ایران کے معاملے، غزہ بورڈ آف پیس اور ابراہیمی معاہدوں پر پاکستان کا واضح موقف
(عبدالباسط علوی)
مشرق وسطیٰ کی جیو پولیٹکس کے حوالے سے پاکستان کا نقطہ نظر تسلسل اور اصول پسندی پر مبنی ہے، خاص طور پر فلسطین، ابراہیمی معاہدوں، علاقائی سلامتی کے اقدامات اور ایران سے متعلق تناؤ کے معاملے میں، اور یہ اس کی تاریخی، نظریاتی اور اخلاقی خارجہ پالیسی کی بنیادوں میں پیوست ہے۔ پاکستان نے تمام سفارتی فورمز پر ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے سے مسلسل اور غیر مبہم طور پر انکار کیا ہے، جس کی وجہ بیرونی دباؤ یا بدلتے ہوئے اتحاد نہیں بلکہ مسئلہ فلسطین کے ساتھ اس کی دیرینہ وابستگی ہے۔ اپنے قیام کے وقت سے ہی پاکستان نے فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی اتفاقِ رائے کے مطابق 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔ نتیجتاً، ان معاہدوں کو مسترد کرنا امن کی مخالفت کے بجائے ایک اخلاقی موقف کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ پاکستان معمول کے ان ڈھانچوں کو ناکافی اور غیر منصفانہ سمجھتا ہے جو قبضے اور فلسطینی حقوق کو نظرانداز کرتے ہیں۔
اسی وسیع تر تناظر میں پاکستان نے ‘بورڈ آف پیس’ کے انسانی ہمدردی کے مقاصد کا محتاط انداز میں خیرمقدم کیا ہے اور اسے غزہ میں مصائب کو کم کرنے اور عالمی توجہ دوبارہ فلسطین پر مرکوز کرنے کے ایک ممکنہ پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا ہے، جب کہ ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کیا ہے کہ اس طرح کی شمولیت ابراہیمی معاہدوں یا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی جانب کسی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ پاکستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ انسانی ہمدردی کے اقدامات کے لیے اس کی حمایت سیاسی یا تزویراتی نارملائزیشن کے ایجنڈوں سے بالکل الگ ہے اور اس سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے یا فلسطین کے لیے غیر متزلزل حمایت کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اسی طرح، غزہ کی مجوزہ اسٹیبلائزیشن فورس میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ تزویراتی احتیاط اور اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ پائیدار امن صرف سکیورٹی دستوں کی تعیناتی سے حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے بنیادی سیاسی وجوہات جیسے کہ غاصبانہ قبضہ، حقوق سے محرومی اور کسی معتبر امن عمل کی عدم موجودگی کو حل کرنا ضروری ہے۔ پاکستان نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ فلسطین پر اس کا موقف اٹل ہے، جو اس کے عوام کے جذبات سے گہرا ہم آہنگ اور اس کی خارجہ پالیسی کی شناخت کا مرکزی حصہ ہے اور یہی موقف تمام سفارتی روابط کو منصفانہ، قانونی اور مذاکراتی حل کی طرف گامزن کرتا ہے۔
فلسطین اور غزہ پر اپنے اٹل موقف کے ساتھ ساتھ پاکستان نے ایران کے اہم مسئلے پر بھی اسی طرح کی سختی اور دور اندیشی کے ساتھ ایک واضح اور اصولی موقف اپنایا ہے، خاص طور پر علاقائی تناؤ میں اضافے اور کسی بھی ایسی ممکنہ کشیدگی کے تناظر میں جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ جیسے فورمز اور براہ راست دو طرفہ بات چیت میں ایران کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل کو سفارت کاری، تعمیری مکالمے اور پرامن سیاسی شمولیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ تہران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی دو ٹوک مخالفت کی ہے۔ یہ موقف پاکستان کے اس گہرے یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ پیچیدہ سیاسی اور سیکورٹی چیلنجز کے فوجی حل اکثر عدم استحکام کو بڑھاتے ہیں اور تنازعات کے حل کے بجائے انسانی مصائب کا سبب بنتے ہیں۔ ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت، مشترکہ سرحدوں، ایرانی عوام کے ساتھ گہرے تاریخی و ثقافتی تعلقات اور باہم جڑے ہوئے سیکورٹی خدشات کی وجہ سے اسلام آباد ایران سے متعلق کسی بھی ممکنہ مسلح تصادم کو محض ایک دور کا واقعہ نہیں بلکہ خطے کے امن اور اپنے بنیادی قومی مفادات بشمول معاشی تحفظ اور داخلی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ سمجھتا ہے۔ لہٰذا سفارت کاری اور تناؤ میں کمی کے لیے پاکستان کی مسلسل وکالت نہ صرف جنگ کے خلاف ایک اصولی موقف ہے بلکہ ایک عملی ضرورت بھی ہے جو اس حقیقت پر مبنی ہے کہ خطے میں لگنے والی آگ کے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے بین الاقوامی سفارت کاری کی اس پیچیدہ بساط پر ان اہم مؤقف کی وضاحت اور دفاع میں ایک ناگزیر اور مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ سرکاری بریفنگز، عوامی بیانات اور دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں انتھک سفارتی کوششوں کے ذریعے دفتر خارجہ نے ملک کا واضح موقف اس انداز میں پیش کیا ہے جو نہ صرف متاثرہ خطوں کی خواہشات بلکہ پوری مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستانی عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔ سرکاری پالیسی اور عوامی جذبات کے درمیان اس ہم آہنگی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے انتخاب کے حق میں داخلی اور بین الاقوامی سطح پر قانونی جواز فراہم کیا ہے اور سفارتی اداروں پر عوامی اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔ مزید برآں پاکستان کے بیانات کی غیر مبہم وضاحت اور مستقل مزاجی نے غلط معلومات، جان بوجھ کر پیدا کی گئی الجھنوں اور اسٹریٹجک غلط بیانیوں کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر ابراہیمی معاہدوں اور انسانی ہمدردی کے اقدامات کے درمیان فرق اور بورڈ آف پیس کے ساتھ وابستگی کی نوعیت کے حوالے سے۔
ملکی سطح پر مشرق وسطیٰ کے ان باہم جڑے ہوئے مسائل پر حکومت کے واضح اور اصولی موقف کو پاکستانی عوام کی جانب سے بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے۔ ایک ایسے عالمی ماحول میں جہاں سیاست اکثر اخلاقی ابہام، وفاداریوں کی تبدیلی اور لین دین کی سفارت کاری کی بنیاد پر چلتی ہے، پاکستان کی جانب سے اپنے نقطہ نظر کا دلیری اور آزادی کے ساتھ اظہار، چاہے وہ عالمی طاقتوں کے مفادات سے میل نہ کھاتا ہو، خود مختار وقار کی علامت ہے۔
پاکستانی قوم اس سفارتی خود اعتمادی کو محض سرکشی نہیں بلکہ قومی طاقت اور ذہنی آزادی کے عکاس کے طور پر دیکھتی ہے۔






