#اداریہ

ڈیل یا انسانی ھمدردی کی بناپرعلاج

Fahad 01

اداریہ

حکومت جب بھی کسی ایشوکو برملا جھٹلاتی ہے یا کسی عوامی صحافتی تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اسکی نفی کرتی ہے تو عام طور دال میں کچھ کالا سمجھا جاتاہے وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ’عمران خان کی آنکھ کے جاری علاج کے تسلسل میں مزید معائنہ اور علاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے تاہم اسے کوئی ڈیل ویل نہ سمجھا جائے۔
انکا کہنا ہے کہ ’عمران خان کی بہترین طبی معاونت کیلیے جہاں مناسب ہوا بھیجا جائے گا۔ کہاں جائیں گے ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔ ‘
’عمران خان کی نظر کبھی بھی مکمل صحیح سکس بائی سکس نہیں تھی۔ ‘
نجی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے عطا ترڑ کا کہنا تھا کہ ’انھیں جلد لے جایا جائے گا۔ پہلے بھی بروقت پمز لے جایا گیا تھا۔ اور فی الحال بہترین معالج فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ذاتی معالجین میں آنکھوں کے ڈاکٹر نہیں ہیں۔ ‘
انھوں نے کہا کہ ’جو بھی ہو گا مریض کے بہترین مفاد میں ہوگا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ بظاہر دیکھنے سے آنکھ کا مسئلہ دکھائی نہیں دے سکتا۔ اس معاملے میں تو مزید تحقیقات کی ضرورت ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو حکم دیا گیا ہے کہ ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی جانب سے عدالت کی طرف سے مقرر کیے گئے ’فرینڈ آف کورٹ‘ سلمان صفدر کی طرف سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کی روشنی میں یہ حکم دیا۔ عمران خان نے جیل میں اپنی مصروفیات، مشکلات اور سہولیات سے متعلق بیرسٹر سلمان صفدر کو کیا بتایا اور انھوں نے خود کیا دیکھا، یہ انھوں نے اپنی رپورٹ میں درج کیا ہے۔
عدالت میں جمع کرائی گئی بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کی کہ گذشتہ تین ماہ سے انھیں نظر میں کمی کی شکایت ہے ’حالانکہ اکتوبر 2025 تک ان کی نظر بالکل ٹھیک تھی۔‘
رپورٹ میں وکیل نے لکھا تھا کہ عمران خان اپنی بینائی کم ہونے اور بر وقت طبی امداد نہ ملنے پر واضح طور پر پریشان تھے۔ ’ملاقات کی دوران ان کی آنکھوں سے پانی بہتا رہا اور وہ ٹشو سے اسے صاف کرتے رہے۔‘
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے کے متعدد شہروں میں احتجاج کی کال دی تھی
’ایکس‘ پر پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے متعدد شہروں میں بانی کی صحت کے لیے اس احتجاج کی کال دی گئی۔
واضح رہے کہ اڈیالہ جیل میں قیدی کی جانب سے علاج کے باوجود دائیں آنکھ میں صرف 15 فیصد بینائی رہ جانے کی شکایت کے بعد سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے ان کی آنکھ کا معائنہ کروائیں۔
پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ کے مطابق آاسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں فیض آباد کے مقام پر دن دو بجے پی ٹی آئی کارکنوں کو جمع ہونے کا پیغام دیا گیا تھا
جبکہ پشاور۔ کراچی سمیت دیگر شہروں میں بانی کی صحت کے لیے یکجہتی کا اظہار کیا گیا
پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ کے مطابق لاہور کے مال روڈ پر جی پی او چوک پر بھی احتجاج ہوا
ادھر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری اکرام کھتانہ نےبتایا کہ خیبر پختونخوا میں دو مقامات پر احتجاج ہوا جن میں موٹروے ایم ون پر صوابی کے مقام پر اور دوسرا ڈیرہ اسماعیل کے مقام پر خیبرپختونخوا کو پنجاب سے ملانے والے راستے پر بھکر پل کے پاس جاری رہا
انھوں نے بتایا کہ اب ہزارہ موٹروے پر بھی لوگ احتجاج کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔‘
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ عاپنے قائد کی صحت پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دیں گے
سوشل میڈیا سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کوئی معمولی شخص نہیں۔
’اُن کی صحت کے ساتھ مذاق کیا گیا، جو ناقابل معافی ہے۔ اب اس وقت اُن کا بہترین علاج ہماری اولین ترجیح ہے۔ کوئی ہرگز یہ نہ سوچے کہ میں خان کے علاج تک آرام سے بیٹھوں گا۔‘
بانی کی جانب سے علاج کے باوجود دائیں آنکھ میں صرف 15 فیصد بینائی رہ جانے کی شکایت کے بعد سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم کا طبی معائنہ کروانے اور اُن کی اپنے بیٹوں سے بات کروانے کا حکم دیا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو حکم دیا گیا کہ ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی جانب سے عدالت کی طرف سے مقرر کیے گئے ’فرینڈ آف کورٹ‘ سلمان صفدر کی طرف سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کی روشنی میں یہ حکم دیا تھا
نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے عظا تارڑ کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کو جیل میں پر تعیش ماحول حاصل ہے۔‘
انھوں نے وضاحت کی کہ ’کسی دوسرے قیدی کو کو ٹریڈ میل نہیں دی جاتی۔ اس لیے انھیں ملنے والی سہولیات پر تعیش کہلائیں گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مزید چیک اپ ہو گا تو معاملات کلیئر ہو جائیں۔‘
حکومت اور تحریکِ انصاف میں برف پگھنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ انسداد دہشت گردی کے معاملے پر تھا۔ وہ انتظامی معاملات ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ ’یہ تاثر غلط ہے کہ کوئی ڈیل یا مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ‘

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے