سیاست میں بنگلہ دیش کی حسینہ بیزاری اور ہماری وجاہت پرستی
افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخار الحق
سابقہ مشرقی پاکستان ہماری سنگین ترین سیاسی غلطیوں کے سبب 1971 میں بنگلہ دیش بن گیا اور اپنی پیدائش کے چند سال بعد ہی سیاسی بھونچالوں کا سامنا کرنے لگا ۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ بیشتر معاشی اشاریوں میں بنگلہ دیش پاکستان سے بہتر ہوتا چلا گیا اور اس وقت بھی وہاں اوسط آمدن ، جی ڈی پی ، غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر اور سالانہ معاشی ترقی کا تناسب ہم سے بہتر ہے ۔ بنگلہ دیش نے معاشی ترقی کا تناسب چار سے چھ فیصد تک ایک عرصے سے برقرار رکھا ہوا ہے۔ تاہم سیاسی استحکام کے حوالے سے ملک کے بانی رہنما شیخ مجیب کی بیٹی حسینہ واجد طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے بعد شدید مخالفت کی زد میں آ کر بھارت سدھار گئیں ۔ یوں عثمان ہادی نامی طالبِ علم کی شہادت رنگ لائی اور پورے امن امان سے عام انتخابات کے نتائج متحدہ اپوزیشن کی سرخیل جماعت اسلامی نے جمہوری انداز میں قبول کر لیے ۔
جب بنگلہ دیش میں انتخابی مہم عروج پر تھی تو نو منتخب پارٹی ، بی این پی نے بار ہا اعلان کیا کہ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور مہنگائی ہے اور اسی نعرے نے اسے فتح دلوائی ۔ یہ تمام سیاسی منظرنامہ دیکھتے ہوئے کئی دوستوں نے سوال کیا کہ اگر کرپشن ہی بڑا مسئلہ ہے تو بنگلہ دیش میں اچانک کسی” ایک” لیڈر نے اٹھ کر یہ کہنا کیوں نہ شروع کیا کہ دیگر تمام لیڈر اور سیاسی جماعتیں چور ڈاکو وغیرہ ہیں ، اس لیے “ صرف مجھے ووٹ دو کیونکہ میں مسلمہ طور پر اپنے قابلِ اعتراض ماضی کے باوجود واحد لیڈر ہوں جس کے پاس کوئی ایسی جادوئی چھڑی ہے جس سے 90 دن میں کرپشن ختم کر دوں گا اور ہمارا ملک اچانک جست لگا کر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں جا کھڑا ہوگا“۔ بہت غور کرنے کے باوجود اس سوال کا جواب تو کیا ملتا ، تیسری دنیا کے کئی اور ممالک اسی حوالے سے ذہن میں آ کر شور مچانے لگے ۔ یہ سوال واقعی منطقی بنیاد رکھتا ہے کہ بھارت ، برما اور تھائی لینڈ وغیرہ کے ساتھ جنوبی و لاطینی امریکی ممالک میں بھی ایسا کوئی مسیحا کیوں نہیں پیدا ہوا جو یہ دعویٰ کرے کہ تمام سیاستدان چور ، بدعنوان اور لٹیرے ہیں اور صرف ایک لیڈر کے ہاس کوئی الہامی قوت ہے جس کے ذریعے وہ عوام کی بہت بڑی تعداد کو قائل بھی کر لیتا ہے اور عوام کو اس کے ماضی یا حال سے کوئی غرض نہیں ہوتی ۔ جس کے پاس نہ اپنے ملک کے نہایت بنیادی اعداد وشمار کا علم ہوتا ہے ، نہ عالمی تاریخ اور سیاسی منظرنامے کی درست معلومات ہوتی ہیں اور نہ ہی اپنے دین کی مبادیات سے کچھ واسطہ ہوتا ہے لیکن پھر بھی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس کے شخصی طلسم کی اسیر ہوتی چلی جاتی ہے ۔ انھیں ایپسٹین پیپرز کے ہولناک اور غلیظ انکشافات سے اس کے براہِ راست تعلق سے بھی کوئی غرض نہیں ۔
تیسری دنیا کے دیگر تمام ممالک کے عوام کیا واقعی ذہنی طور پر اس قدر پسماندہ ہیں کہ انھیں کوئی ایسا واحد لیڈر نصیب نہیں ہوتا جو محض ایک نعرۂ مستانۂ کرپشانہ لگا کر عوام کو اپنی جادوئی بانسری کی دھن پر اپنا مرید بنا لے ؟ یہ سوال بے حد اہم ہے کہ صرف اور صرف ہمارے وطن میں شخصیت پرستی کی ایسی انتہا کے اسباب کیا ہیں اور ان اسباب کی جڑیں کہاں کہاں تلاش کرنی پڑیں گی ۔
کرپشن تمام ترقی پذیر ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے لیکن کیا یہ دانشمندی ہے کہ اس مسئلے کے حل کی ایسی صورت نکالنے کی سعی کی جائے کہ جس سے مزید کئی گھمبیر مسائل کا ایک انبار لگتا چلا جائے اور عوام کو پھر بھی اپنے محبوب رہنما کی کرشماتی شخصیت کے سامنے مسائل کا یہ انبار یکسر دکھائی ہی نہ دے ؟ کیا ہمارے ہمسایہ ممالک میں جاری سیاسی اتھل پتھل کی سرے سے کوئی اہمیت نہیں ؟ کیا مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ جنگی جھڑپوں کے براہِ راست ہماری سیاسی اور معاشی جہات پر اثرات کی کوئی وقعت ہی نہیں ہے؟ کیا ان پروانوں کو پاکستان کی عالمی سیاسی بساط پر خدانخواستہ محض ایک پیادے کی حیثیت عزیز ہے کیونکہ ان کی پسندیدہ قیادت اس وقت اقتدار میں نہیں ہے؟ کیا ان تمام دیوانہ وار شخصیت پرستوں نے کبھی اپنی قیادت سے کوئی مختصر / مفصل روڈ میپ طلب کیا جسے سامنے رکھ کر اتنے بڑے بڑے دعوؤں پر عمل کرنا ممکن ہو؟ افسوس اس پر ہے کہ ان تمام سوالوں کا جواب ایک بہت بڑے “ نہیں “ کی صورت سامنے آتا ہے ۔ کاش ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے کی طرف سے شدید گالم گلوچ سے بھرپور زبان کی بجائے باقاعدہ مدلل اور ٹھوس شواہد کے ساتھ کوئی جواب مل سکے ۔






