خدمت کی روشن شمع اور عزمِ نو کی علامت۔ ثناء اللہ گھمن
منشاقاضی حسبِ منشا
کچھ شخصیات اپنے نام سے نہیں، اپنے کام سے پہچانی جاتی ہیں۔ وہ عہدوں کے محتاج نہیں ہوتیں بلکہ عہدے اُن کی نسبت سے معتبر ٹھہرتے ہیں۔ ثناء اللہ گھمن ایسی ہی ایک درخشاں اور باوقار شخصیت ہیں جنہوں نے سماجی بہبود، صحتِ عامہ اور انسانی خدمت کے میدان میں اپنے اخلاص، بصیرت اور مستقل مزاجی سے ایک زندہ مثال قائم کی۔ وہ محض ایک منتظم نہیں بلکہ ایک عزم آفریں راہنما، ایک باوقار مفکر اور ایک متحرک سماجی کارکن ہیں۔
ثناء اللہ گھمن نے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ یہی ادارہ ان کے فکری شعور اور سماجی آگہی کی آبیاری کا سرچشمہ بنا۔ علمی تربیت نے اُن کے اندر ایک وسیع النظر اور حقیقت پسند شخصیت کو جنم دیا جو معاشرتی مسائل کو محض دیکھتی نہیں بلکہ ان کے حل کے لیے عملی جدوجہد کو شعار بناتی ہے۔
2002 میں انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن میں بطور ڈائریکٹر آپریشنز کیا۔ یہ منصب محض انتظامی ذمہ داری نہ تھا بلکہ ایک ایسے مشن کا نقطۂ آغاز تھا جس کا مقصد عوام میں صحت کے شعور کو بیدار کرنا اور امراضِ قلب جیسے مہلک مسائل کے خلاف مؤثر جدوجہد کرنا تھا۔ اُن کی قیادت میں ادارے کی فعالیت، وسعت اور اثر پذیری میں نمایاں اضافہ ہوا۔
بطور جنرل سیکرٹری PANAH، ثناء اللہ گھمن نے تنظیم کو محض ایک این جی او کے دائرے سے نکال کر ایک سماجی تحریک کی صورت دی۔ اُن کی حکمتِ عملی میں آگاہی، پالیسی سازی پر اثراندازی، میڈیا مہمات اور ادارہ جاتی ہم آہنگی جیسے پہلو شامل ہیں۔ وہ اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ صحت محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی ترجیح ہے۔
وہ PANAH کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن ہونے کے ساتھ ساتھ ہارٹ ہاؤس کی کور کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔ ماہنامہ ہارٹ نیوز میگزین کے ایڈیٹر اور ایڈیٹوریل بورڈ کے رکن کی حیثیت سے اُنہوں نے صحت سے متعلق معلومات کو عام فہم اور مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
بطور میڈیا ایڈوائزر پاکستان کڈنی پیشنٹس ایسوسی ایشن، انہوں نے گردوں کے مریضوں کے مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کیا۔ اسی طرح ایڈوائزر پیس فاؤنڈیشن، سینئر ممبر ڈسٹرکٹ کونسل آف سوشل ویلفیئر، ممبر صوبائی کونسل آف سوشل ویلفیئر اور پنجاب گورنمنٹ کے ویمن ویلفیئر بورڈ کے ممبر کی حیثیت سے اُن کی خدمات اس امر کی شاہد ہیں کہ وہ معاشرتی بہبود کو ہمہ جہت تناظر میں دیکھتے ہیں۔
ثناء اللہ گھمن کی متحرک کاوشوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے اُنہیں متعدد اعزازات سے نوازا۔ ان کی سماجی خدمات کے اعتراف میں انہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کی جانب سے ’’پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ سے سرفراز کیا گیا۔ یہ اعزاز دراصل اُن لاکھوں دلوں کی دھڑکنوں کا اعتراف ہے جن کے لیے انہوں نے اپنی توانائیاں وقف کر رکھی ہیں۔
ثناء اللہ گھمن کی شخصیت میں عزم کی پختگی، گفتگو میں شائستگی، فیصلوں میں بصیرت اور عمل میں دیانت نمایاں ہے۔ وہ اختلاف کو دشمنی نہیں بناتے بلکہ مکالمے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اُن کے نزدیک خدمتِ خلق عبادت ہے اور انسانیت سب سے بڑی شناخت۔
ثناء اللہ گھمن ایک فرد نہیں، ایک فکر ہیں؛ ایک عہد نہیں، ایک تسلسل ہیں۔ اُن کی زندگی اس بات کی دلیل ہے کہ اگر نیت خالص ہو اور ارادہ مضبوط، تو محدود وسائل بھی بڑے خوابوں کی تعبیر بن سکتے ہیں۔ وہ اُن چراغوں میں سے ہیں جو خود جل کر دوسروں کے لیے روشنی کا سامان کرتے ہیں — اور یہی اصل کامیابی ہے۔ میں ممنون احسان ہوں ملک کے نامور صحت عامہ کے امام ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا صاحب کا جن کی توسط سے مجھے چوہدری ثنا اللہ گھمن اور ممتاز صحافی کالم نگار ارشد شاہد جیسے عظیم انسانوں سے تعلق خاطر پیدا ہوا جو میری متاعِ گراں بہا ہیں ۔ ایسے لوگوں کا وجود کسی بھی معاشرے میں ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا ایک مرنجاں مرنج شخصیت ہیں وہ بولتے نہیں موتی رولتے ہیں ان کا اندازِ بیان سیدھا دل میں اتر جاتا ہے اس لیئے کہ وہ دل سے بات کرتے ہیں اور دل سے نکلی ہوئی بات اثر رکھتی ہے
فقط اسی شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں
میں تیرا حسن تیرے حسنِ بیاں تک دیکھوں
ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا صاحب کے ساتھ اپنا یہ تعلق میرے لیئے بہت بڑی سعادت اعزاز اور شرف کی بات ہے
یہ ناز ہے کہ تیری آرزو میں جیتے ہیں
یہ فخر ہے کہ تیری ذات سے تعلق ہے
چوہدری ثنا اللہ گھمن کا ہوم ورک پہاڑ جتنا ہے اور انہوں نے کبھی اپنی ذاتی تشہیر نہیں کی اس لیئے کہ ان کا شمار مشتہرین میں نہیں مشاہیر میں ہوتا ہے ۔ لوگوں کا ہوم ورک میں نے ذرے جتنا دیکھا ہے لیکن اس کی پبلسٹی وہ پہاڑ جتنی کرتے ہیں اور ان کے قریب جا کر دیکھا تو
رخِ روشن کا نہ کوئی پہلو روشن نکلا
میں جسے چاند سمجھتا تھا وہ جگنو نکلا
اور یہ وہ لوگ ہیں جو دور سے بھی اور قریب سے بھی آفتاب و مہتاب ہیں ۔ ۔۔رحمٰن فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز کے بعد چوھدری ثناء اللہ گھمن نے متاثر کیا ہے ۔ مولائے کریم گھمن صاحب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ میں ان کی کامرانیوں کے لیئے ہمیشہ رفتارِ کن کی دعا دیتا رہوں گا ۔ آخر میں جناب ارشد شاہد کا مکرر ممنون ہوں جن کی مشاورت مجھے ہر لمحہ حاصل ہے۔
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ میرے اس دعا کے بعد






