#کالم

عمران خان رہائی فورس: جدوجہد یا سیاسی خود فریبی؟

Untitled 13 1

تحریر : رفیع صحرائی
۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کی سیاست ایک بار پھر جذبات، نعروں اور صف بندیوں کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے “عمران خان رہائی فورس” کے قیام کا اعلان بظاہر اپنے قائد عمران خان سے وفاداری کا اظہار ہے مگر اس اقدام کے سیاسی مضمرات کہیں زیادہ گہرے اور پیچیدہ ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ فورس بن سکتی ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا اور سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوگا؟
تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس فورس کے قیام کی سب سے زیادہ خوشی شاید وفاقی حکومت اور اس کے اتحادیوں کو ہو۔ موجودہ سیاسی بندوبست میں عمران خان کا جیل میں رہنا حکومت کے لیے ایک طرح کی انشورنس پالیسی ہے۔ جب تک وہ جیل میں ہیں، سیاسی درجہ حرارت کنٹرولڈ حد میں رہے گا، اپوزیشن سڑکوں پر بکھری رہے گی اور مذاکرات کا دروازہ پی ٹی آئی کی جارحانہ پالیسی کی وجہ سے بند رہے گا۔ یہ صورتِ حال وفاقی حکومت کے لیے بہت موزوں ہے۔ کیونکہ حکومت کی بقا اسی میں ہے کہ پاکستان تحریک انصاف مذاکرات کی میز پر آنے کے بجائے “ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان” کے بیانیے پر چلتی رہے۔ یہ حقیقت ہے کہ سیاست دان مذاکرات سے بند گلی میں بھی دروازے نکال لیتے ہیں لیکن انتشار اور طاقت کے ذریعے نہ حکومت جھکتی ہے اور نہ ہی مقتدرہ۔
پی ٹی آئی حلقوں میں رانا ثناءاللہ کے حالیہ انٹرویو کا کلپ خوب وائرل کیا جا رہا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے دو سنجیدہ کوششیں ہوئیں مگر عمران خان نے کمپرومائز سے انکار کیا۔ پارٹی اسے بہادری اور اصول پسندی کی علامت بنا کر پیش کر رہی ہے۔ پارٹی ورکرز اس بات پر خوشی و فخر کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان کے لیڈر نے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ خان ساری عمر جیل میں گزار لے گا لیکن جھکے گا نہیں۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ راناثناءاللہ کابیان کیا واقعی اتنا سادہ تھا یا یہ ایک نفسیاتی حربہ تھا۔
یہ پیغام دراصل پی ٹی آئی قیادت اور سپورٹرز کو ڈی کوڈ کرنے میں غلطی ہوئی ہے۔ یہ بیان باور کروا رہا ہے کہ “ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان” کا بیانیہ ہی رہائی کو مزید دور اور قید کو طویل کر رہا ہے۔ جب قیادت لچک کو کمزوری سمجھے اور کارکن ہر مفاہمت کو غداری قرار دیں تو سیاسی راستے خود بخود بند ہوتے چلے جاتے ہیں۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سہیل آفریدی کی دو ہفتے قبل وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ عمران خان کے معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ اب اچانک رہائی فورس کا اعلان سامنے آ گیا۔ عموماً ایسی فورس اس وقت بنائی جاتی ہے جب مذاکرات ناکام ہو جائیں اور خیرسگالی کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں۔ تب آخری راستا سٹریٹ پاور کا رہ جاتا ہے۔ یہاں مذاکرات کی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی گئی۔ بدقسمتی سے پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی اکثر الٹ رہی ہے۔ آخری آپشن پہلے استعمال کیا جاتا ہے اور پہلا آپشن آخر میں۔ احتجاج پہلے کیا جاتا ہے اور بات چیت بعد میں کی جاتی ہے یا شاید کبھی کی ہی نہیں جاتی۔
آپ دیکھ لیجیے گا، اس مجوزہ فورس میں عام کارکن اور جذباتی نوجوان بڑی تعداد میں شامل ہوں گے۔ قیادت کی اپنی اولاد شاید اس فہرست میں دور دور تک نظر نہ آئے۔ اگر کل کو اس رجسٹرڈ فورس پر کریک ڈاؤن ہوتا ہے تو گرفتاریاں انہی عام گھروں کے نوجوانوں کی ہوں گی جس طرح نو مئی کے بعد ہوئی تھیں۔ پارٹی نے ان ورکرز کو نہ صرف بے یارومددگار چھوڑ دیا تھا بلکہ عمران خان نے بذاتِ خود ان سے اظہارِ لاتعلقی کر دیا تھا۔ ان کے مقدمات کی پیروی کے لیے ان کے گھر والوں کو عدالتوں کے دھکے کھانے پڑے تھے۔ اپنی جیب سے وکلاء کی فیسیں دینی پڑی تھیں۔ پارٹی نے پلٹ کر ان کی خبر نہ لی تھی یہاں تک کہ سزا سننے کے بعد عمران خان کے سگے بھانجے حسان نیازی رو پڑے تھے کہ مشکل وقت میں پارٹی نے انہیں بے یارومددگار چھوڑ دیا۔ اب بھی مجوزہ فورس اگر حد سے تجاوز کرے گی تو اسے کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں سہیل آفریدی سمیت باقی قیادت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ فرق تو عام ورکرز کو پڑے گا جو اپنی سادگی یا وفاداری میں اپنا مستقبل برباد کر بیٹھیں گے۔ طلبہ اپنے تعلیمی اداروں سے، پروفیشنلز اپنے روزگار سے جائیں تو جائیں، قیادت محفوظ رہے گی۔ پاکستان کی حالیہ تاریخ میں احتجاجی تحریکوں میں یہی ہوتا آیا ہے: جذباتی لوگ آگے، فیصلہ ساز پیچھے۔ علیمہ خان کی دھرنے اور احتجاج کی کالوں کی صورتِ حال سب کے سامنے ہے۔ ایم پی ایز اور ایم این ایز ان میں کبھی شریک نہیں ہوئے۔
وفاقی حکومت پہلے ہی اس بیانیے سے خوش ہے کہ خیبرپختونخوا کی قیادت گورننس اور عوامی فلاح کی بجائے احتجاجی سیاست میں مصروف ہے۔ اپنے ہی صوبے میں سڑکیں بلاک کرنے، نظام زندگی مفلوج کرنے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق مریضوں کے بروقت اسپتال نہ پہنچنے جیسے واقعات عوام کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ دوسری طرف پنجاب میں ترقیاتی رفتار کا تاثر خیبرپختونخوا کے لوگوں میں احساسِ محرومی کو بڑھا رہا ہے۔ جب عوام دونوں صوبوں کے درمیان روزگار، تعلیم، صحت اور دیگر سہولتوں کا موازنہ کرتے ہیں تو جذباتی نعرے دیر تک اثر نہیں رکھتے۔
حقیقت پسندانہ تجزیہ یہی کہتا ہے کہ “عمران خان رہائی فورس” عمران خان کو تو شاید رہا نہ کروا سکے مگر بہت سے نوجوانوں کا مستقبل ضرور داؤ پر لگا سکتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد کے بغیر کوئی بڑی سیاسی تحریک کامیاب نہیں ہوئی۔ جو تحریکیں محض سڑکوں پر رہیں وہ یا تو تھک گئیں یا تحلیل ہو گئیں۔ اصل

عمران خان رہائی فورس: جدوجہد یا سیاسی خود فریبی؟

ماہِ رمضان، ماہِ مواسات

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے