#کالم

سنگدل باپ، معصوم بچہ اور ہمارا معاشرہ

Untitled 1665577

تحریر صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

لاہور میں پیش آنے والا حالیہ
واقعہ، جس میں ایک باپ نے مبینہ طور پر اپنے ہی پانچ سالہ بیٹے کو اس لیے قتل کر دیا کہ اپنے مخالفین کو اس جرم میں پھنسا سکے، صرف ایک فوجداری مقدمہ نہیں بلکہ ہمارے سماج کے لیے ایک آئینہ ہے۔ یہ سانحہ ہمیں جھنجھوڑ کر یہ سوال پوچھنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر انسان کس ذہنی، اخلاقی اور روحانی گراوٹ کا شکار ہو کر اس حد تک جا سکتا ہے کہ اپنے ہی جگر گوشے کی جان لے لے؟
سب سے پہلے اس واقعے کا انسانی پہلو۔ پانچ سال کا بچہ—ایک پھول جیسی معصوم ہستی—جس کی دنیا کھلونوں، مسکراہٹوں اور ماں باپ کی آغوش تک محدود ہوتی ہے۔ اس عمر میں بچہ دنیا کے فریب، دشمنی اور انتقام کے مفہوم سے ناواقف ہوتا ہے۔ وہ تو صرف محبت جانتا ہے۔ جب ایسا بچہ اپنے ہی باپ کے ہاتھوں ظلم کا نشانہ بنے تو یہ محض ایک قتل نہیں رہتا، بلکہ رشتوں کے تقدس کا قتل بھی بن جاتا ہے۔
دوسرا پہلو نفسیاتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق جب کوئی شخص انتقام کی آگ میں اندھا ہو جاتا ہے تو اس کی فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے۔ شدید انا پرستی، دشمنی کا احساس اور خود کو ہر قیمت پر درست ثابت کرنے کی خواہش انسان کو خطرناک راستوں پر لے جا سکتی ہے۔ اگر واقعی اس جرم کا مقصد مخالفین کو پھنسانا تھا تو یہ سوچ خود اس بات کی عکاس ہے کہ مجرم کا ذہن انتقامی جذبات اور نفسیاتی عدم توازن کا شکار تھا۔ ایسے افراد اکثر اپنے عمل کے نتائج پر غور نہیں کرتے بلکہ وقتی غصے اور نفرت میں فیصلہ کر بیٹھتے ہیں۔
تیسرا پہلو معاشرتی ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں خاندانی دشمنیاں، ذاتی رنجشیں اور انا کی لڑائیاں بعض اوقات نسلوں تک چلتی ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں بدنامی، جھوٹے مقدمات اور کردار کشی بھی عام ہو چکی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے مخالف کو نیچا دکھانے کے لیے اس حد تک چلا جائے کہ اپنے ہی بچے کو قربان کر دے تو یہ ہماری اجتماعی ناکامی ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو کیسی اقدار سکھا رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں برداشت، صبر اور قانون پر اعتماد کی تعلیم دے رہے ہیں یا صرف بدلہ اور انا کی حفاظت کا سبق؟
چوتھا اور سب سے اہم پہلو دینی ہے۔ ہم مسلمان ہیں، ایک اللہ کو ماننے والے، اور قرآن و سنت کی تعلیمات ہمارے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔ اسلام میں انسانی جان کی حرمت بے حد مقدس ہے۔ قرآن مجید میں واضح ارشاد ہے کہ جس نے ایک بے گناہ کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ ایک باپ پر تو اپنے بچے کی حفاظت فرض ہے، وہ اس کا کفیل اور نگہبان ہے۔ اگر یہی نگہبان درندہ بن جائے تو یہ محض قانون کی خلاف ورزی نہیں بلکہ دینی اور اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
اب آتے ہیں قانونی پہلو کی طرف۔ پاکستان کے فوجداری قانون کے تحت اگر کوئی شخص دانستہ قتل کرے تو اس پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ اگر جرم ثابت ہو جائے تو سزا سزائے موت یا عمر قید ہو سکتی ہے، اور بعض صورتوں میں دیت یا قصاص کا اطلاق بھی ہوتا ہے، تاہم نابالغ اور معصوم بچے کا سفاکانہ قتل عدالت کی نظر میں ایک سنگین اور عبرتناک جرم تصور کیا جاتا ہے۔ عدالت ثبوتوں، فرانزک رپورٹ، گواہوں کے بیانات اور ملزم کے اعترافی بیان کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔ اگر منصوبہ بندی ثابت ہو جائے تو سزا مزید سخت ہو سکتی ہے۔
مقدمے کا طریقہ کار کچھ یوں ہوتا ہے کہ پہلے پولیس تفتیش مکمل کرتی ہے، چالان عدالت میں جمع کرایا جاتا ہے، پھر ٹرائل شروع ہوتا ہے۔ استغاثہ اپنے شواہد پیش کرتا ہے، صفائی کا حق ملزم کو دیا جاتا ہے، اور آخرکار عدالت فیصلہ سناتی ہے۔ ایسے مقدمات میں ریاست بطور مدعی بھی کارروائی کرتی ہے کیونکہ قتل ایک ناقابلِ راضی نامہ جرم سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر جب مقتول ایک کمسن بچہ ہو۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف سزا کافی ہے؟ یقیناً قانون اپنا کام کرے گا، مگر معاشرے کو بھی اپنا احتساب کرنا ہوگا۔ ہمیں ذہنی صحت کے مسائل کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ خاندانی تنازعات کو عدالت یا جرگے تک محدود رکھنے کے بجائے مصالحتی اور مشاورتی نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔ مساجد، مدارس، تعلیمی اداروں اور میڈیا کو چاہیے کہ وہ انسانیت، برداشت اور صبر کا پیغام عام کریں۔
یہ واقعہ ہمیں تین واضح پیغام دیتا ہے۔ پہلا، ماں باپ اپنی اولاد کی سب سے بڑی امانت ہیں؛ ان کی حفاظت اور تربیت ان کی ذمہ داری ہے۔ دوسرا، انتقام اور انا انسان کو اندھا کر دیتی ہے، اس لیے غصے کے لمحے میں لیا گیا فیصلہ پوری زندگی برباد کر سکتا ہے۔ اور تیسرا، ہمارا دینی و اخلاقی نظام صرف الفاظ تک محدود نہ رہے بلکہ عملی زندگی میں بھی جھلکے۔
اگر ہم نے اس سانحے سے سبق نہ سیکھا تو کل کوئی اور اذان، کوئی اور معصوم بچہ اسی درندگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے گھروں، عدالتوں اور عبادت گاہوں میں بیٹھ کر خود سے یہ سوال کریں: کیا ہم واقعی ایک بااخلاق اور خدا ترس معاشرہ بنا رہے ہیں؟ یا ہم صرف دکھاوے کے مسلمان ہیں جو جذبات اور انا کے ہاتھوں اپنے ہی رشتوں کو قربان کر دیتے ہیں؟

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے