#کالم

ہر چتا کی التجا دھرتی کی چِنتا کیجیے

new desing hjk

افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق

گزشتہ کئی عشروں سے تمام عالمِ اقوام بالعموم اور طاقتور صنعتی ممالک بالخصوص عالمی موسمیاتی و ماحولیاتی بگاڑ ،فضائی آلودگی اور گلوبل وارمنگ
کی بابت شدید پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ صنعتی ترقی نے انسانی زندگی کے لیے بے شمار آسائشیں مہیا کرتے ہوئے زبردست فضائی آلودگی اور اس سے جُڑے سنگین مسائل کو بھی جنم دیا ہے ۔ اس بابت تقریباً سبھی تجزیہ کار صنعتوں ،گاڑیوں اور ایندھن جلانے سے خارج ہوتا ہوئے دھوئیں وغیرہ کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں اور ایسا کرنا اپنی جگہ بہت اہم ہے ۔ تاہم ایک نہایت اہم پہلو جس کی طرف شاید بالکل دھیان نہیں دیا جاتا ، وہ ہے لاشوں کو جلانے کی رسم کا اس ماحولیاتی بگاڑ میں کردار: یعنی بھارت وغیرہ میں انتم سنسکار کا سلگتا ہوا موضوع ۔ ہندو دھرم اور کچھ اور مذاہب سے وابستہ افراد کی موت پر ان کی نعش سوزی کی رسم صدیوں سے جاری ہے اور اس کے لیے جو چتا تیار کی جاتی ہے اس میں بہت سی خشک لکڑی استعمال کی جاتی ہے ۔ اس لکڑی پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگائی جاتی ہے اور یہ آگ تب تک جلی رہتی ہے جب تک پورا جسم راکھ نہ بن جائے ۔ مردے کو اگلے جنم کے لیے تیار کرنے کے اس عمل کے اختتام تک فضائی آلودگی تشویش ناک حد تک جنم لے چکی ہوتی ہے ۔
صرف بھارت میں اوسط اموات کی شرح دیکھی جائے تو کئی ہزار مُردوں کو روزانہ جلایا جاتا ہے کیونکہ وہاں کُل آبادی کے 75 سے 80 فیصد کے قریب ہندو ہیں ۔ بھارت کے علاوہ دیگر کئی ممالک میں لاشیں جلانے کی رسم عام ہے جن میں دیگر ایشیائی اور کچھ یورپی ممالک شامل ہیں ۔ اگر ان تمام ممالک کے اعدادوشمار یکجا کیے جائیں تو روزانہ نجانے کتنی ہزار لاشیں آلودگی کا سبب بنتی ہیں۔اس کے مقابلے میں تدفین کا عمل کہیں زیادہ بے ضرر ہے۔
ایک انسانی جسم جلانے سے کوئی پانچ سو پاؤنڈ تو صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ دھوئیں ، جلتی لکڑی کے ذرات اور مزید کچھ شدید مضرِ صحت مادوں کا اخراج بھی کرۂ ہوائی میں مختلف گیسوں کے تناسب کو بری طرح متاثر کرتا ہے ۔ صنعتوں سے نکلنے والے خطرناک کیمیکلز کے ساتھ یہی زہریلے عناصر ہوا کے علاوہ مٹی کے ذریعے آبی ذخائر میں شامل ہو کر انھیں بھی آلودہ کرتے ہوئے انسانی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ عالمی برادری کی اس ضمن میں مسلسل خاموشی بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے ۔ سو یہ ایک ناگزیر امر ہوگا کہ ماحولیاتی بگاڑ میں مُردہ سوزی کے کردار پر سنجیدہ گفتگو کر کے اس کے ہولناک نتائج کو سامنے لایا جائے اور اس بابت ممکنہ متبادل طریقوں پر کم از کم غور تو کیا جائے ۔
اگر ستی اور نوزائیدہ بچیوں کو زندہ دفن کرنے کی غیر انسانی رسموں پر انیسویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے کامیابی سے مستقل پابندی لگا دی تھی تو اکیسویں صدی میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے والا آزاد بھارت اس سنجیدہ مسئلے کے حل کی بابت کوئی پیش رفت کرنے پر کیوں آمادہ نہیں ہوگا؟ کاش “ ہندوتوا” سے منسلک انتہا پسندی کو ترک کر کے مودی سرکار جو عالمی سیاسی بساط پر پے در پے مات ہونے کا ریکارڈ قائم کرنے کی طرف مائل ہے ، اپنی اس داخلی مذہبی رسم کے خارجی اثرات کی طرف بھی کچھ توجہ کر لے ۔تاریخی شواہد کے مطابق ہندو مت یوں بھی کافی لچکدار ہے۔ بھارت کو اپنی سائنسی تحقیاتی سرگرمیوں پر بھی فخر ہے ۔ اس حوالے سے چتاؤں پر کسی قسم کی ری سائیکلنگ کی بریسرچ کرنے سے ہندو سائنسدانوں کے بنیادی عقائد پر کوئی اثر پڑنے کا امکان نہیں ۔ہندوستانی حکومت مغربی ممالک کے سائنسدانوں کی خدمات بھی حاصل کر سکتی ہے کیونکہ منفی ماحولیاتی تبدیلی کرۂ ارض پر بسنے والی تمام اقوام کا بلالحاظِ مذہب و ثقافت مشترکہ اور گمبھیر مسئلہ ہے۔ یہ زمین کسی خاص مذہب کے پیروکاروں کی ضرر رساں رسوم کی بھینٹ نہیں چڑھائی جا سکتی ۔ بھارت اور دیگر ممالک جہاں جہاں چتا کا اہتمام کیا جاتا ہے ، ان سب پر عالمی ماحولیاتی اداروں کو دباؤ ڈالنا چاہیئے کہ وہ کوئی ماحول دوست طریقہ دریافت کریں تاکہ زمین کی اصلی شکل برقرار رکھنے کا شُدھ عمل جاری رہ سکے ۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے