سرکاری مراعات کا خاتمہ: قومی بقا کی ناگزیر شرط
انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ فرد ہو یا قوم، ترقی، خوشحالی اور بقا کا دارومدار محنت، دیانت اور منصفانہ نظامِ معیشت پر ہوتا ہے۔ ایوانوں کی شان ہو یا عام آدمی کے گھر کی رونق، زندگی کی زیب و زینت اور معاشرتی توازن کا براہِ راست تعلق معاشی استحکام سے ہے۔ معاشی آسودگی کے بغیر نہ فرد سکون پا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ریاست دیرپا ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔ جسم و روح کے رشتے کو برقرار رکھنے کے لیے روٹی، کپڑا اور مکان بنیادی ضرورتیں ہیں، اور ان ضروریات کی تکمیل ایک مضبوط اور منصفانہ معاشی نظام ہی کے ذریعے ممکن ہے۔
بدقسمتی سے گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان میں جو معاشی ترقی دکھائی گئی، وہ حقیقی کم اور مصنوعی زیادہ تھی۔ یہ ترقی اندرونی پیداوار، صنعتی فروغ یا زرعی انقلاب کا نتیجہ نہیں بلکہ اندرونی و بیرونی قرضوں کا شاخسانہ تھی۔ اس نام نہاد ترقی نے اگر کسی کو فائدہ پہنچایا تو وہ صرف حکمران طبقہ، اعلیٰ بیوروکریسی اور مراعات یافتہ اشرافیہ تھی۔ عوام کی اکثریت آج بھی دو وقت کی روٹی، علاج اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہی ہے۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسے معاشی حیوانی دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں روح کی پاکیزگی، اخلاقی اقدار اور اجتماعی ذمہ داری کا تصور دم توڑ رہا ہے۔ جاگیرداری، سرمایہ داری اور بے لگام اشرافیہ کے گٹھ جوڑ نے معاشرے کو دو واضح طبقات میں تقسیم کر دیا ہے: ایک مراعات یافتہ اقلیت اور دوسری محروم اکثریت۔ اس طبقاتی خلیج نے نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ قومی وحدت کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسا خطہ عطا کیا ہے جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ زرخیز زمینیں، دریا، نہریں، معدنی ذخائر، قیمتی دھاتیں، تیل، گیس، کوئلہ اور نایاب پتھر—یہ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اگر دیانت داری اور درست حکمتِ عملی کے ساتھ ان وسائل کو بروئے کار لایا جائے تو یہ ملک خود کفیل ہی نہیں بلکہ خطے کی ایک مضبوط معاشی طاقت بن سکتا ہے۔ پاکستانی قوم محنتی، جفاکش اور ذہین قوم ہے۔ دنیا بھر میں پاکستانی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ پھر اپنے ہی وطن میں یہ قوم معاشی بدحالی کا شکار کیوں ہے؟
اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہمیں جذباتی نعروں، سازشی نظریات اور الزام تراشی سے آگے بڑھ کر حقائق کا سامنا کرنا ہوگا۔ بلاشبہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں، مگر سچ یہ بھی ہے کہ کسی بھی ملک کو سب سے زیادہ نقصان اندرونی بدعنوانی، نااہلی اور غلط پالیسیوں سے پہنچتا ہے۔ ہم نے قرضوں کو ترقی کا متبادل سمجھ لیا، اور ٹیکس دہندگان کے پیسے کو حکمران طبقے کی عیاشیوں پر نچھاور کیا۔
آج ملک میں ایک عام مزدور یا تنخواہ دار طبقے کا فرد، جو بمشکل پچیس یا تیس ہزار روپے کماتا ہے، ہر قسم کے بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول، اشیائے خوردونوش—ہر شے پر ٹیکس۔ اس کے برعکس سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے ماہانہ لینے والے ارکانِ اسمبلی، وزراء، مشیران اور اعلیٰ افسران کو مفت بجلی، گیس، پٹرول، شاہانہ رہائش، سرکاری گاڑیاں، سیکیورٹی اور بیرونِ ملک سفری سہولیات میسر ہیں۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں حکمران عوام کے پیسے سے عیش کریں اور عوام قرضوں کے بوجھ تلے سسکتے رہیں؟
حکمران طبقے نے عوامی فلاح کے نام پر لیے گئے قرضوں کو ’’اوپر کی آمدنی‘‘ سمجھ کر استعمال کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قرض در قرض لیے گئے، مگر نہ عوام کی حالت بدلی اور نہ ہی معیشت مستحکم ہوئی۔ آج ہم ایک ایسے دائرے میں پھنس چکے ہیں جہاں نئے قرض پرانے قرض اتارنے کے لیے لیے جا رہے ہیں، اور اصل رقم مراعات، بدعنوانی اور غیر ترقیاتی اخراجات کی نذر ہو رہی ہے۔
اس معاشی بحران نے ملک میں سیاسی افراتفری، عدمِ تحفظ، بے یقینی اور مایوسی کو جنم دیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں، جبکہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کے نیچے پس رہے ہیں۔ میڈیا، خاص طور پر سوشل میڈیا، اکثر حقائق کے بجائے سنسنی اور انتشار کو ہوا دیتا ہے، جس سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید الجھ جاتے ہیں۔
اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں اجتماعی سطح پر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مسئلے کی جڑ غیر منصفانہ نظامِ مراعات ہے۔ جب تک حکمران طبقہ خود کو قانون اور قربانی سے بالاتر سمجھتا رہے گا، تب تک اصلاح ممکن نہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ سرکاری مراعات کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور غیر ضروری سہولیات کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ مفت بجلی، گیس، پٹرول، شاہانہ پروٹوکول، غیر ملکی دورے اور اضافی الاونس—یہ سب وہ بوجھ ہیں جو قومی خزانے کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔
ملک سے محبت محض نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ثابت ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے ملک سے محبت کے عہد کی تجدید کرنا ہوگی۔ یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ اگر خدانخواستہ ملک غیر مستحکم ہوا تو کوئی طبقہ محفوظ نہیں رہے گا۔ آزادی اور خود مختاری کی قدر ان قوموں سے سیکھی جا سکتی ہے جنہوں نے دہائیوں کی قربانیوں کے بعد آزادی حاصل کی اور آج قرضوں کے بغیر اپنی پالیسیاں خود تشکیل دے رہی ہیں۔
ایک اہم قدم ’’میثاقِ معیشت‘‘ کی تشکیل ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر اس نکتے پر اتفاق کرنا ہوگا کہ معیشت کو سیاست کی نذر نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کسی کی بھی ہو، طے شدہ معاشی اصولوں سے انحراف جرم تصور کیا جائے، اور آئین میں اس کی واضح سزا موجود ہو۔ اسی طرح جس طرح عدالتی سطح پر سود کو حرام اور ممنوع قرار دیا گیا ہے، ویسے ہی انتظامی اور بینکاری سطح پر بھی سود سے پاک نظام کے لیے سنجیدہ اور






