مچھلی یا کانٹا؟
تحریر: رفیع صحرائی
۔۔۔۔۔۔۔۔
صدا بصحرا
رفیع صحرائی
مچھلی یا کانٹا؟
۔۔۔۔۔۔۔
تازہ ترین اطلاع کے مطابق وفاقی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ وطنِ عزیز میں غربت کی شرح قریباً 29 فیصد ہو گئی ہے۔ الارمنگ صورتِ حال یہ ہے کہ شہری علاقوں میں غربت کی شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد ہو گئی ہے۔ غربت کی شرح کی سب سے تشویشناک صورتِ حال بلوچستان میں ہے جہاں یہ شرح 47 فیصد ہے۔ پنجاب میں یہ شرح 23.3 فیصد، سندھ میں 32.6 فیصد اور خیبر پختون خوا میں 35.3 فیصد ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ غربت کے خاتمے کے بغیر لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر نہیں ہو سکتا۔ معاشی ناہمواری ختم کرنا اہم ہدف ہے۔ وفاقی وزیر نے پالیسی کے عدم تسلسل، کورونا وبا اور آئی ایم ایف پروگراموں کو غربت میں اضافے کی وجہ قرار دیا۔
بات صرف غربت میں اضافے تک محدود نہیں ہے۔ بے روزگاری کی شرح میں بھی اضافہ ہو گیا جو سات فیصد سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار موجودہ حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔ کیونکہ اس سیٹ اپ کو چوتھا سال ہے۔ عمران خان کے جانے کے بعد میاں شہباز شریف نے ہی حکومت سنبھالی تھی۔ اگر ہم اعداد و شمار سے ہٹ کر بھی حکومتی اقدامات کا جائزہ لیں تو مایوسی ہوتی ہے۔ شاید پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کے پاس ماہرینِ معیشت کی کمی نہیں ہے لیکن اس کا وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب آئی ایم ایف کا مقرر کردہ ہے جسے اس کی پوزیشن پر برقرار رکھنے کے لیے حکومت نے سینیٹر بھی بنوا دیا۔ محمد اورنگ زیب بنیادی طور پر ایک بینکار ہیں جس کا کام سب سے پہلے اپنے ادارے کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ وزیرِ خزانہ یہ کام بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ وہ نہیں چاہیں گے کہ پاکستان کبھی آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلے اور آئی ایم ایف ایک تگڑے گاہک سے محروم ہو جائے۔ ان کی معاشی پالیسی صرف ایک نکتے کے گرد گھومتی ہے کہ عوام کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ کر خزانہ بھرا جائے۔ اس کے لیے حکومت نے بجلی، تیل اور گیس کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کر کر کے متوسط طبقے کو بھی خطِ غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے۔
آئی ایم ایف کا نمائندہ وزیرِ خزانہ عوام کا منتخب کردہ نہیں ہے اس لیے اسے عوام سے کیا ہمدردی ہو سکتی ہے۔ ان کی معاشی پالیسیوں کا یہ حال ہے کہ وزیرِ اعظم اور چیف آف ڈیفنس فورس آدھی دنیا گھوم چکے مگر پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری کو تیار نہیں ہے۔ مہنگی بجلی، مہنگی گیس اور بے پناہ ٹیکسز کے ماحول میں کون بے وقوف سرمایہ کاری کرے گا۔ صنعتوں کا زوال رکنے میں نہیں آ رہا۔ زراعت کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین سے دی گئی مراعات چھین کر منتخب نمائندوں اور وزراء کی مراعات میں کئی سو فیصد اضافہ کر کے ان کا منہ بند کر دیا گیا ہے۔ لاکھوں سرکاری آسامیاں ختم اور کئی محکموں کا وجود تک ختم کر دیا گیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے حکمران صرف اقتدار کے مزے لوٹنے کے لیے ہی اس منصب تک پہنچے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کبھی حقیقی عوامی جماعت ہوا کرتی تھی۔ اب اس نے بھی عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ وہ اب عوام کی بات نہیں کرتی۔ 2022ء میں مشہورِ زمانہ مہنگائی مارچ کرنے والے بلاول بھٹو زرداری کو بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری میں اضافہ اور حکومتی کنٹرول میں بجلی، گیس اور تیل کی ہوش ربا قیمتیں نظر نہیں آ رہیں۔ امید ہے وہ حسبِ سابق بجٹ کے موقع پر ہی اپنے مطالبات منوانے کے لیے حکومت کو بلیک میل کریں گے اور پھر لمبی تان کر سو جائیں گے۔
غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے حکومت نے مستقل اور پائیدار پالیسیاں بنانے کی بجائے ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں پر زور رکھا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ خاندانوں کو مستقل بھکاری بنا دیا گیا ہے۔ رواں سال اس پروگرام کا بجٹ 716 ارب روپے رکھا گیا تھا۔ یہ کوئی معمولی رقم نہیں ہے۔ اس میں مزید اضافہ وزیرِ اعظم کے 38 ارب روپے کے رمضان نگہبان پیکج کا بھی کر لیجیے۔ پنجاب حکومت کے رمضان پیکج کے 40 ارب روپے اس کے علاوہ ہیں۔ یہ قریباً 800 ارب روپے بنتے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ کی مد میں ہر تین ماہ بعد مستحقین کو 13500 روپے فی خاندان ملتے ہیں جو ماہانہ 4500 روپے بنتے ہیں۔ اتنی رقم میں ایک معمولی سا کپڑوں کا سوٹ آتا ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ 716 ارب روپے سے سمال انڈسٹریز لگا کر بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لیے عملی قدم اٹھایا جائے۔ ہر سال BISP کا بجٹ گارمنٹس انڈسٹریز کے قیام میں استعمال کر کے گارمنٹس کو پورا دنیا میں ایکسپورٹ کر کے قیمتی زرِ مبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آئی ایم ایف حکومت کو اس کی اجازت دے گا؟ میرا خیال ہے وہ ایسا کبھی نہیں ہونے دے گا۔ کیونکہ یہ خودکفالت کی طرف قدم ہو گا۔ آئی ایم ایف کیوں اس کی اجازت دے گا۔ وہ کیوں اپنے گاہک سے ہاتھ دھونا چاہے گا۔ آپ نے دیکھا نہیں کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں معمولی اضافے کی اجازت نہ دینے والا آئی ایم پارلیمٹیرین کی تنخواہ اور مراعات میں 800 فی صد اضافے پر بھی اعتراض نہیں کرتا۔ پنجاب حکومت نے بیوروکریسی کے لیے لگژری گاڑیوں اور بے تحاشہ پٹرول خرچ کرنے کی منظوری دے دی ہے لیکن آئی ایم ایف کو اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ اسے تو پنجاب حکومت کے دس ارب روپے مالیت کے لگژری طیارے کی خرید پر بھی اعتراض نہیں ہوا البتہ چند ہزار تنخواہ لینے والے ٹیچرز کی 43 ہزار منظورشدہ آسامیاں اس نے ضرور ختم کروا دی ہیں۔ پنجاب میں مختلف قسم کے امدادی کارڈز پر بھی آئی ایم ایف راضی ہے۔ اسے خوشحال، باعزت اور برسرِ روزگار عوام وارا نہیں کھاتے۔ غریب، بھکاری اور دانے دانے کو ترستے عوام اس کی ترجیح ہیں کہ ان کے ذریعے ہی






