مفادات کی سیاست — کب تک قومیں طاقتوروں کے کھیل کا ایندھن بنتی رہیں گی؟
تحریر افتخار یوسف زئی
دنیا کی سیاست کو اگر حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو ایک کڑوی سچائی سامنے آتی ہے کہ اس دنیا میں انصاف، اخلاقیات اور انسانی حقوق کے دعوے اکثر طاقتوروں کے مفادات کی چادر اوڑھ کر سامنے آتے ہیں۔ صدیوں سے دنیا میں ایک ہی کھیل جاری ہے — طاقت کا کھیل، مفادات کا کھیل۔ صرف اس کھیل کے کردار بدلتے رہے ہیں، طریقے بدلتے رہے ہیں، مگر مقصد ہمیشہ ایک ہی رہا: غلبہ حاصل کرنا اور وسائل پر قبضہ کرنا۔
تاریخ کے صفحات اٹھا کر دیکھ لیجئے، کبھی سلطنتوں کے نام پر دنیا کو غلام بنایا گیا، کبھی تہذیب کے فروغ کے نام پر کمزور قوموں کو لوٹا گیا۔ ایک زمانہ تھا جب طاقتور تلوار اور توپ کے ذریعے اپنی حکمرانی قائم کرتے تھے، مگر آج کے دور میں یہی کھیل زیادہ مہذب اور زیادہ خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے۔ اب جنگیں صرف میدانوں میں نہیں بلکہ معیشت، میڈیا، سفارت کاری اور بیانیے کی جنگ میں لڑی جاتی ہیں۔
آج دنیا کے بڑے طاقتور ممالک عالمی سیاست کو اس طرح چلا رہے ہیں جیسے کوئی شطرنج کی بساط پر مہرے چلاتا ہے۔ کہیں جمہوریت کے نام پر حکومتیں تبدیل کروائی جاتی ہیں، کہیں انسانی حقوق کے نام پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں، اور کہیں دہشت گردی کے نام پر جنگیں مسلط کی جاتی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس تمام کھیل کے پیچھے اصل محرک صرف اور صرف مفادات ہوتے ہیں۔
بدقسمتی سے کمزور قومیں اکثر اس کھیل کی قیمت چکاتی ہیں۔ ان کے وسائل لوٹے جاتے ہیں، ان کی سیاست کو کمزور کیا جاتا ہے اور ان کی معیشت کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا جاتا ہے۔ عالمی ادارے، معاشی معاہدے اور سفارتی دباؤ اکثر ایسے ہتھیار بن جاتے ہیں جن کے ذریعے قوموں کی آزادی اور خودمختاری کو خاموشی سے محدود کیا جاتا ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کئی معاشرے ابھی تک اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ جذباتی نعروں اور وقتی سیاست میں الجھ کر اپنی اصل طاقت کو کمزور کر دیتے ہیں۔ قومیں جب اندرونی اختلافات، کرپشن اور سیاسی انتشار کا شکار ہو جائیں تو بیرونی طاقتوں کے لیے ان پر اثر انداز ہونا آسان ہو جاتا ہے۔
آج کا دور صرف بندوق اور بارود کا نہیں بلکہ بیانیے اور شعور کی جنگ کا دور ہے۔ میڈیا، معلومات اور رائے عامہ وہ ہتھیار بن چکے ہیں جن کے ذریعے قوموں کے ذہنوں کو بھی فتح کیا جاتا ہے۔ اگر کسی قوم کا شعور کمزور ہو جائے تو اسے غلام بنانے کے لیے کسی فوج کی ضرورت نہیں رہتی۔
یہی وجہ ہے کہ آج سب سے بڑی ضرورت قومی شعور، اتحاد اور خودمختاری کو مضبوط بنانے کی ہے۔ قومیں صرف اس وقت باوقار اور خودمختار رہ سکتی ہیں جب وہ اپنے مفادات کو پہچانیں، اپنی معیشت کو مضبوط کریں اور اپنی سیاست کو بیرونی اثر و رسوخ سے آزاد رکھیں۔
تاریخ ہمیں بار بار یہی سبق دیتی ہے کہ دنیا میں عزت اور وقار صرف اسی قوم کو ملتا ہے جو اپنے قدموں پر کھڑی ہوتی ہے۔ جو قومیں کمزور، منتشر اور بے شعور ہوں وہ ہمیشہ طاقتوروں کے کھیل کا حصہ بن جاتی ہیں۔
لہٰذا وقت آ چکا ہے کہ ہم جذباتی نعروں سے نکل کر حقیقت کا سامنا کریں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ دنیا میں کوئی بھی طاقت کسی دوسرے ملک کے لیے ہمدردی کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتی۔ ہر فیصلہ مفادات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
اگر ہم نے آج بھی اس حقیقت کو نہ سمجھا تو آنے والے زمانے بھی ہمیں اسی طاقت کے کھیل میں مہرے بنائے رکھیں گے۔ مگر اگر ہم نے اتحاد، شعور اور خودمختاری کا راستہ اختیار کر لیا تو یہی قومیں تاریخ کا دھارا بھی بدل سکتی ہیں۔
کیونکہ تاریخ کا ایک اٹل اصول ہمیشہ زندہ رہتا ہے:
جو قومیں بیدار ہو جائیں انہیں غلام نہیں رکھا جا سکتا، اور جو قومیں سو جائیں انہیں کوئی جگا نہیں سکتا۔






