#کالم

کالم۔ خواجہ غلام قطب الدین فریدی۔۔۔صاحب صدق وصفا

Untitled 11

تحریر۔ شفقت اللہ مشتاق
تصوف کا موضوع۔ انتہائی اہم موضوع۔ ناقدین کا بھی ایک اپنا خیال ہے اور اختلاف رائے کی ویسے بھی گنجائش ہوتی ہے۔ بہرحال حقائق تو حقائق ہوتے ہیں اور حقائق معرفت( پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ۔۔۔مدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں) ماضی کے دریچے وا کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صوفی جہاں بھی پہنچا وہاں ایک عالم، مفکر، سوشل ورکر، مبلغ، شاعر، محقق، مولف اور مصنف نے انمٹ نقوش چھوڑے بلکہ "جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے” کے مصداق سنسان آبادیاں شہروں میں تبدیل ہو گئیں، جہالت کے اندھیرے چھٹ گئے اور علم ومعرفت کے جھنڈے گاڑ دیئے گئے۔ بھوک اور افلاس کو ختم کرنے کے لئے لنگر خانے اور پھر بغیر کسی رنگ ونسل کے سب ایک ہی قطار میں بیٹھ گئے۔ تبلیغ وارشاد کے لئے جماعتیں بن کر مختلف علاقوں میں روانہ ہو گئیں اور پھر ہر سو اللہ ھو اللہ ھو کی صدائیں۔ تحقیق وجستجو کے نتیجے میں علم وادب کی تخلیق اور شعروسخن کے نتیجے میں فن موسیقی اپنے عروج پر۔ باطن کی دنیا آباد کرنے کے لئے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پانے کے لئے دعوت فکر۔ شائستگی اور نفاست کی ترویج۔اور لوکائی کو یکسو کر کے من و تو کے فاصلے کا خاتمہ، واصل بالحق کا عملی مظاہرہ اور یوں مظاہرات اور مکاشفات۔ نوائے شوق سے ہر ذی روح کو متاثر کیا گیا۔ یہ ہے بہر حال تصوف کی تاریخ۔ کہنے کو تو آج جس کا جو جی چاہے کہتا پھرے سوشل میڈیا اور ہماری آزادی بلکہ شتر بے مہار، میں ناں مانوں اور میں کہتا ہوں۔ ایک تو یہ "میں” نے ہم سب کو مار دیا ہے اور ہم سب اسپ انا پر سوار ہو کر بھاڑ میں جا رہے ہیں۔ بقول راقم الحروف( ہر کوئی اسپ انا پر تھا سوار۔۔۔اس لئے خود کو پیادہ کرلیا) تاہم تصوف اور پیری مریدی جب گڈ مڈ ہوگی تو بات کا بتنگڑ تو بنے گا اور ابہام، غلط فہمی، مایوسی اور کیا کیا ناں۔ لوگ ڈبل مائنڈڈ ہوجائیں گے بلکہ بدظن اور باتیں تو ہوں گی۔
حقیقت و معرفت ایک وہ سچ ہے جس کے وجود کو برقرار رہنا ہے اور اس کو برقرار رکھنے میں کسی نہ کسی نے اپنا کردار ادا کرکے اپنے مالک حقیقی کے حضور سرخرو ہونا ہے۔ چند ماہ پہلے راقم الحروف سے خواجہ غلام قطب الدین فریدی رح سے خواجہ غلام فرید رح کے سالانہ عرس کے موقعہ پر ملاقات ہوئی اور یہ ملاقات تعلق اخلاص میں تبدیل ہو گئی اس کے بعد ایک دو نہیں کئی ملاقاتیں۔ صوفی کی درگاہ رابطے کا بھی کام کرتی ہے ویسے بھی خواجہ غلام فرید وہ بزرگ ہیں جنہوں نے روہی میں ایک نئی روح پھونک دی تھی اور آج بھی راجن پور جیسے علاقے میں درگاہ مذکور میں وہاں کے بسنے والوں کے لئے بڑا کچھ ہے۔ مجھ جیسا ایک گنوار بھی وہاں کچھ نہ کچھ محسوس ضرور کرتا تھا اور پھر خواجہ غلام قطب الدین سے شرف ملاقات۔ خوبصورت اردو شاعری سننے کو ملی، تصوف کے معاملے میں ناچیز اپنے آپ کو اندھوں میں کانا راجہ سمجھتا ہے۔ پہلی بات ہے کہ بزرگان دین کے نزدیک جو اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے وہ کچھ بھی نہیں ہے دوسری بات یہ ہے کہ راجہ کا کام ہے کہ وہ اس طرح حجامت کرے کہ جس کی حجامت کی جائے اس کو دیکھنے والا دیکھتا رہ جائے۔ یہ بہت بڑا کام ہے اور کہاں بڑا کام اور کہاں میں بلکہ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ۔ صوفی سے گفتگو کا بھی ایک اپنا مزہ اور سرور ہے۔ تیری محفل میں جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے۔ خواجہ غلام قطب الدین مرحوم سے ملاقات کا بھی کچھ ایسا ہی آنکھوں دیکھا حال تھا ان کی وفات سے یہ حال ماضی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ملاقات اور موضوعات۔ صوفی ازم اور مختلف ادوار، صوفی ازم اور صوفیانہ شاعری، صوفی ازم اور عصر حاضر، صوفی ازم اور پیری مریدی، صوفی ازم اور بات کے بتنگڑ، صوفی ازم اور لنگر، صوفی ازم اور مدارس، صوفی ازم اور مراقبہ ومشاہدہ، صوفی ازم اور محفل سماع، صوفی ازم اور نذر نیاز، صوفی ازم اور فلسفہ۔ صوفی ازم اور معرفت اور حقیقت، صوفی ازم اور آج کا پریشان حال انسان۔ ایک صوفی ازم اور کئی رنگ تاہم صوفی ازم کا ایک اپنا رنگ اور وہ بھی خاص رنگ۔ عشق ومحبت، اپنائیت اور اخلاص، فقر واستغنی، صبر ورضا، توکل علی اللہ اور تحقیق و جستجو حاصل تصوف۔ آفاق کی دنیا میں گم ہونا اور "میں ناہیں سب تو” کا گیت اور اس گیت میں بے خود ہوجانا۔ یہ سارے موضوعات اور خواجہ قطب صاحب کا خوبصورت انداز گفتگو، طرز تکلم اور طرز استدلال۔ دلیل سے بات کرنا اور دلیل کے نتیجے میں دلیل کا سننا اور غور وفکر کرنا۔ خلاف مزاج بات کو خندہ پیشانی سے سننا اور انتہائی نفاست اور شائستگی سے اس کا جواب دینا۔ ذوق شوق اور شعرو سخن سے بات کو دل بلکہ روح تک پہنچا دینا۔ لنگر سے ہر آنے والے کی خاطر تواضع اور ہر شخص کو برابر احترام دینا۔ یہ سارا کچھ میں نے خواجہ غلام قطب الدین فریدی کی شخصیت میں دیکھا ہے۔ سچ کہتے ہیں کہ کائنات اللہ والوں سے کبھی بھی خالی نہیں ہوتی ہے۔ میں نے تو آج کے پرفتن دور میں ان سے بہت کچھ سیکھا۔
ایک دفعہ میں ان کے پاس ان کے آبائی گاوں گڑھی اختیار خان ضلع رحیم یار خان حاضر ہوا اور میں نے دیکھا کہ وہ اپنے گھر کے مین گیٹ پر میرا انتظار کررہے تھے۔ میں اس وقت ڈپٹی کمشنر راجن پور تعینات تھا مجھے یہ سب کچھ اچھا نہ لگا اور میں نے ارادہ کیا کہ اس بابت میں ان سے بات کروں گا لیکن وہ بھی دل کے چور نکلے مجھ سے پہلے ہی مجھے فرمانے لگے کہ میں نے کسی اور وجہ سے آپ کا استقبال کیا ہے اور اس کے بعد تو انہوں نے رمزحقیقی بات مجازی کے دفتر کھول دیئے اور گویا کہ بنتی نہیں ہے بادہ وساغر کہے بغیر۔ پیر مہر علی شاہ رح، خواجہ غلام فرید

کالم۔ خواجہ غلام قطب الدین فریدی۔۔۔صاحب صدق وصفا

کرکٹ کا جنازہ؟

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے