طالبان حکومت اپنی سرزمین سے پاکستان میں دھشت روکنے میں ناکام
أج کا اداریہ
پاکستان نے افغانستان میں دھشت گردں کے 7ٹھکانے تباہ کردیے وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے مطابق ’پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی دولتِ اسلامیہ خرسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے ایکس پر جاری ایک تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے واقعات کے بعد، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک حملہ اور سنیچر کے روز بنوں میں ایک اور واقعہ شامل ہے، پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں شدت پسند اپنے افغانستان میں موجود قیادت اور سرپرستوں کے ایما پر انجام دے رہے ہیں۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ روز بنوں میں ایک خود کش حملے میں پاکستانی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہیدہوگئے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 21 فروری کو ”بھارتی ایجنسیوں کے حمایت یافتہ فتنہ خوارج‘‘ نے پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار مارے گئے۔
بتایا گیا ہے کہ شدت پسندوں نے یہ حملہ اس وقت کیا، جب اس علاقے میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر فوجی کارروائی کی جا رہی تھی۔
ترجمان کے مطابق اس آپریشن کے دوران شدت پسندوں کا سراغ لگایا گیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
بیان کے مطابق اسی دوران شدید مایوسی میں شدت پسندوں نے بارود سے بھری گاڑی سکیورٹی فورسز کے لیڈنگ گروپ کی ایک گاڑی سے ٹکرا دی۔
شہید ہونے والے فوجی اہلکاروں میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ دہشت گرد افغان سرزمین کو استعمال کر رہے ہیں اور رمضان کے مقدس مہینے میں ایسے حملے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا ”اسلام سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔ واضح رہے کہ افغان طالبان کی حکومت ایسے الزامات مسترد کرتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
پاکستانی فوج کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسلام آباد اپنے دفاع میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتے گا اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی
شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 21 فروری کو سکیورٹی فورسز کے قافلے کو شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی نے بنوں ضلع میں اس وقت نشانہ بنایاتھا جب شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن جاری تھا، جس میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا۔
وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں افغانستان میں کارروائی سے متعلق مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، ان کے ساتھی گروہوں اور دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ نے بھی قبول کی ہے۔‘
بیان کے مطابق ’پاکستان کی جانب سے بارہا افغان طالبان حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسی عناصر کے ہاتھوں پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے، تاہم افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘
وزیردفاع خواجہ آصف نے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی کو طالبان اور بھارت کی پراکسی جنگ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ افغانستان میں فضائی کارروائی کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف سے فرانسیسی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو کے دوران سوال کیا گیا کہ پاکستان نے کابل اور قندھار سمیت افغانستان کے اندر کارروائیاں کیں تو کیا یہ سلسلہ جاری رہے گا، جس پر انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس یہ آپشن ہمیشہ سے موجود ہے اور ہم اس آپشن کا استعمال کرسکتے ہیں اورہم ایسا کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے، اگر کابل امن کی ضمانت دے سکتا ہے تو پھر کوئی لڑائی نہیں لیکن وہ سرپرستی کریں گے اور سازش میں شریک ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر حملے طالبان اور بھارت کی پراکسی جنگ کا نتیجہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہلی، کابل اور دہشت گرد گروہ پاکستان پر حملوں میں ملوث ہیں، کالعدم ٹی ٹی پی، داعش سمیت دیگر تمام دہشت گرد گروہ افغانستان میں موجود ہیں اور پاکستان پر حملے کابل کی مرضی یا سرپرستی کے بغیر نہیں ہوسکتے۔
وزیردفاع نے کہا کہ اگر کابل میں کوئی امن کی ضمانت دے تو دشمنی نہیں ہوگی، مگر وہ بدستور سرپرستی اور سازش میں شریک ہیں، افغانستان پر عملی کنٹرول انہی کے پاس ہے، اگر یہ گروہ ان کی سرزمین سے کام کر رہے ہیں تو ذمہ داری بھی انہی کی ہے اور وہ اس سے انکار نہیں کر سکتے۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ کچھ دوست ممالک نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی کوشش کی، استنبول، دوحہ اور کابل میں ہونے والی ملاقاتوں کا حصہ رہا ہوں مگر ان کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے مطابق ’پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کوشاں رہا ہے، تاہم اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان نے جوابی کارروائی کے طور پر انٹیلی جنس بنیادوں پر درستگی اور مہارت کے ساتھ، پاکستان افغانستان سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادیوں اور دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘
ایکس پر جاری بیان کے آخر پر پاکستان حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے اور اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور شدت پسندوں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔‘
’پاکستان یہ بھی توقع کرتا ہے کہ بین الاقوامی برادری مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے اور






