کرکٹ کا جنازہ؟
جمع تفریق۔۔۔ناصر نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شائقین کرکٹ اپنے قومی کھلاڑیوں سے ناراض ہی نہیں اس قدر غصے میں ہیں کہ اگر انہیں بابر اعظم ،شاداب خان اور شاہین آ فریدی مل جائیں تو ان کی ایسی درگت بنائیں جیسی بھارتی ٹیم بھی نہیں بنا سکی لیکن بھارتیوں کی روایات ایسی ہے کہ اگر وہ کبھی خدانخواستہ پاکستان سے شکست کھا جائیں تو ٹی۔ وی، ایل ۔سی۔ ڈی ہی توڑنے کے واقعات وہاں نہیں ہوتے بلکہ کرکٹ کے جذباتی لورز اپنے کھلاڑیوں کے گھروں کو جلانے بھی پہنچ جاتے ہیں حالانکہ نہ ان کا عشق ہے اور نہ ہی محبت لیکن دشمنی بھی تو اکثر اوقات اندھی ہوتی ہے ازلی دشمن کی حکومت ہو کہ کرکٹ کا میدان ہر جگہ دشمنی روز اول سے نظر آ تی ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ یہ انداز کب بدلے گا ؟پاکستان حکومت اور کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کی درخواست تسلیم نہ کرنے اور انہیں ٹی۔ ٹونٹی ورلڈ کپ 2026 سے محروم کرنے پر جس اصولی موقف اور سخت رد عمل کا مظاہرہ کیا اس نے بھارتی کرکٹ بورڈ اور ائی .سی. سی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اگر ایسے میں پاکستان کولمبو میں میچ جیت جاتا تو جذباتی انتہا پسندی کی سوچ رکھنے والے بھارتی پورے بھارت میں آ گ لگا دیتے ہیں بلکہ وہاں بے گناہ مسلمانوں کی بھی شامت آ جاتی، ہمارے ہاں غم و غصہ اس انداز میں ہرگز نہیں ملتا، پاکستانی قوم کے لیے یہ میچ بھی انتہائی اہم اور جذباتی تھا پھر بھی پاکستانی یہ بات ہر سطح پر تسلیم کر رہے ہیں کہ جو اچھا کھیلا وہ جیت گیا ،پاکستانیوں کو صائم ایوب ،صاحبزادہ فرحان اور طارق عثمان سے امید تھی کہ وہ ٫٫سرپرائز،، دیں گے جو نہیں دے سکے تنقید کی زد میں یہ تینوں ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ نو وارد اس قدر تجربہ کار نہیں، جتنے بابراعظم، شاداب خان ،شاہین آ فریدی ہیں وہ آ ئرلینڈ سے بھارت تک اپنا کردار کیوں نہیں ادا کر سکے؟ الزام کپتان سلمان علی اغا پر بھی ہے کہ انہوں نے طارق عثمان کی رونمائی میں تاخیر کیوں کی؟ اور شاہین آ فریدی کو آ خری اوور کیوں دیا ؟ نسیم شاہ جیسا کھلاڑی میسر تھا اسے کیوں نہیں آ زمایا گیا اس کے برعکس بڑے بڑے دانشور اور نامی گرامی تجزیہ کار سلیکٹر عاقب جاوید اور صدر کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی ٫٫مس مینجمنٹ،، کا رونا رو رہے ہیں تکرار ہے کہ محسن نقوی کی چال ڈھال ہی کھلاڑیوں والی نہیں، انہیں کوئی کون بتائے گا کہ کرکٹ اور بورڈ کی سربراہی ایک انتظامی عہدہ ہوتا ہے اور اس پر نواب آ ف بھوپال شہریار خان بھی براجمان رہے اور نجم سیٹھی بھی، ایک رمیز راجہ کے علاوہ اکثریت سربراہوں کا کرکٹ سے دور دور تعلق نہیں رہا تاہم عاقب جاوید ہوں یا کوئی اور، الزام سے نہیں بچ سکتے کیونکہ کھلاڑیوں کا انتخاب ان کا ہی تھا جنہوں نے میچ ہارا ہی نہیں انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویے سے 20 ۔اوور بھی مکمل نہیں کھیلے، عوام کا غصہ یہی ہے کہ اگر یہ ٹیم محدود اوور کھیلنے کی بھی سکت نہیں رکھتی تھی تو انہیں منتخب کیوں کیا گیا؟ ویسے بھی پاکستان اور پاکستانی عوام کھیل کو صرف کھیل سمجھنے کے باوجود بھی کوئی بھی ٹورنامنٹ ہو بھارت سے ہارنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے لیکن بدقسمتی انہیں تواتر سے یہ کڑوی گولی کھانی پڑ رہی ہے 61 .اسکور سے شکست اور 20. اوور نہ کھیلنا ہی غصے کی بنیاد ہے ،ویسے چار ماہ میں بھارت سے یہ چوتھی شکست ہے یہی نہیں، ٹی ۔ٹونٹی میں بھارت کی پاکستان کے خلاف آ ٹھویں فتح ہے سوال یہ ہے کہ٫٫ مانا کرکٹ بائی چانس،، لیکن ہر چانس ہم پلیٹ میں رکھ کر بھارت کو کیوں دے دیتے ہیں ؟ اسی لیے ہر خاص و عام نالاں ہے کہ کروڑوں کے اخراجات اور بہترین سہولیات کے باوجود کھلاڑی قومی اعتماد پر پورے نہیں اترتے، دعوے، بڑھکیں اور معرکہ آ رائی کی یقین دہانی ہر مرتبہ کرائی جاتی ہے لیکن آ خر میں بھارت سے شکست مقدر بن جاتی ہے، سابق فاسٹ باولر شعیب اختر نے محسن نقوی کو آ ڑے ہاتھوں لیا ان کا دعوی ہے کہ یہ شکست محسن نقوی کی نا تجربہ کاری کا تحفہ ہے لیکن سابق عالمی شہرت یافتہ آ ل راؤنڈر شاہد آ فریدی نے غیر ذمہ دارانہ کھیل پر اپنے داماد شاہین آ فریدی سمیت بابراعظم اور شاداب خان کو ٹیم سے نکالنے کا مطالبہ کر دیا جبکہ لوگوں کا خیال ہے کہ کپتان سلمان علی آ غا کی ناقص حکمت عملی نے کرکٹ کا جنازہ نکال دیا لہذا جنازہ ان چاروں کے کندھوں پر رکھ کر انہیں گراؤنڈ سے رخصت کر دیا جائے
میری سوچ اس جذباتی انداز سے بالکل مختلف ہے ایک عرصہ کھیل کے میدانوں میں گزرا لہذا حالات کار کے مطابق ھارجیت کو تسلیم کرنے کو ٫٫سپورٹس مین سپرٹ،، قرار دیتا ہوں پاکستانی قوم بھی ہر پاک بھارت میچ کو ایسا فائنل سمجھتی ہے جس میں فتح کے علاوہ کچھ نہیں چاہتی لیکن حقیقت یہی ہے کہ اچھا کھیلے بغیر جیت مقدر نہیں بنتی، بہرحال شکست کا غصہ عام چھابڑی فروش سے لے کر بار بر شاپ تک محدود نہیں بلکہ اگلی فتح تک ہر محفل میں زیر بحث رہے گا، کھلاڑیوں، سلیکٹرز اور بورڈ پر تنقید بھی جاری رہے گی جو کہ ناجائز ہرگز نہیں، پھر بھی حقائق یہ ہیں کہ اسی ٹی۔ ٹونٹی میں دنیائے کرکٹ کی ایک بڑی قد آ ور ٹیم آ سٹریلیا پہلے زمبابوے سے شکست کھا گئی پھر اسے سری لنکن کھلاڑیوں نے دبوچ کر ورلڈ کپ 2026 سے آ ؤٹ کر دیا یقینا یہ ٹورنامنٹ کا ٫٫اپ سیٹ،، ہے پھر بھی آ سٹریلین اپنے کھلاڑیوں پر ایسے تنقید اور چڑھائی بالکل نہیں کر رہے جیسے پاکستان اور بھارت میں ہوتا ہے ،ہمارے ہاں ایسا صرف اس لیے ہے کہ بھارت اپنے غرور اور تکبر میں کھیلوں کے میدان میں بھی اپنی دشمنی کا مظاہرہ کرتا رہتا ہے اس کا پہلگام ڈرامہ فلاپ ہوا تو اپنی طاقت کے نشے پر بھارت پاکستان پر چڑھ دوڑا، پاکستان نے منہ توڑ کرارا جواب دیا تو ٫٫سپورٹس میں سپرٹ،، کو بلائے طاق






