زکوٰۃ کے ہوتے ہوئے غربت کیوں؟
آپا منزہ جاوید اسلام آباد
ہر سال رمضان المبارک آتا ہے تو ہمارے معاشرے میں ایک خوبصورت منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ لوگ اپنے مال کا حساب کرتے ہیں۔ زکوٰۃ نکالتے ہیں۔ فطرانہ دیتے ہیں۔ فلاحی ادارے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ مساجد کے باہر اعلانات ہوتے ہیں۔ جگہ جگہ زکوٰۃ سینٹر قائم ہوتے ہیں۔ راشن کے تھیلے تیار ہوتے ہیں۔ مستحقین کی فہرستیں بنتی ہیں اور پھر تقسیم کا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے۔
یہ سب دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے دلوں میں رحم باقی ہے۔ ہم ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ کوئی بھوکا نہ رہے اس کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن انہی مناظر کے درمیان ایک سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے۔ اگر ہر سال اتنی زکوٰۃ دی جا رہی ہے تو غربت کم کیوں نہیں ہو رہی۔ مانگنے والے کم کیوں نہیں ہو رہے۔ راشن لینے والوں کی لائنیں چھوٹی کیوں نہیں ہو رہیں۔
ہم سب نے یہ منظر دیکھا ہے کہ راشن لینے کے لیے لمبی لمبی قطاریں لگتی ہیں۔ لوگ گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں۔ بعض اوقات گرمی میں بے حال ہو جاتے ہیں۔ کہیں دھکم پیل ہو جاتی ہے۔ کہیں جھگڑا بھی ہو جاتا ہے۔ یہ منظر صرف غربت نہیں دکھاتا بلکہ بے بسی بھی دکھاتا ہے۔ دینے والوں کا جذبہ اپنی جگہ قابل تعریف ہے لیکن لینے والوں کی مجبوری بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔
رمضان میں فری دسترخوان لگائے جاتے ہیں۔ افطار کروایا جاتا ہے۔ کھانا بانٹا جاتا ہے۔ یہ سب نیکی کے کام ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ بھوکے کو کھانا کھلانا بہت بڑا اجر رکھتا ہے۔ مگر ہمیں خود سے ایک سوال پوچھنا چاہیے۔ کیا اس طرح بے روزگاری ختم ہو جائے گی۔ کیا اس طرح زکوٰۃ کے مستحق لوگوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔
ہم خوش ہیں کہ رمضان میں لوگ کھانا کھلا رہے ہیں۔ مگر کیا بھوک صرف رمضان میں لگتی ہے۔ کیا غربت صرف افطار کے وقت محسوس ہوتی ہے۔ سال کے باقی مہینوں میں کیا ہوتا ہے۔ بجلی کے بل آتے ہیں۔ گیس کے بل آتے ہیں۔ مکان کا کرایہ دینا ہوتا ہے۔ بچوں کی فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔ دودھ خریدنا ہوتا ہے۔ بیماری کی صورت میں دوائیاں لینی ہوتی ہیں۔ یہ سب اخراجات ایک وقتی راشن یا ایک وقت کے کھانے سے پورے نہیں ہوتے۔
اصل مسئلہ صرف بھوک نہیں ہے۔ اصل مسئلہ بے روزگاری ہے۔ اصل مسئلہ مستقل آمدنی کا نہ ہونا ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس روزگار ہوگا تو وہ خود اپنا راشن خرید سکتا ہے۔ وہ اپنی ضرورتیں پوری کر سکتا ہے۔ وہ کسی لائن میں کھڑے ہونے سے بچ سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کے پاس کام نہیں تو وہ ہر سال اسی قطار میں کھڑا ہوگا۔
زکوٰۃ اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ یہ صرف مالی عبادت نہیں بلکہ معاشی نظام کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد وقتی سہارا دینا نہیں بلکہ معاشرے میں توازن قائم کرنا ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ہے۔ کسی ضرورت مند کو اس مقام تک پہنچانا ہے جہاں وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔
اسلامی تاریخ میں ایک اہم مثال بیان کی جاتی ہے۔ حضرت عمر رضی الله تعالیٰ عنہ کے دور کے بارے میں مؤرخین لکھتے ہیں کہ زکوٰۃ کا نظام اس قدر منظم اور عادلانہ تھا کہ بعض علاقوں میں مستحق تلاش کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ عاملین لوگوں کو ڈھونڈتے تھے کہ کوئی ضرورت مند ملے جسے زکوٰۃ دی جا سکے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بیت المال دیانت داری سے خرچ ہوتا تھا۔ وسائل منصفانہ تقسیم ہوتے تھے۔ لوگوں کو سہارا دے کر کھڑا کیا جاتا تھا۔
یہ مثال ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ اگر ایک دور میں غربت نمایاں حد تک کم ہو سکتی تھی تو آج کیوں نہیں ہو سکتی۔ آج وسائل پہلے سے زیادہ ہیں۔ دولت بھی زیادہ ہے۔ ادارے بھی زیادہ ہیں۔ مگر مسئلہ تقسیم کے طریقے کا ہے۔
آج زکوٰۃ زیادہ تر فوری امداد میں خرچ ہو جاتی ہے۔ کسی کو راشن دے دیا جاتا ہے۔ کسی کو نقد رقم دے دی جاتی ہے۔ یہ سب ضروری ہے مگر کافی نہیں ہے۔ اگر ہم واقعی مفلسی کو کم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔
کسی بے روزگار شخص کو اگر پھل یا سبزی کی ریڑی لگوا دی جائے تو وہ روزانہ کما سکتا ہے۔ کسی کو سائیکل دے دی جائے تاکہ وہ اس پر چیزیں بیچ سکے تو وہ خود کمائی شروع کر سکتا ہے۔ کسی خاتون کو سلائی مشین دے دی جائے تو وہ گھر بیٹھے کام کر سکتی ہے۔ کسی نوجوان کو فنی تربیت دے دی جائے تو وہ ہنر مند بن سکتا ہے۔ یہ سب کام زکوٰۃ کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں۔
جب ایک شخص کمانا شروع کر دیتا ہے تو اس کی خود داری بحال ہو جاتی ہے۔ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے ہاتھوں سے رزق کماتا ہے۔ اس کے بچوں کا مستقبل بہتر ہوتا ہے۔ اس کے گھر کا ماحول بدل جاتا ہے۔ اور آہستہ آہستہ معاشرے میں مستحقین کی تعداد کم ہو سکتی ہے۔
ہمیں قوم کو لینے کی نہیں بلکہ کمانے کی طرف لانا ہوگا۔ مدد ایسی ہونی چاہیے جو ہاتھوں کو کام دے۔ اگر زکوٰۃ کو منظم انداز میں جمع کیا جائے۔ اگر مستحقین کی درست نشاندہی کی جائے۔ اگر ایک حصہ فوری امداد کے لیے اور ایک حصہ مستقل روزگار کے منصوبوں کے لیے مختص کیا جائے تو حالات بدل سکتے ہیں۔
ریاست کا کردار بھی اہم ہے۔ اگر قومی سطح پر زکوٰۃ کا مربوط نظام ہو۔ اگر شفافیت ہو۔ اگر احتساب ہو تو وسائل صحیح جگہ پہنچ سکتے ہیں۔ مساجد کی سطح پر کمیٹیاں بن سکتی ہیں۔ محلوں کی سطح پر فہرستیں تیار ہو سکتی ہیں۔ مقامی سطح پر ہنر مندی کے مراکز قائم ہو سکتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ فری دسترخوان غلط ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ کافی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم وقتی بھوک مٹا رہے ہیں یا مستقل محتاجی ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
زکوٰۃ کی روح یہ ہے کہ لینے والا ایک






