انڈیا کو اپنے گھر میں عبرتناک شکست’ فنی اشتہار اور کپتان کے غلط فیصلے
أج کا اداریہ
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ کے سپر 8 مرحلے میں جنوبی افریقہ نے انڈیا کو 76 رنز سے شکست دے دی۔ جس پر کرکٹ شائقین ‘ سابق کرکٹرز بھڑک اٹھے۔سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان أگیا
اتوار کے روز جنوبی افریقہ کی جانب سے دیے گئے 188 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انڈین ٹیم 111 رنز بنا کر آل آؤٹ ہو گئی۔
جنوبی افریقہ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز بنائے تھے۔یادرہے انڈین ٹیم ایونٹ مین اب تک ناقابل شکست تھی۔ لیکن اس اھم مقابلے میں شکست سے دوچار ہوکر نہ صرف دوقیمتی پوائنٹس سے محروم ہوگئی بلکہ ٹیم انڈیا کا غرور بھی خاک میں مل گیا۔
دوسری جانب ناقابل شکست جنوبی افریقہ کی فتوحات کا سلسلہ جاری ہے۔
تو اس میچ میں کوئی ان ہونی چیز نہیں ہوئی مگر اس کے باوجود اس میچ کے چرچے سوشل میڈیا پر ایک اشتہار کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔
یہ اشتہار سٹار سپورٹس کی جانب سے پیش کیا گیا کہ جس میں ایک انڈین اور ایک جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے ڈمی کھلاڑیوں کو دیکھایا گیا۔
اس اشتہار میں یہ دونوں کھلاڑی ایک ہوٹل میں ایک ہی ٹیبل پر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں، مگر جب انڈین کھلاڑی ہال میں پڑے ایک ہی کپ کیک کی جانب بڑھتے ہیں تو جنوبی افریقہ کا کھلاڑی بھاگتے ہوئے اُس واحد کپ کیک کو اُٹھانے اور انڈین کھلاڑی سے معذرت کرتا ہے اور انڈین کھلاڑی کو ’سوری‘ کہتا ہے۔
مگر آگے سے پلٹ کر انڈین کھلاڑی کہتا ہے کہ ’سوری ٹو یو‘ جس پر جنوبی افریقہ کا کھلاڑی کہتا ہے مگر ایسا کیوں تو انڈین کھلاڑی انھیں یاد کرواتا ہے کہ سنہ 2024 میں آپ کو ہم نے فائنل میں شکست دی تھی اس لیے سوری۔
پھر انڈین کھلاری کہتا ہے کہ ’کپ تو ہم نے ہی جیتا تھا اور آنے والا سپر ایٹ کا میچ بھی ہم ہی جیتیں گے، اس لیے آپ کپ کیک رکھ لیں۔‘
بس اتنا سُنتے ہی جنوبی افریقہ کے کھلاڑی کے گلے میں کیک پھنس جاتا ہے اور انڈین کھلاڑی کہتا ہے کہ او ہو ’چوکنگ‘۔ (یاد رہے کہ جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کو چوکرز کہا جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اہم ایونٹ کی اکثر اہم میچز ہار جاتی ہے۔
اب معاملہ یہاں تھما نہیں ہوا یہ کہ سٹار سپورٹس کی جانب سے انڈیا کی جنوبی افریقہ کے ہاتھوں سپر ایٹ مرحلے کے میچ میں شکست کے فوراً بعد اس اشتہار کو غائب تو کر دیا گیا مگر کمان سے نکلا تیر کہاں واپس آتا ہے۔
اس میچ میں شکست کے بعد سٹار سٹورٹس کے اس اشتہار کو لگا کر دی سکن ڈاکٹر 13 نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’جنوبی افریقہ نے انڈیا کو ایک یک طرفہ میچ میں شکست دی اور سٹار سپورٹس نے اس مخصوص مقابلے کے لیے بنائے گئے توہین آمیز اشتہار کو ہٹا دیا۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’شاید یہ واقعہ ہمارے اشتہار بنانے والوں کو یہ سبق ضرور دے جائے گا کہ تکبر کرنا درست نہیں۔‘
شورتی سلوا پانڈا نامی ایک اور صارف نے لکھا کہ ’میچ سے پہلے کپ کیک کے اشتہار میں ’جنوبی افریقہ کے چوکر ہونے کا مذاق اُڑایا گیا اور اصلی میدان میں انڈین نے 111 رنز بنائے اور 76 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’کھیل کے اصل میدان میں ناکامی کی بڑی وجہ خود اعتمادی کا حد سے زیادہ ہونا تھا۔ بڑی بڑی باتیں، زبردست ہائپ، لیکن کارکردگی صفر۔‘
سوشل میڈیا پر ہمیں ایک جانب تو سٹار سپورٹس کے اشتہار کی بات ہوتی رہی تو دوسری جانب کپتان سوریہ کمار یادیو کے فیصلوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اکشر پٹیل کو نائب کپتان ہونے کے باوجود کیوں باہر رکھا گیا۔
ایک اور نکتہ جس پر بہت زیادہ بحث ہوئی وہ یہ تھی کہ انڈیا کے ٹاپ چھ بلے بازوں میں سے پانچ بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے تھے۔ میچ کے دوران کمنٹری پینل نے بھی اسے ٹیم انڈیا کی ناقص حکمت عملی کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ انڈین ٹیم کے اس فیصلے کی وجہ سے مخالف ٹیم کے گیند بازوں کو حکمت عملی بنانے کا ایک بہتر آپشن مل گیا اور انھیں اپنی بولنگ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کرناپڑی۔
ایک اور سوال کہ جب جسپریت بمراہ نے اپنے پہلے دو اوورز میں دو وکٹیں لے کر جنوبی افریقہ کو بیک فٹ پر دھکیل دیا تھا تو پھر انھیں دوبارہ باؤلنگ پر لانے میں اتنی دیر کیوں کی گئی۔
میچ کے بعد کپتان سوریہ کمار یادیو نے کہا کہ ’ہم نے ان کے تین بلے بازوں کو 21 رنز پر پویلین بھیج کر اچھی شروعات کی لیکن انھوں نے 7ویں سے 15ویں اوور کے درمیان اچھی بلے بازی کی۔‘
اب صورت حال کچھ اس طرح ہے کہ
ٹیم انڈیا پر سپر-8 کے اگلے دو میچ نہ صرف جیتنے کا دباؤ ہوگا، بلکہ بہتر رن ریٹ بھی رکھنا ہو گا۔
یہی نہیں بکہ انڈیا کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے دوسری ٹیموں پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔
انڈیا کے اگلے دو میچ ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے خلاف ہیں۔ اگر انڈیا اپنے دونوں میچ جیت جاتا ہے اور جنوبی افریقہ بھی اپنے دونوں میچ جیت لیتا ہے تو ٹیم انڈیا کے 4 پوائنٹس ہوں گے اور جنوبی افریقہ کے 6 پوائنٹس ہوں گے، جس سے ٹیم انڈیا کے لیے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنا آسان ہو جائے گا۔
اگر انڈیا کو ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو عالمی کپ سے مکمل طور پر باہر ہونے کا خطرہ ہے۔ اگر انڈیا اپنے دونوں میچ جیت جاتا ہے اور جنوبی افریقہ ایک ہار جاتا ہے تو دونوں ٹیموں کے 4-4 پوائنٹس ہو جائیں گے۔






