#کالم

مثبت صحافت کا نیا روپ 

Untitled 5

احساس کے انداز  تحریر :۔ جاویدایازخان 

شہر کی سڑک پر  ٹوٹا ہوا یا پڑا   ہوا سیوریج کے  گٹر کا کھلا ڈھکن بظاہر ایک معمولی سا منظر ہوتا ہے ۔لوگ گزرتے رہتے ہیں ،نظریں چرا لیتے ہیں اور زندگی آگے بڑھ جاتی ہے مگر کبھی کبھی کوئی ایک شخص رک جاتا ہے ۔وہ کیمرہ یا موبائل نکالتا ہے تصویر لیتا ہے اور سوشل میڈیا پر سوال اٹھاتا ہے اور پھر اس سوال کو اس وقت تک زندہ رکھتا ہے جب تک جواب سامنے نہ آجاۓ جواب آنے پر متعلقہ ادارے یا شخص کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور شکریہ ادا کرتا ہے ۔جی ہاں عبداللہ عادل جیلانی ہمارے دوست صحافی بھی یہی کرتے ہیں ۔روزنامہ نواۓ وقت ملتان کے بہاولپور کے لیے اسپیشل رپورٹر  عبداللہ عادل جیلانی سے میرا بڑا پرانہ،خاندانی اور بردارانہ تعلق کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے ان کے والد صاحب بھی ملک کے مشہور صحافی ہوا کرتے تھے اور ہمارۓ اباجی کے دیرینہ دوست بھی تھے ۔مجھ سے عمر میں گو بہت چھوٹے ضرور ہیں مگر ان کا  صحافتی قد بہت بڑا ہے کیونکہ صحافت انہیں ورثے میں ملی ہے ۔ہمارے شہر بہاولپور  کی گلیوں اور سڑکوں میں یہ کردار عبداللہ عادل نے ادا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے سیاست کے شور اور بیانات کی گرد سے ہٹ کر شہر کی گلیوں میں پڑے کوڑے ،ٹوٹی سڑکوں ،سڑیٹ لائٹ اور کھلے اور ابلتے گٹروں کو اپنی خبر بنایا ۔عادل جیلانی نے ان ڈھکنوں کو موضوع بنایا جو صرف لوہے کے نہیں تھے بلکہ ہماری اجتماعی بےحسی کے وہ ڈھکن تھے جو ہر لمحہ کسی حادثے کا باعث بن سکتے تھے ۔انہوں نے شہر کے ان مسائل کو موضوع بنایا جو روزمرہ زندگی کومتاثر کرتے ہیں ۔انہوں نے ویڈیو بنائیں اور بار بار بنائیں اور متعلقہ اداروں اور حکام کو ٹیگ کیا ،افسران اور عوام کو متوجہ کیا،اور آخر کار وہ دن آیا جب وہی گٹر بند ہوۓ اور کوڑے کے ڈھیر صاف ہو گئے اور شہریوں نے یہ تبدیلی اپنی آنکھوں سے دیکھی ۔یہ ایک چھوٹی سی کامیابی دکھائی دےسکتی ہے مگر دراصل یہ شہری شعور کی بڑی جیت ہے اور بڑا  پیغام ہے کہ اگر آوازمستقل ہو تو اثر ضرور ہوتا ہے ۔جس کے حل پر وہ کھلے دل سے توجہ دینے والے  متعلقہ افسران اور اداروں کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی کوششوں کو خراج تحسین بھی پیش کرتے ہیں ۔

ہمارے شہر وں میں صفائی ،سڑیٹ لائٹ اور سڑکوں کی مرمت کی ذمہداری بلدیاتی اداروں اور صفائی ستھرائی کے لیے قائم ویسٹ مینجمنٹ جیسی مختلف کمپنیوں پر ہوتی ہے۔مگر ادارۓ تب ہی حرکت میں آتے ہیں جب کوئی ان کی نشان دہی کرۓ ۔صحافت کا اصل منصب بھی یہی ہے کہ مثبت اور تعمیری نشاندہی کی جاۓ ۔ ان کی یہ مہم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صحافت صرف اسمبلی کی سیڑھیوں یا جلسے جلوس کی کوریج تک محدود نہیں ۔اصل صحافت گلی کے موڑ پر کھڑے اس بچے کے تحفظ میں ہے جو کسی بھی وقت کھلے گٹر میں  گر سکتا ہے ۔اصل صحافت اس بوڑھی ماں کے لیے ہے جو کوڑے کے تعفن میں سانس لینے پر مجبور ہے ۔گویا اصل صحافت  وہ ہے جو خطرے کی نشان دہی کرۓ اور حل تک ساتھ کھڑی رہے ۔یقینا” یہ کوئی خبر نہیں تھی بلکہ ایک ذمہدار شہری کی مستقل مزاجی بھی تھی۔وہ کہتے ہیں کہ عارضی نہیں مستقل حل ہی بہاولپور کی عوام کو ایسی پریشانیوں سے نجات دلا سکتا ہے ۔جس کے لیے بہاولپور شہر میں ایک نئے میگا سیوریج سسٹم کی تعمیر ضروی ہو چکی ہے ۔

کہتے ہیں کہ بڑے مسائل ہی بڑی توجہ کے مستحق ہوتے ہیں  مگر حقیقت یہ ہے کہ شہروںکی زندگی چھوٹے چھوٹے نظم وضبط سے قائم رہتی ہے ۔عبداللہ عادل نے انہی ” نظر انداز شدہ "مسائل  کو  موضوع بنا کر ثابت کیا کہ اصل صحافت خبروں کی سرخیوں میں نہیں بلکہ عوامی مفاد اور بہتری سے جڑی ہوتی ہے ۔برخوردار عبداللہ عادل جیلانی نے ثابت کیا کہ ویڈیو کی طاقت محض وائرل ہونے میں نہیں بلکہ مسئلہ حل کروانے میں ہوتی ہے ۔انہوں نے سکھایا کہ کیمرہ اگر دیانت کے ساتھ استعمال ہو تو وہ کسی بھی ادارےیا نظام کو متوجہ کرکے حرکت میں لا سکتا ہے ۔انکی جدوجہد ہمیں یاددلاتی ہے کہ تبدیلی کے لیے ہمیشہ بڑے نعروں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی ایک ڈھکن ،ایک گندگی کا ڈھیر ،ٹوٹی سڑک یا ایک بجھا ہوا بلب بھی تبدیلی کی علامت بن جاتا ہے ۔یہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ انہوں نے ہمیں انفرادی اور اجتماعی ذمہداری کا سبق بھی دیا ہے کہ اگر ہر محلے یا سڑک سے آواز اٹھے اور اگر ہر گلی سے کیمرہ سوال کرۓ تو شاید ہمارے شہر واقعی بدل سکتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ "اگر آپ کے علاقےمیں گٹر کا ڈھکن غائب ہے یا خطرناک حالت میں ہے اور گٹر وں سے پانی باہر نکل رہا ہے یا پھر کوئی ناجائزتجاوازت ہیں تو اپنے مکمل تعارف کے ساتھ ان سے رابطہ کریں وہ اپکی آواز اعلیٰ حکام تک ضرور پہنچائیں گے "۔یقینا”مثبت  نشاندہی ہی ان چھوٹے چھوٹے مسائل پر توجہ دلا سکتی ہے ۔

میں اپنے اس دوست صحافی کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں یاد دلایا کہ صحافت ابھی زندہ ہے اور صحافت کا مثبت کرادر ابھی باقی ہے ۔ایسے نوجوان صحافی معاشرۓ کی امید ہیں ۔وہ ہمیں ہماری ذمہداری کا احساس دلاتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ اگر مثبت کوشش کی جاۓ تو ایک ویڈیو بھی تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے ۔مجھے امید ہےکہ یہ نوجوان اسی ہمت اور استقامت سے عام لوگوں کے مسائل اجاگر کرنے کا فریضہ ادا کرتا رہے گا ۔میری استدعا بھی ہے کہ نشاندہی کا یہ سفر شہر کی فیصل باغ   جیسی نئی کالونیوں کی جانب بھی ضرور کریں جہاں تمام تر ٹیکس ادا کرنے کے باوجود  نہ بلدیہ پہنچ پاتی ہے ،نہ "واسا "ہی اس علاقے کی ذمہ داری لیتا ہے اور نہ ستھراپنجاب ہی وہاں پہنچتا ہے اور جہاں ہر کام اپنی مدد آپ کے تحت ہی ہوتا ہے ۔جیل روڈ پرناجائز تجاوازات ، شادی گھروں کی پارکنگ اور بہاولنگر کے لیے جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ کی تیز رفتاری اور بےہنگم ہارن کی آوازیں بھی ان  کی توجہ کے منتظر ہیں ۔

مثبت صحافت کا نیا روپ 

مثبت صحافت کا نیا روپ 

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے