#کالم

طالبان رجیم اور شیطان الرّجیمت یسری /آخری قسط

new desing hjk

افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق

گزشتہ دو اقساط میں پاک-افغان کشیدگی کے حوالے سے نوآبادیاتی برطانوی قوت اور آزاد بھارت کے کردار کا ذکر کیا گیا تھا ۔ اس قسط میں ان عوامل کا جائزہ لیا جائے گا جن کے سبب یہ کشیدگی بظاہر لامتناہی کیوں لگتی ہے اور کیا اس کے خاتمے کا مستقبل قریب/ بعید میں کوئی امکان ہے یا نہیں ۔ دسمبر 1979 میں سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کر کے جب عوامی جمہوریۂ افغانستان کی بنیاد رکھی تو بھارت جنوبی ایشیا کا واحد ملک تھا جس نے اس تبدیلی کو فوری تسلیم کیا اور 1989 تک مسلسل اس کی حمایت کرتا رہا۔ اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ بھارت کے لیے اسلامی سے زیادہ اشتراکی / سیکولر افغان حکومت زیادہ قابلِ قبول تھی اور بعد کے واقعات سے اس کی توثیق بھی ہوتی ہے جب اس نے 1990 کے عشرے میں افغان خانہ جنگی کے دوران مجاہدین کی بجائے شمالی اتحاد/
Northern Alliance
کی کھلّم کھلّا حمایت کی ۔یوں بھارت کا اسلام-مخالف چہرہ سوائے افغانیوں کے پوری دنیا کو بے نقاب ہوتا دکھائی دینے لگا تھا۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے پوری طرح سمجھنے کی اشد ضرورت ہے ۔بھارت نے کبھی اسلامی اماراتِ افغانستان سے اس طرح دوستانہ تعلقات کی ترجیحی کوشش نہیں کی جیسے 1947 سے 1989 تک یہ کرتا چلا آیا تھا ۔یہی بھارتی خارجہ پالیسی نائن الیون کے بعد اسلامی حکومت کے خاتمے کے لیے بھی برقرار رہی ۔حتّی کہ کئی سال بعد طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بھارت نے انھیں اپنا پسندیدہ طرزِ حکومت اپنانے کے لیے قطر کے تعاون سے 2021 میں طالبان سے خفیہ مذاکرات بھی کیے ۔ اسی تسلسل میں موجودہ بھارتی پالیسی کو “حکمتِ عملی پر مبنی حقیقت پسندی” یعنی
Strategic pragmatism
ہے جس کے تحت اس نے نہایت مکاری سے طالبان کو تسلیم نہ کرتے ہوئے بھی افغانستان میں اپنی دخل اندازی برقرار رکھی ہوئی ہے ۔ یہ شواہد ثابت کرتے ہیں کہ بھارت ہمیشہ یہی کوشش کرے گا کہ افغانستان کی کوئی حکومت پاکستان سے دوستانہ تعلقات استوار نہ کر پائے ۔ اس وقت جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو ہدف بنا کر مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک کو ایران کے مقابل لا کھڑا کیا ہے ،پاک فوج کا “معرکۂ غضب للحق”ہمارے دو طرفہ تعلقات میں اہم موڑ لا سکتا ہے کیونکہ پاکستان نے ان دنوں بیک وقت امریکہ اور روس سے دوستانہ تعلقات بنانے کی پالیسی اپنا رکھی ہے ۔ اگر ہماری وزارتِ خارجہ کوئی ایسی حکمتِ عملی اپنائے تو کچھ بعید نہیں کہ افغانستان پر دونوں بڑی طاقتوں کے دباؤ سے اسے اپنی روایتی پاکستان -مخالف پالیسی تبدیل کرنی پڑ جائے ۔یہ امکان اس باعث روشن تر ہو جاتا ہے کہ پاک افواج نے بہت طویل عرصے تک تحمل دکھانے کے بعد بھارت نواز طالبان کو یادگار سبق سکھانا شروع کیا ہے ۔ طالبان ، جو صرف امریکی یا روسی اسلحے کے بل پر ہی کچھ کر سکتے تھے ، اب اس کے بغیر انھیں اپنی اوقات یاد آ گئی ہے ۔ افغانوں کے جذبۂ مزاحمت کی بابت جتنی مبالغہ آرائی ہوتی آئی ہے ، اس کی اصلیت :
جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
کے مصداق سب کے سامنے آ گئی ہے اور مصنوعی طور پر پھُلائے گئے پندار کے اس غبارے سے ہوا نکالنا بہت ضروری تھا ۔
تاہم اس سلسلے میں بظاہر واحد اور کافی چونکا دینے والی رکاوٹ بھارت اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے عسکری و معاشی معاہدوں کا امکان ہے جو دونوں ملکوں کے سربراہانِ مملکت کی حالیہ ملاقات سے پیدا ہوا ہے۔ ممکن ہے یہ نئے علاقائی واقعات پاکستان کے لیے امریکہ کی جانب سے تنبیہی اشارہ ہوں کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر زیادہ توجہ دینے کی بجائے افغان پروردہ دہشت گردی کے سیلاب کے آگے مضبوط بند باندھنے کی عملی کوششیں جاری رکھے ۔ اس امر کی جانب اس لیے بھی دھیان جاتا ہے کہ یکم مارچ 2026 کو ایرانی مرکزی قیادت کے قاتلانہ خاتمے کے باضابطہ اعلان کے بعد کراچی اور چند دیگر شہروں میں امریکہ کے خلاف پر تشدد احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ ایسے حالات میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کے دورۂ روس کو موخر کرنا اسی سلسلے کی کڑی دکھائی دیتا ہے ۔گویا ایک بار پھر ہماری وزارتِ خارجہ کے لیے سخت امتحان کا وقت ہے ۔ فی الوقت اس سے زیادہ اندازہ لگانا دشوار ہے کیونکہ ابھی امریکہ-ایران کشیدگی کے ختم/ زیادہ ہونے کے ساتھ متاثرہ عرب/ خلیجی ممالک کے ردِ عمل اور اس کے نتائج کا انتظار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے