#کالم

ماہ رمضان المبارک کے روزے ہر مسلمان پر فرض ہیں.

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.36.23

روزہ اور صحت حکیم حارث نسیم سوہدروی

ماہ رمضان المبارک کے روزے ہر مسلمان پر فرض ہیں. قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالی ہے اے ایمان والو! روزہ تم پر فرض کیا گیاجیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیاتاکہ تم میں تقوی پیدا ہو
روزے کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ یہ دین اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہیں.. دین اسلام دین فطرت ہے اس طرح روزوں کا دینی اور روحانی پہلو اپنی جگہ اگر چہ روزہ کا بنیادی مقصد تقوی پیدا کرنا ہے مگر اس کے طبی پہلو کی بھی اپنی اہمیت ہے کیونکہ دین فطرت ہونے کے ناطے اس کا ہر عمل انسان کے لیے ہر طرح مفید ہے. روزہ ہر مسلمان پر فرض ہے البتہ اگر کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو یا خواتین کے مخصوص مسائل ہوں تو ایسی صورت میں رخصت کی اجازت ہے اور بعد میں رکھ لے. معافی کسی صورت نہیں ہے- بعض لوگ روزہ کو فاقہ قرار دیتے ہیں جس سے صحت متاثر ہوتی ہے حالانکہ روزہ فاقہ نہیں ہے بلکہ صبح نماز فجر سے غروب افتاب تک کھانے پینے اور نفسیاتی خواہشات سے دور رہنے کا نام ہے اس طرح روزہ سے نظم وضبط کے ساتھ زندگی گزارنے کی تربیت کے ساتھ ساتھ قوت ارادی بڑھتی ہے- قوت برداشت میں اضافہ ہوتا ہے.جسم کو فاسد مواد سے پاک اور خون صاف کرتا ہے -ہوس اور حرص سے مقابلہ کی قوت پیدا کرتا ہے اس طرح جسم کی تربیت ہوتی ہے ایک جائز اور حلال چیز سامنے پڑی ہے مگر روزہ میں نہیں کھانی اس طرح قوت ارادی بڑھتی ہے جس کے صحت پر اچھے اور مفید اثرات ہوتے ہیں اور مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے. روزہ سے کئی امراض میں فائدہ ہوتا ہے جن میں ہائی بلڈ پریشر ،موٹاپا، نزلہ زکام اور امراض معدہ شامل ہیں.-ہم کہہ سکتے ہیں کہ روزہ کئی امراض کا قدرتی یکسر علاج بھی ہےاب تو مغرب والے بھی فاقہ کے نام پر روزے کی طبی افادیت کے قائل ہو چکے ہیں کئ امراض میں فاقہ سے علاج کرتے ہیں روزہ معدہ کی اصلاح کرتا ہے اور نظام ہضم کو درست کرتا ہے میڈیکل سائنس کے مطابق بہت سے امراض کی وجہ معدہ کے نظام کی خرابی ہے جب کہ روزہ سے معدہ چاک وچوبند ہو کر جسم کی خدمت کے لیے مستعد ہو جاتا ہے- صبح سے شام تک کوئی چیز نہ کھانے پینے سے معدہ اور اس کے متعلقہ اعضاء کو آرام کا موقع مل جاتا ہے اور جو قوت غذا کو ہضم کرنے میں صرف ہوتی ہےروزہ کی صورت یہ قوت جسم کے ردی و فاسد مواد اور لحمیات کو خارج کرتی ہے یہ مواد امراض کا سبب بنتا ہے یوں روزہ کی وجہ سے اخراج ہو کر جسم کے اعضاء کی کارکردگی بڑھ جاتی ہے جس سے صحت بہتر ہوتی ہے-
تمباکو نوشی کی وجہ سے دنیا بھر میں ہر سال ساٹھ لاکھ افراد موت کی وادی میں چلے جاتے ہیں- عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اگر تمباکو نوشی کے اس سیلاب کو روکا نہ گیا تو 2030 میں یہ تعداد مذید بڑھ جائے گی پاکستان ان ممالک میں ہیں جہاں تمباکو نوش حضرات کی شرح 21 فیصد ہے اور ہر سال 5 فیصد اضافہ ہو رہا ہے تمباکو نوشی میں سب سے خطرناک نیکوٹین ہے جو دمہ، کھانسی، منہ ،حلق، پھپٹروں اور آنتوں کے کنسر کا سبب بن سکتی ہے شعور آگاہی کے باوجود تمباکو نوشی کو بڑھنے سے روکا نہیں جا سکا مگر روزہ جو قوت ارادی بڑھاتا ہے سارا دن بغیر کھائے پیے اور تمباکو نوشی کے گزر جاتا ہے افطاری کے بعد اس علت میں مبتلا افراد کو شدید طلب ہوتی ہے اس کی جگہ اگر چاے یا قہوہ استعمال کریں یا پھر افطاری کے بعد تسبیح یا تلاوت قرآن حکیم کریں یا کوئی مصروفیات کرلیں تو چند روز بعد یہ عادت ختم ہو جاے گی جس کا فائدہ آپ کی صحت اور خاندان کو ہو گا روزہ کے جسم پر جو مثبت اثرات ہوتے ہیں اس میں سب سے قابل ذکر خون کے روغنی مادوں میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں خاص کر مفید قلب کولیسٹرول( ایچ ڈی ایل) کی سطح میں مفید اضافہ ہے کیونکہ اس سے دل کی شریانوں کو تحفظ ملتا ہے اس کے علاوہ مضر قلب چکنائی( ایل ڈی ایل) اور ٹرائ گلیسرائیڈ کی سطح بھی معمول پر آ جاتی ہے اس کے علاوہ روزوں کی وجہ سے چکنائیوں کے استحالے(میٹابولزم) کی شرح بہت اچھی ہو جاتی ہے جس کے صحت قلب پر اچھے اثرات ہوتے ہیں اس کے علاوہ خون کا بڑا ہوا دباؤ ( ہائی بلڈ پریشیر) بھی نارمل ہو جاتا ہے-شریانوں کی کمزوری اور فرسودگی جو کہ آجکل عام ہے کی بڑی وجہ خون میں شامل باقی ماندہ غذائی مادوں کا پوری طرح تحلیل نہ ہونا ہے یوں شریانوں کی دیواروں پر چربی یا اس کے اجزاءجم جاتے ہیں جس کے نتیجے میں شریانیں سیکٹرنے کا عمل ہو سکتا ہے- روزہ میں جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوں گے تو شریانوں کے سیکھنے کے مرض سے بچا جا سکتا ہے اور ہڈیوں کا گودہ حرکت پزیر ہو کر خون میں اضافہ کا سبب بنے گا اس طرح جسم میں خون کی کمی کا عارضہ نہیں ہو گا. موٹاپا صحت کے لیے اہم مسئلہ ہے خواتین میں تو موٹاپا ختم کرنے کا جنون ہے- جگہ جگہ سلمنگ سنٹر قائم ہیں موٹاپا کو روکنے کے لئے طرز زندگی اور غذائ عادات کو بدلنا لازمی ہے اگر روزہ کو روزہ کی روح یعنی تقلیل غذا کے مطابق رکھا جائے تو موٹاپا سے بچا جاسکتا ہے ہم لوگ روزہ کے جسمانی صحت پر اثرات اس لیے حاصل نہیں کر پاتے کہ ہم روزہ رسول اکرم صہ کے اسوہ کے مطابق نہیں رکھتے. سحری وافطاری میں انواع واقسام کے کھانے تیار کرتے ہیں. گھروں کا بجٹ بڑھ کر دو گنا ہو جاتا ہے. یوں روزہ کی روح ختم ہو جاتی ہے اور جسم کی صحت کو مطلوبہ اثرات نہیں ملتے. اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہمارے اس قدر افطاری کی جاتی ہے کہ اس کے بعد کھانے کی گنجائش ختم ہو جاتی

ماہ رمضان المبارک کے روزے ہر مسلمان پر فرض ہیں.

19/02/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے