہ اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ اے مالک! تیرا گنہگار آیا ہے تو اپنی رحمت کی چادر میں ڈھانپ لے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کے پاس الفاظ ختم ہو جاتے ہیں لیکن دل میں احساسات کا سیلاب امڈ رہا ہوتا ہے ایسے لمحوں میں آنکھوں سے بہنے والے آنسو خود دعا بن جاتے ہیں یہ آنسو دراصل وہ روشن موتی ہیں جو بندے کی پیشانی سے گر کر رحمت کے دامن میں جا پڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو یہ آنسو بہت پسند ہیں کیونکہ یہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ بندہ اپنے رب کے سامنے ٹوٹ گیا ہے اور جو بندہ اپنے رب کے سامنے ٹوٹ جائے اُسے جوڑنا رب کی سنت ہے
دعا دراصل بندگی کی سب سے حسین تصویر ہے اس تصویر میں بندہ ایک فقیر کی طرح کھڑا ہوتا ہے اور اللہ رب العزت ایک شہنشاہ کی طرح عطا کے خزانے کھول دیتا ہے۔بندہ جب اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے تو گویا وہ اعلان کرتا ہے کہ اے میرے رب! میں خالی ہاتھ آیا ہوں، تو ہی ہے جو ان ہاتھوں کو بامراد کر سکتا ہے
یہی وجہ ہے کہ دعا میں سب سے اہم چیز خلوص ہے خلوص وہ خوشبو ہے جو دعا کے الفاظ کو آسمان تک پہنچاتی ہے اگر دعا میں خلوص نہ ہو تو وہ الفاظ فقط آواز بن کر رہ جاتے ہیں لیکن اگر دل میں سچائی اور عاجزی ہو تو ایک سادہ سا جملہ بھی عرش تک پہنچ جاتا ہے کہ اُسے سچائی،عاجزی،آنسو اور استغفار کی تکرار بہت پسند ہے-انسان جب اپنے رب کو اس کے صفاتی ناموں سے پکارتا ہے تو گویا وہ رحمت کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے کہتا ہے اے رحمان! اے رحیم! اے غفور! اے ستار! اے رزاق! اے بشیر! اے کریم! تو یہ صفاتی نام رحمت کے وہ چراغ ہیں جو بندے کی اندھیری دنیا کو روشن کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو یہ انداز پسند ہے کہ بندہ اس کی عظمت کا اقرار کرے اور اپنی پستی کا اعتراف کرے یہی اعتراف دراصل دعا کی روح ہوتی ہے
زندگی کے راستوں پر چلتے ہوئے انسان سے لغزشیں بھی ہو جاتی ہیں کبھی قدم پھسل جاتا ہے، کبھی دل غفلت کی دھند میں گم ہو جاتا ہے،کبھی نافرمانیاں ہو جاتی ہیں تو کبھی حقوق العباد ادا نہیں ہو پاتے ہر حال میں بندے کو اپنے رب کی طرف لوٹ آنا چاہیے کہ توبہ دراصل دل کا وہ دروازہ ہے جو ہر وقت کھلا رہتا ہے بندہ اگر سچے دل سے لوٹ آئے تو اس کا رب اسے رد نہیں کرتا،توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے گناہ پر شرمندہ ہو جائے۔ شرمندگی دراصل وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنی حقیقت دیکھتا ہے جب بندہ اس آئینے میں اپنی کمزوری دیکھ لیتا ہے تو اس کی آنکھوں میں ندامت کے آنسو آ جاتے ہیں یہی آنسو دراصل توبہ کی طرف پہلا قدم ہوتے ہیں
اگر انسان توبہ کے بعد دوبارہ گناہ سے بچ جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی توبہ قبول ہو گئی ہے لیکن اگر وہی گناہ دوبارہ سر اٹھانے لگے تو اس کا مطلب ہے کہ توبہ کے چراغ میں اخلاص کا تیل کم تھا ایسے میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ دوبارہ اپنے رب کے دروازے پر دستک دینے کی ضرورت ہے
جائے نماز دراصل بندے اور رب کے درمیان ملاقات کا قالین ہے جب بندہ اس پر کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ دنیا کے ہنگاموں سے نکل کر اپنے رب کے حضور پہنچ جاتا ہے اس لمحے اس کے دل میں صرف ایک ہی احساس ہونا چاہیے کہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے