#کالم

نامور کرکٹرز کا وزیر اعظم کو خط

Fahad 01

أج کا اداریہ

دنیائے کرکٹ کے 14 نامور سابق کپتانوں نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان کے نام خط لکھا ہے جس میں عمران خان کے فوری طبی معائنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
حکومتِ پاکستان کے نام لکھے گئے اس کھلے خط میں کرکٹ کے مایہ ناز سابق کپتان سنیل گواسکر، کپل دیو، آئن چیپل، ناصر حسین، کلائیو لائیڈ، مائیکل ایتھرٹن، ایلن بارڈر اور اسٹیووا جیسے سابق کرکٹرز شامل ہیں۔
 خط میں سابق عالمی کرکٹرز نے عمران خان کی بینائی متاثر ہونے سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کا فوری طور پر ماہر ڈاکٹروں سے طبی معائنہ کروانے کا مطالبہ کیا ہے
سابق کپتانوں نے اپنے خط میں لکھا کہ بانی پی ٹی آئی عالمی سطح پر ایک نمایاں شخصیت ہیں۔ میدان میں مخالفت اپنی جگہ مگر انسانیت اور باہمی احترام کا رشتہ سب سے مقدم ہے۔

خط میں حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ واضح رہے کہ سابق کپتانوں کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق لکھے گئے اس خط میں کوئی پاکستانی کرکٹر شامل نہیں ہے
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے دوران صحت کی ناسازی کے حوالے سے خبریں سامنے آئی تھیں۔ سپریم کورٹ نے بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف کورٹ مقرر کیا تھا اور اڈیالہ جیل جا کر عمران خان کی صحت اور سہولیات اور دستیاب سہولیات پر رپورٹ پیش کرنے کی ذمہ داری تھی۔

سلمان صفدر کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ عمران خان کی ایک آنکھ کی 85 فیصد بینائی ضائع ہوچکی ہے، جس کے بعد ان کے مکمل علاج اور مکمل طبی معائنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
عدالتی حکم پر ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا تھا اور سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم کی آنکھ کی بینائی 70 فیصد ریکور ہوچکی ہے۔
تحریک انصاف کی قیادت کا کہنا ہے کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال میں طبی سہولیات کی فراہمی تک دھرنا جاری رہے گا۔ اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ان کے ذاتی معالج کی نگرانی میں شفا انٹرنیشنل میں آنکھ کا معائنہ کرایا جائے تاکہ بانی کی صحت کے حوالے سے اصل حقائق سامنے آسکیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، دونوں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ رویہ شفافیت اور قانونی حقوق کے منافی ہے اور فیملی و ذاتی معالج کی موجودگی ضروری تھی
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اڈیالہ جیل سے واپسی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے ملاقات نہ کرانے پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کے کہنے پر آئے، اب ملاقات کیوں نہیں کرائی؟ یہ رویہ غیر قانونی اورغیر آئینی ہے، ہم توقع کر رہے تھے کہ آج ملاقات ہو جائے گی، ہرکوئی بانی کی صحت کے بارے میں مستند خبر چاہتا ہے، ہم اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کیسی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ملاقاتیں نہ کرانے کی وجہ سے ملک کرائسز میں ہے، ملاقات ہو جاتی تو ہمیں اصل صورت حال پتہ چل جاتی، آپ بضد ہیں کسی کی ملاقات نہیں کرانی، فروری 2025 سے لیڈر شپ کی ملاقات بند ہے، پاکستان کی سیاست کا مین آف دی میچ بانی پی ٹی آئی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہمارابنیادی مطالبہ بانی کی شفاءانٹرنیشنل اسپتال منتقلی ہے، مطالبہ تھا بانی پی ٹی آئی تک فیملی، ذاتی معالج کو رسائی دی جائے، حکومت نےکہا اڈیالہ آجائیں، پارٹی نے مشورہ کیا ہم ایسا نہیں کرسکتے، یہ بات غلط ہے کہ ملاقات کا کہا جاتا ہے اور ہم نہیں آتے۔
اس موقع پر سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم بطور وکیل آج یہاں آئے ہیں، ہمارے مقدمات سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہیں، ہمارا بنیادی حق ہے کہ ہم بانی پی ٹی آئی سے ہدایات لیں، آج ہمیں بطور وکیل نہیں ملنے دیا گیا، بانی کا حق ہے وہ اپنی فیملی سے ملیں، فیملی کا بھی حق ہے جو بات ہے وہ باہر آکر ہمیں بتائے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے آپ کسی کو بات کرنے سے روکیں، یہ کہنا بانی کی فیملی سیاسی بات نہیں کریں گی، سراسر غیر آئینی ہے، ہماری کوئی بیک ڈور بات نہیں چل رہی، جو بات ہوگی فرنٹ ڈور سے ہوگی، طبی معائنے میں بیرسٹر گوہرنے شریک ہونے سے ٹھیک انکار کیا، فیملی کا حق تھا وہ طبی معائنے کے وقت موجود ہوں، ہم میں سے کوئی بھی جاتا قوم کو تسلی نہیں ہونی تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ شفافیت کا تقاضا تھا فیملی ممبر یا ذاتی معالج وہاں موجود ہو، ایک وکیل کا یا سیاسی رہنما کا وہاں ہونا بے معنی تھا، ہم خانہ پوری کے لیے نہیں جانا چاہتے تھے، ہم نے طبی معائنے میں شریک ہونے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا، ہم شریک ہوتے تو اس کو استعمال کیا جانا تھا۔
واضح رہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے دن چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہرعلی خان اور سلمان اکرم راجہ کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی، ماربل فیکٹری ناکے سے دونوں رہنما واپس روانہ ہوگئے۔ دونوں رہنماؤں کا نام ملاقات کی فہرست میں شامل تھا۔
اس قبل لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ انھوں نے چیئرمین پی ٹی آئی گوہرعلی خان کو کہا تھا کہ وہ اڈیالہ جیل آ جائیں تاکہ ان کی موجودگی میں معائنہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے