#کالم

ماہِ رمضان، ماہِ مواسات

new desing342

.تحریر: ارشد شاہد

رمضان المبارک کے کئی صفاتی ناموں میں سے ایک نام "ماہِ مواسات” بھی ہے۔ جس کا مطلب ہمدردی و غم خواری اور ایثار و قربانی کا مہینہ ہے۔ اللہ رب العزت نے بنی نوع انسان کو عدم سے محض اس لئے وجود نہیں بخشا کہ وہ دنیا میں صرف اپنے لئے  زندگی بسر کرے اور پھر ایک دن خاموشی کے ساتھ دارِ فانی سے عالم جاودانی کی طرف اس طرح کوچ کر جائے کہ نہ  کسی کو اس کے آنے کی خبر ہو اور نہ جانے کی اطلاع۔ بلکہ انسان کو زندگی اس لئے دی گئی کہ وہ دوسروں کے کام آسکے، اوروں کو نفع پہنچا سکے۔ چنانچہ اسلام میں جتنی اہمیت ان عبادات کی ہے جن کا تعلق بندے اور اس کے رب سے ہے اس سے بھی زیادہ اہمیت ان عبادات اور اعمالِ صالحہ کی ہے جن کا تعلق براہ راست بندوں سے ہے۔ اس ضمن میں مخلوقِ خدا کی خدمت کرنا، ان کی اعانت و نصرت کرنا، ان کے مصائب اور پریشانیوں کو دور کرنا، ان کے دکھ درد کو بانٹنا، ان کے ساتھ ہمدردی و غمخواری کرنا اور محبت و شفقت کا معاملہ کرنا جیسے نیک اعمال اللہ تعالی کی بارگاہ میں بہت زیادہ قیمتی اور قابل قدر ہیں۔
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

موجودہ مشکل معاشی حالات میں رمضان کے مواسات کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اس مہینے میں غریبوں، مسکینوں اور حاجت مندوں کو تلاش کر کے ان کی کفالت کا انتظام کریں، تاکہ اُن کے چہروں کی اداسی اور احساس محرومی کو دور کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں خصوصی طور پر اپنے پڑوسیوں، رشتے داروں اور دوست احباب کی خبر لیں۔ اُن میں جو مستحق زکوٰۃ ہو اسے باعزت طریقے سے زکوٰۃ دیں۔ عام طور پر باوقار اور شریف لوگ اپنی سفید پوشی کی خاطر خود نہیں مانگتے حالاںکہ وہ سب سے زیادہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔ انہیں ہم اس لئے نظر انداز کر دیتے ہیں کہ وہ ہمارے دروازے پر مانگنے نہیں آتے۔ ہمارا یہ رویہ کسی طرح درست نہیں بلکہ ہم خود اُن کے دروازے پر جاکر انہیں رازداری سے اللہ کی دی ہوئی دولت میں سے ان کا حق اور حصہ دیں۔ اس کے لئے ضروری نہیں کہ زکوٰۃ کی رقم سے ہی ان کی مدد کی جائے۔ ہر کسی پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی، بلکہ ہم عمومی ذرائع آمدنی یا صدقات وغیرہ سے بھی یہ مواسات قائم کر سکتے ہیں۔

عام طور سے رمضان میں بڑی بڑی افطار پارٹیاں کی جاتی ہیں، جن میں صرف مالدار لوگوں، عزیز رشتے داروں اور دوست احباب ہی کو مدعو کیا جاتا ہے اور غریب و محتاج مستحق افراد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے چاہے وہ ہمارا بھائی ہی کیوں نا ہو۔ جبکہ افطار کے حق دار یہی مسکین و محتاج رشتے دار ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مومن کی صفت قرآن نے یہ بیان کی ہے کہ وہ اپنی ضرورت روک کر اپنے بھائی کی ضرورت پوری کر دیتا ہے۔ قرآن کریم میں دو جگہ سورۂ حشر اور سورۂ تغابن میں یہ بات بیان کی گئی ہے۔ کہ’’ مومنین کی صفت یہ ہے کہ وہ خودتنگی میں کیوں نہ ہوں دوسروں کی ضروریات کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔‘‘ اسلام کی تعلیمِ فلاحِ انسانیت یہی ہے کہ معاشرے کا ہر فرد دوسروں کی نشوونما اور ان کی ضرریات کی تکمیل کو اپنی ضروریات پر ترجیح دے۔ لہٰذا غمگساری کے اس مہینے میں صدقہ، خیرات، مساکین کو کھانا کھلانے، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے، بیواؤں کی حاجت روائی کرنے، ننگے بدن کو کپڑا پہنانے اور بیماروں کی دوا کی فکر کرنا اپنا مشغلہ بنالیں اور دوسروں کے غموں کو خوشیوں میں بدلنے کا ذریعہ بن جائیں۔

یاد رکھیں ہماری مدد کے سب سے اولین مستحق ہمارے قریب ترین رشتے دار بھائی بہن ہیں، اس کے بعد دیگر مستحقین۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ’’اصل نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف کرلو، بلکہ حقیقی نیکی اور نیکوکار وہ ہے جو اللہ، قیامت، فرشتوں، کتاب اور نبیوں پر ایمان رکھتا ہے اور اللہ کی محبت میں اپنا پسندیدہ مال رشتے داروں، یتیموں، مساکین، مسافروں ، سائلوں اور قیدیوں کو آزاد کرانے میں خرچ کرے اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے ‘‘ ۔(سورۃ البقرہ 177:)۔ ہمارا رویہ اور سوچ یہ ہے کہ ہماری زکوٰۃ ہمارے سگے بھائی کے لئے نہیں ہے چاہے وہ روٹی کے ایک ایک نوالے کا محتاج ہو۔ یہ منفی سوچ ہے۔ ہمارے مال کے انفاق و زکوٰۃ کا پہلا اور حقیقی مستحق ہمارا سگا بھائی ہے، اگرچہ وہ ضرورت مند ہو۔

رمضان المبارک میں جذبۂ مواسات، ہمدردی، خیر خواہی اور غمگساری و ایثار کے تحت کاروباری طبقہ اشیائے خور و نوش اور دیگر ضرورت کی تمام اشیاء کو سستا کریں اور کم سے کم منافع پر اشیاء فروخت کریں۔ اس کے ساتھ ذخیرہ اندوزوں اور قیمتیں بڑھانے والوں کی حوصلہ شکنی اور بائیکاٹ کے ساتھ حکومت بھی ان ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو معاشی خوشحالی عطا فرمائے اور ہمیں اپنے بھائیوں کی دل جوئی و ہمدردی کا جذبۂ و شوق عطا فرمائے (آمین)۔
خدا کرے کے میری عرض  پاک پے اترے  
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو 
خدا کرے میرے ایک بھی ہم وطن کے لئے 
حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو

ماہِ رمضان، ماہِ مواسات

ماہِ رمضان، ماہِ مواسات

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے