#کالم

خواتین  کے حوالے  سے  پنجاب  میں  حقوق، انصاف، عمل  کی  صورتحال

new desing3343432

خواتین  کا  عالمی  دن  پھر  بدل  رہی  ہے  یہ  دنیا

تحریر  محمد  شاہنواز  خان 

ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل ویمنز ڈے منایا جاتا ہے تاکہ خواتین کی سماجی، معاشی، سیاسی اور ثقافتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔

     اس  سال  خواتین  کے  عالمی  دن  کا موضوع ہے    حقوق، انصاف، عمل — تمام خواتین اور بچیوں کے لیے  

یہ  دن  اور  یہ  موضوع  ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم عورتوں کو تعلیم، مواقع، احترام اور مساوی حقوق  اور  انصاف دیں گے تو اس کے بدلے میں ہمیں ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرہ ملے گا ہمیں اس بات پر زوردینا چاہئےاور مساوی انصاف کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات  کرنے  کی  ضرورت  ہے ۔ 

امتیازی قوانین، کمزور قانونی تحفظات، نقصان دہ سماجی رویے اور ایسی روایات شامل ہیں جو خواتین اور بچیوں کے حقوق کو متاثر کرتی ہیں۔ان  کے  خاتمے  کی  کوششوں  کو  آگے  بڑھانا  چاہیے۔

پاکستانی خواتین نے ہر شعبۂ زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ چاہے وہ تعلیم ہو، صحت کا شعبہ ہو، سیاست، کاروبار، کھیل یا سماجی خدمات—عورتیں ہر میدان میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ دیہی علاقوں کی خواتین کھیتوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں، گھریلو صنعتوں کو چلاتی ہیں اور اپنے خاندان کی کفالت میں اہم حصہ ڈالتی ہیں۔ شہری علاقوں میں خواتین ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، وکلاء، بیوروکریٹس اور کاروباری شخصیات کے طور پر ملک کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔

پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ خواتین نے نہ صرف گھریلو نظام کو سنبھالا بلکہ قومی سطح پر بھی قیادت کی مثالیں قائم کیں۔ آج کی پاکستانی عورت باشعور ہے، اپنے حقوق سے آگاہ ہے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

گر ہم خواتین کو معیاری تعلیم، محفوظ ماحول، روزگار کے مساوی مواقع اور فیصلہ سازی میں شرکت کا حق دیں تو اس کے نتیجے میں::

• غربت میں کمی آئے گی

• خاندان مضبوط ہوں گے

• بچوں کی تعلیم اور صحت بہتر ہوگی

• ملکی معیشت میں اضافہ ہوگا

یعنی عورت کو بااختیار بنانا دراصل پورے معاشرے کو بااختیار بنانا ہے۔

حالیہ برسوں میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے حکومتی سطح پرمختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ محترمہ مریم نواز نے بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب خواتین کی ترقی اور تحفظ کے لیے کئی اہم منصوبوں کا آغاز کیا۔ ان اقدامات میں خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا، ہنر مندی کے پروگرامز، خواتین کے لیے محفوظ ٹرانسپورٹ سہولیات، اور کاروبار شروع کرنے کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

حقوق، انصاف، عمل — تمام خواتین اور بچیوں کےحوالے  سے  جو  اقدمات  کیے  گئے  ہیں  ہم  نے  جایزہ  لیا  ہے ۔

ان  میں  سے  کچھ  اہم  اقدمات  جو  گزشتہ  سالوں  میں  نمایاں  رہے  درج  ذیل  ہیں۔

1. ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن (Virtual Women Police Station)

یہ پہلی نوعیت کا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جسے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی   نے  متعارف کروایا۔ خواتین  15  پر  کال  کرکے  دو  کا  بٹن  دبا  کر ورچول وومن پولیس  اسٹیشن  سے  رابطہ  کر  سکتی  ہیں  اور عورتیں گھر بیٹھے پولیس کی خدمات حاصل کر سکتی ہیں ویڈیو کال یا لائیو چیٹ کے ذریعے شکایات درج کروائی جا سکتی ہیں،  شکایت  درج ہونے سے لے کر انویسٹی گیشن اور ٹرائل تک رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔

یہ نظام خواتین کے لیے شفاف، قابلِ رسائی اور موٗثر انصاف کا ماڈل ہے جو روایتی پولیس اسٹیشن جاکر رپورٹ درج کروانے کے بوجھ کو کم کرتا ہے۔ہزاروں  خواتیں  اس  سہولت  سے  مستفید  ہوچکی  ہیں ۔

اسی طرح خواتین کی تعلیم اور صحت کے شعبے میں خصوصی توجہ دی گئی تاکہ وہ خودمختار بن سکیں اور معاشی طور پر مستحکم ہوں۔ خواتین کے تحفظ کے لیے قانون سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات بھی کی گئیں تاکہ انہیں ہراسانی اور تشدد سے بچایا جا سکے۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی   نے  ایک  وومن  سیفٹی  موبایل  ایپ  بھی  بنائی  ہے  جو  خواتین  کو چوبیس  گھنٹے  تحفظ  فراہم  کرتی  ہے  اور  اس  ایپ  سے  کسی  وقت  مدد  حاصل  کرسکتے  ہیں۔

2. پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی (Punjab Women Protection Authority  PWPA)

پنجاب  وومن  پروٹیکشن  ایکٹ  کے  تحت  پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی خواتین کو تشدد، ہراسانی اور گھریلو مسائل سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔  اس  اتھارٹی  کے  تحت  ہر  ضلع  کی  سطح  پر وومن  پروٹیکشن  سینٹرز  قاءم  کیے  گیے  ہیں۔  محترمہ  حنا  پرویز  بٹ  اس  اتھارٹِی  کی  چیرپرسن  ہیں  اس ادارے  کے  تحت  تشدد کا شکار خواتین کو فوری تحفظ  قانونی معاونت اور مشاورت ،نفسیاتی اور سماجی کونسلنگ  فراہم  جارہی  ہیں۔ اس  ادارے  کی  ہیلپ  لاءن  1737  خواتین  کے  تحفظ  کے  لیے  کام  کررہی  ہے۔

3. ویمن پروٹیکشن سینٹرز (Women Protection Centers)

     پنجاب  کے  تمام  اضلاع   میں خواتین کے لیے پروٹیکشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جہاں متاثرہ خواتین کو قانونی مدد، مشاورت،  نفسیاتی اور سماجی کونسلنگ فراہم  کی  جارہی  ہیں  ملتان میں ایک سہولیات سے لیس مراکز قائم کیا  گیا  ہےان سینٹرز میں خواتین کو فوری قانونی سپورٹ، پولیس اور دیگر اداروں سے رابطہ، تحفظ اور بحالی جیسی خدمات ملتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ مشاورت اور آگاہی پروگرام بھی چلائے جاتے ہیں تاکہ خواتین ہر طرح کے تشدد اور ظلم سے محفوظ رہ سکیں۔

4. وومن  ڈویلپمنٹ  ڈیپارٹمنٹ( محکمہ ترقیِ نسواں)

آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں نے خواتین سے متعلق امور پر ازسرِنو توجہ مرکوز کی۔ خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کے لیے سازگار ماحول کی تشکیل کے مقصد سے 2012 میں محکمہ ترقیِ نسواں قائم کیا گیا۔ قیام کے بعد سے اس محکمہ نے دیگر تمام محکموں کے ساتھ اشتراکِ عمل کے تحت پنجاب ویمن ایمپاورمنٹ اقدامات 2012 ترتیب دیے، تاکہ خواتین کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جا سکے اور مساوات کو اس کی اصل روح کے مطابق یقینی بنایا جا سکے، اور درج ذیل اہداف حاصل کیے جا سکیں۔:مالی معاونت، فنی تربیت، سماجی بہبود وغیرہ جیسی معاونتی خدمات کی فراہم  انصاف تک ہمہ گیر رسائی  خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد کی روک تھام کے لیے احتیاطی اقدامات ، امتیازی رویوں اور سوچ کے خاتمے کے لیے سول سوسائٹی اور مقامی برادریوں کے ساتھ مل کر کام کرنا،خواتین کی سماجی، سیاسی اور معاشی حیثیت میں بہتری کے لیے وافر مواقع کی دستیابی،  صنفی برابری اور مساوات کا حقیقی معنوں میں حصول اس  محمکہ  کا  مقصد  ہے  اس  حوالے  سے  محترمہ  مریم  نواز  کے  مشن  کے  مطابق  پارلمانی  سیکٹری  محترمہ  سعدیہ  تیمورمحمکہ    میں  خواتین  کی  جدید ٹیکنالوجی تک  رسائی  سمیت  کئی  انقلابی  اقدمات  کیے  ہیں  جن  کے  اثرات  بہت  جلد  نظر  آرہے  ہونگے۔

5. پنجاب کمیشن برائے مقامِ خواتین(پی  سی  ایس  ڈبلیو)

یہ ادارہ ایکٹ 2014 کے تحت ایک نگران ادارے کے طور پر قائم کیا گیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ حکومتِ پنجاب کے قوانین، پالیسیاں اور پروگرام خواتین کو بااختیار بنانے کو فروغ دیں؛ خواتین کی سماجی و معاشی ترقی کے مواقع میں اضافہ کیا جائے؛ اور خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیاز کا خاتمہ کیا جائے۔ 

پنجاب ویمنز ٹول فری ہیلپ لائن 1043 چوبیس گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن دستیاب ہے انتظام و نگرانی ہیلپ لائن ٹیم مکمل طور پر خواتین کال ایجنٹس، تین قانونی مشیروں، ایک نفسیاتی و سماجی کونسلر، سپروائزرز اور انتظامی عملے پر مشتمل ہے، جو آپ کے سوالات اور شکایات کے ازالے اور نفسیاتی و سماجی رہنمائی فراہم کرنے کے لیے دستیاب ہوتے  ہیں۔

پنجاب کمیشن برائے مقامِ خواتین  کے  تحت  ہر  سال  جینڈر  پیِرٹی  رپورٹ  شائع  کی  جاتی  ہے  جس  میں  خواتین  کی  صورتحال  کا  جایزہ  لیا  جاتا  ہے  اس  کی  بنیاد  پر  خواتین  کی  بہتری  کے  لیے  لائحہ عمل  ترتیب  دیا  جاتا  ہے۔  اس  رپورٹ  کی  تیاری  میں  گزشتہ  کئی  سالوں  سے اقوامِ متحدہ کا فنڈ برائے آبادی (UNFPA)  اور  ادارہ  استحکام شرکتی  ترقی ( ایس  پی  او  )  کی معاونت  حاصل  ہے۔ کمیشن  کی  چیرپرسن  کی  پوزیشن  طویل  مدت  سے  خالی  ہے  حکومت  نے  انٹرویو  بھی  کیے  ہیں  لیکن  ابھی  تک  چیرپرسن  کا  فیصلہ  نہیں  ہوسکا  جس  کی  وجہ  سے  ادارہ  کی  کارکردگی  متاثر ہورہی  ہے۔تاہم  ڈاریکٹر وحید چوہدری  اور  ان  کی ٹیم پنجاب  جینڈر  پیرٹی  رپورٹ  کی  تیاری  اور  کمیشن  کو  فعال  رکھنے  میں  بھرپور  کردار  ادا  کر  رہے  ہیں 

6. خاتون  محتسب پنجاب  

پنجاب  میں  خاتون  محتسب  کا  ادارہ  شاندار  خدمات  انجام  دے  رہا  ہے۔  پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ دی ورک پلیس ایکٹ 2010 اور پنجاب انفورسمنٹ آف وومن پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2021 پر مؤثر عملدرآمد کو بنانا اس  ادارے  کی  ذمہ  داریوں  میں  شامل  ہے  اس  وقت  یہ  ادارہ  اپنے  نو  ریجنل  دفاترز  کے  ساتھ  خدمات  انجام  دے  رہا  ہے  گزشتہ  چند  برسوں  میں محترمہ  نبیلہ  حاکم  خاتون  محتسب  کی  قیادت  میں ہراسگی سے پاک کام کے ماحول کے فروغ اور  باوقار اور محفوظ دفاتر کی ترویج، خصوصاً خواتین کو  کام کی جگہ  پر  تحفط  پر  آگاہی  اور  انصاف  کی  فراہمی  پر  نمایاں  کام  انجام  دیا  گیا۔

 اسی  طرح  وومن پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2021 پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا  گیا  اور  خواتین  کو  جاءیداد  میں  حصہ  دلانے  کے  لئے  شاندار کام  ہوا۔  

حکومتوں  کے  ان  اقدمات  کے  باوجود  خواتین  آج  بھی  بے  شمار  مسائل  کا  شکارہیں۔ ہمیں  مل  کر  مزید  کوشش  کرنی  ہے  کہ  ہماری  آدھی  آبادی  ترقی  کے  عمل  کا  حصہ  بنے  کیونکہعورتوں کو ان کا جائز مقام دینا صرف انصاف ہی نہیں بلکہ قومی ترقی کی ضمانت بھی ہے۔ جب ہم عورتوں کو تعلیم، عزت، مواقع اور تحفظ دیتے ہیں تو بدلے میں ہمیں ایک مضبوط خاندان، ترقی یافتہ معیشت اور خوشحال پاکستان ملتا ہے۔

آئیے اس دن ہم عہد کریں کہ ہم خواتین کو وہ سب کچھ دیں گے جس کی وہ حقدار ہیں—

خواتین  کے حوالے  سے  پنجاب  میں  حقوق، انصاف، عمل  کی  صورتحال

صحت کا نظام یرغمال

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے