#کالم

رمضان المبارک کا سماجی و معاشی فلسفہ ۔۔۔۔!

Untitlesssdddd 1

تحریر و ترتیب : پیر مشتاق رضوی

اسلام صرف عبادت کا دین نہیں ہے بلکہ مکمل ضابطۀحیات ہے اور دین فطرت ہے اسلام سماجی و معاشی ہر شعبہ زندگی میں مکمل۔راھنمائی فراہم کرتا ہے ماہ رمضان المبارک سماجی اور معاشی زندگی کا ایک جامع عملی نظام حیات ہے ماہ رمضان المبارک اسلامی کیلنڈرکا نواں مہینہ ہے، جو مسلمانوں کے لیے بہت ہی فضیلت اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اس مہینے کی فضیلت اور اہمیت کو درج ذیل تفصیلات سے سمجھا جا سکتا ہے:قرآن مجید کی سورہ البقرة میں رمضان کی فضیلت کے بارے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلوں کے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو”
سورہ لبقرة میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت اور حق اور باطل میں تمیز کی واضح دلیلیں ہیں” ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "بے شک ہم نے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل کیا ہے، اور لیلۃ القدر کی تعریف کیا ہے؟ لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے”
سنت نبوی میں رمضان کی فضیلت کے مطابق جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں” (البخاری)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "رمضان کے مہینے میں دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتےہیں”(البخاری)۔
بخاری شریف کی ایک اور حدیث مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "جب رمضان آتا ہے تو شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے” نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یک اور فرمان مقدس ہے کہ : "جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں” (البخاری) مذکورہ آیات مقدسہ اور احادیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ماہ رمضان المبارک ایک بہت ہی فضیلت والا مہینہ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے، قرآن نازل کیا ہے، اور لیلۃ القدر کی فضیلت رکھی ہے۔ اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ عبادت کریں، روزے رکھیں، قرآن کی تلاوت کریں، اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں
: ماہ رمضان المبارک کا سماجی فلسفہ بہت گہرا اور وسیع ہے، جو انسانیت کی بھلائی اور معاشرے کی اصلاح کے لیے بہت اہم ہے۔ اس مہینے میں مسلمانوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، جو نہ صرف عبادت ہے بلکہ ایک بہترین سماجی اور اخلاقی عملی تجربہ بھی ہے۔ رمضان کا اصل مقصد تقویٰ اورپرہیزگاری کو فروغ دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلوں کے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو” روزہ رکھنے سے انسان کو ہمدردی اور ایمانداری کی صفت حاصل ہوتی ہے۔ روزہ دار شخص بھوک اور پیاس کی تکلیف کو محسوس کرتا ہے اور اس طرح وہ محروم اور محتاج لوگوں کی مشکلات کو سمجھتا ہے۔ رمضان المبارک میں مسلمانوں کی یکجہتی اور اتحاد کا بے مثال عملی مظاہرہ ہوتا ہے۔ مسلمان ایک ہی وقت میں روزہ رکھتے ہیں، ایک ہی وقت میں افطار کرتے ہیں، اور ایک ہی وقت میں نماز تراویح ادا کرتے ہیں۔رمضان المبارک میں انسان کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے۔ روزہ دار شخص غیبت، جھوٹ، بدگمانی، اور دیگر برائیوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ رمضان المبارک میں معاشرتی اصلاح کا کام بھی ہوتا ہے۔ مسلمان اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، ایک دوسرے سے صلح کرتے ہیں، اور معاشرے میں امن و امان قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔رمضان المبارک کے سماجی فوائد ہی ہیں کہ روزہ رکھنے سے انسان میں ہمدردی اور ایمانداری کی صفت پیدا ہوتیہ ہے، جو معاشرے میں محرومی اور غربت کے خاتمے کے لیے ضروری ہے۔ رمضان المبارک میں مسلمانوں کی یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ ہوتا ہے، جو معاشرے میں امن و امان قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔رمضان المبارک میں انسان کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے، جو معاشرے میں برائیوں کے خاتمے کے لیے ضروری ہے۔ رمضان المبارک میں معاشرتی اصلاح کا کام بھی ہوتا ہے، جو معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔اس طرح، ماہ رمضان المبارک کا سماجی فلسفہ انسانیت کی بھلائی اور معاشرے کی اصلاح کے لیے بہت اہم ہے۔ماہ رمضان المبارک سماجی اور معاشی مساوات کا مکمل نظام ہے، جو انسانیت کی بھلائی اور معاشرے کی اصلاح کے لیے بہت اہم ہے۔ اس مہینے میں مسلمانوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، جو نہ صرف عبادت ہے بلکہ ایک سماجی اور معاشی تجربہ بھی ہے۔روزہ رکھنے سے انسان کو ہمدردی اور ایمانداری کی صفت حاصل ہوتی ہے۔ روزہ دار شخص بھوک اور پیاس کی تکلیف کو محسوس کرتا ہے اور اس طرح وہ محروم اور محتاج لوگوں کی مشکلات کو سمجھتا ہے۔ رمضان المبارک میں مسلمانوں کی یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ مسلمان ایک ہی وقت میں روزہ رکھتے ہیں، ایک ہی وقت میں افطار کرتے ہیں، اور ایک ہی وقت میں نماز تراویح ادا کرتے ہیں۔رمضان المبارک میں انسان کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے۔ روزہ دار شخص غیبت، جھوٹ، بدگمانی، اور دیگر برائیوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔رمضان میں زکوٰۃ اور صدقات کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے، جو معاشرے میں محرومی اور غربت کے خاتمے کے لیے ضروری ہے۔ رمضان المبارک میں مسلمانوں کی معاشی یکجہتی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، اور معاشرے میں معاشی مساوات کو فروغ دیتے ہیں۔ رمضان المبارک میں معاشی اصلاح کا کام بھی ہوتا ہے۔ مسلمان اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، ایک دوسرے سے صلح کرتے ہیں، اور معاشرے میں امن و امان قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔رمضان

رمضان المبارک کا سماجی و معاشی فلسفہ ۔۔۔۔!

رنجشوں سے آگہی تک کا سفر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے