پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن قسط:20
(شاہد بخاری)
اس کے نام
صفحات: 248 سرورق:اسلم کمال غزلیات:110 منظومات:3
اشاعت:2014 ثنائی پریس سرگودہا
انتساب:
سبھی جسم و جاں کی ریاضتیں
سبھی چشمِ تر کی امانتیں
لبِ خستہ جاں کی لطافتیں
سبھی دست و پا کی کرامتیں
تری اک نگاہ پہ وار دوں
مرے گل عذار تری قسم
مرے فکر و فن کے گل و سمن
مری شاعری کی کرن کرن
مرے حرف کا سبھی بانکپن
مرے جذب و شوق کی ہر پھبن
تری اک نگاہ پہ وار دوں
مرے گل عذار تری قسم
ممتاز اردو اور پنجابی شاعرروحی کنجاہی اپنے مضمون ”حسن، محبت اور زندگی کا شاعر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال“میں لکھتے ہیں:
”آپ کا تازہ شعری مجموعہ ”اُس کے نام“ ملا، عرض ہے کہ میں نے اس کا مطالعہ بڑی گہرائی سے کیا ہے۔ مجھے ان کا کلام پڑھ کر محسوس ہوا ہے کہ وہ ایک قادر الکلام اور جواں فکر شاعر ہیں،ان کا مشاہدہ کچھ اتنا عمیق اور گہرا ہے کہ کسی بڑے بینا شاعر کا بھی کیا ہو گا۔ وہ بظاہر نابینا ہیں مگر ان کا ذہن، سینہ، نس نس اور حرف حرف روشن و تابندہ ہیں۔ ان کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں انسانی نفسیات، جذبات و احساسات کا عمیق ادراک حاصل ہے۔ ان کا اسلوب دلکش اور اظہار خوبصورت ہے۔ وہ حسن، محبت اور زندگی کے شاعر ہیں، انہوں نے چھوٹی بحروں میں سادہ اور عام فہم الفاظ میں بڑی پر تاثیر شاعری کی ہے، ان کا کلام سہلِ ممتنع کی نہایت عمدہ مثال ہے۔
”از دل خیزد و بر دل ریزد“
والا سلسلہ ہے، انہوں نے نئی اور لمبی ردیفوں والی زمینیں بھی تراشی ہیں،نئی اور لمبی ردیفوں کو نہ صرف بخوبی نبھایا ہے بلکہ ان میں خوبصورت اور پر تاثیر اشعار بھی نکالے ہیں جنہیں پڑھ کر ان کی قادر الکلامی کا قائل و معترف ہونا پڑتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان کا کلام اہلِ نظر سے مدتوں داد و تحسین حاصل کرتا رہے گا“
معروف نعت گو اور غزل گو شاعرنسیمِ سحر اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں:
”حقیقت یہ ہے کہ مَیں خود بھی اُن کی شاعری کے علاوہ ان کی نثری تخلیقات، اُن کی ادبی سرگرمیوں، اُن کی ادارتی کاوشوں اور اُن کی محفل آرائیوں کو دیکھ دیکھ کر گذشتہ کئی مہینوں سے اُن کے بارے میں لکھنا چاہ رہا تھا۔اب اُن کی کتاب جو ”اُس کے نام“ سے شائع ہو رہی ہے، ظاہر ہے کہ’اُس‘ کے نام ہے، میرے نام نہیں، مگر یہی کیا کم ہے کہ قرعہء فال بنامِ منِ دیوانہ زدند!
عموماًکسی بھی شاعر یا ادیب کی زود گوئی کواُس کی تخلیقی صلاحیتوں کے لئے نقصان دِہ سمجھا جاتا ہے، مگر یہ عمومی کلیہ ہر تخلیق کار پر منطبق کرنا بھی درست نہیں ہوتا۔ڈاکٹر شیخ محمد اقبال وہ واحد شخصیت نہیں ہیں جو اس کلیئے سے مستثنیٰ قرار دئیے جا سکتے ہوں، مگر ایسی شخصیات کی تعداد اِتنی زیادہ بھی نہیں ہے کہ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال اُن میں گم ہو کر رہ جائیں۔چنانچہ اُن کی شاعری، جو گذشتہ تین دہائیوں سے ’سفید چھڑی“ کی وساطت سے یا دیگر کتب کے ذریعے میرے مطالعے میں رہی ہے، مُجھے ان کے ارتقائی اور تخلیقی سفر سے مسلسل روشناس کراتی رہی ہے، بلکہ اگر مَیں یہ کہوں تو غلط نہ ہو گا کہ اُن کی زود گوئی اُن کی مجبوری ہے کہ وہ اپنے جس ارتقائی سفر پر تیزی سے گامزن ہیں اتنی ہی تیزی سے اُس کا اظہار بھی کریں۔ یہاں شاید یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ جس تخلیق کار کے پاس کہنے کے لئے واقعی کچھ ہوتا ہے، اس کے تخلیقی سفر کی رفتار کم ہو یا تیز، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کو اگر اللہ تعالیٰ نے زود گوئی میں اپنا مسلسل اظہار کرتے رہنے کی صلاحیت دی ہے تو ساتھ ہی یہ خوبی بھی دی ہے کہ وہ اپنے اشعار میں فنی تکمیلیت کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ تازہ کاری اور نئے موضوعات کو سہلِ ممتنع سے آراستہ بھی کرتے ہیں۔ایں سعادت بزورِ بازو نیست!۔۔ میں نے یہ خاص طور پر محسوس کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے عہد کے ساتھ چل رہے ہیں بلکہ اپنے ساتھ بہت سے دیگرچلنے والوں کی رہنمائی بھی کر رہے ہیں۔خاص طور پر غزل میں اُن کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے لئے زیادہ ترپہلے سے یکسر غیر مستعمل قافیے ردیف تلاش کر کے لاتے ہیں اور یوں وہ اپنے اظہار کے لئے ایک نیا افق تلاش کر لیتے ہیں‘
پروفیسر ڈاکٹر خالد اقبال کی رائے میں:
”پروفیسر ڈاکٹر شیخ اقبال، اردو، پنجابی، انگریزی اور فارسی کے شاعر ہی نہیں بلکہ ایک بہت عمدہ نثر نگار اور نقاد بھی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ میری نظر میں ایک ادارہ ہیں ایک تحریک ہیں اور ایک نصب العین ہیں۔ میں نے انہیں قریب سے دیکھا ہے گزشتہ 20-25 سالوں سے ماہنامہ سفید چھڑی اور دیگر جرائد میں بڑے شوق سے پڑھ رہا ہوں۔ لیکن میرے اور ان کے تعلق خاطر تعلقِ ذہنی میں بے پناہ اضافہ اس وقت ہوا جب مجھے ریڈیو پاکستان سرگودہا میں تعینات کیا گیا بس جووقت بچتا وہ ان کے ساتھ گزرتا۔ میں نے انہیں نابیناؤں کی فوزو فلاح کے کاموں میں اس طرح منہمک دیکھا جیسے کوئی اپنے بچوں کے لئے ہمہ وقت مصروف ہو۔“
نمونہ کلام:
یہ کیسی آگ بھڑکی اک نظر میں
ہر اک منظر جلا کر رکھ دیا
ہر طرف خوفناک منظر ہیں
کتنا اچھا تھا بے بصر ہونا
ترا ذکر ہے مری زندگی، تری یاد ہے مری روشنی
یونہی ٹمٹماتا رہے دیا، مجھے اور کچھ نہیں چاہیے
وہی ہزاروں برس سے حیلے شکاریوں کے
وہی پرندوں کی خوش گمانی وہی کہانی
دن بھی لکھتا ہے داستاں میری
رات بھی میری آپ بیتی ہے
عادتاً جی رہا ہوں برسوں سے
دل لگایا بہت، لگا بھی نہیں
مری جھولی میں بس دو چار پل ہیں
انہیں صدیاں بنانا چاہتا ہوں
بجھ گیا ایک دیا رات گئی بات گئی
اب کسے یاد بھلا! رات گئی بات گئی
چاند لمحوں کو وقفِ نظر کر دیا
تیری تصویر بنتی رہی عمر بھر
ہم نے باتیں ہی کیں آپ






