مغرب کے برابری میں خواتین کے حقوق دلانے والی تنظیمیں
جمع تفریق۔۔ناصر نقوی
مغرب کے برابری میں خواتین کے حقوق دلانے والی تنظیمیں نہ صرف پیچھے رہ گئیں بلکہ حقوق نسواں کے نام پر ٫٫میرا جسم میری مرضی،، کا ہنگامہ کرنے والیوں کا مشکل کام بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے بآ سانی کر دیا ان کی خوشی٫٫ ڈومیسٹک وائلنس بل،، نے دوبالا کر دی کیونکہ اس بل کے ذریعے انہیں وہ کچھ بھی مل گیا جس کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا ٫٫وومن ڈے ،،کے حوالے سے ہر سال سول سوسائٹی کی خواتین ملک بھر میں آ زادی نسواں کی بات کرتے ہوئے جب یہ نعرہ لگاتی ہیں کہ مجھے اپنی مرضی سے جینے کا حق دو تو اس کا مطلب بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ ٫٫میرا جسم میری مرضی،، کہتے ہوئے یورپ کی خواتین کی طرح مادر پدر آزادی مانگ رہی ہیں مذہبی حلقوں کی تنقید تھی کہ اسلام اور پاکستان میں مغرب سے زیادہ آ زادی، عزت ، احترام عورت کو حاصل ہے پھر یہ کیوں مغرب زدہ سوچ میں اپنے معاشرے، روایات اور مذہب سے بغاوت کر رہی ہیں حالانکہ ان ان کا مطالبہ تھا کہ تعلیم صحت اور روزگار کے موقع میں صنفی برتاؤ کا خاتمہ کیا جائے ایسی قدغن نہ لگائے لگائی جائے کہ حوا کی بیٹی قومی دھارے میں تمام تر صلاحیتوں کے باوجود اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی بجائے تماشہ بن جائے لیکن چند عاقبت نا اندیشوں نے سول سوسائٹی کی ریلیوں کے حوالے سے ایسے پلے کارڈ، سلوگن اور تحریر یں متعارف کرا دیں کہ ان کی ساری جدوجہد ٫٫میرا جسم میری مرضی ،،کے فلک شگاف نعروں میں دم توڑ گئی کیونکہ تنقید کا ایسا سیلاب آ یا کہ سب کچھ بہا لے گیا ایسے میں نا امیدی کے سائے خاصے گمبھیر ہو گئے تھے پھر بھی موجودہ اتحادی حکومت نے اپنی دو تہائی اکثریت میں ترامیم اور نئے بل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی معاشرے میں ہلچل پیداکر دی، 26ویں اور 27ویں ترامیم کے معاملات عام آ دمیوں کے سر سے گزر گئے، انہیں صرف سیاست دانوں، اپوزیشن اور ماہرین قانون نے مسئلہ بنایا لیکن پارلیمنٹ اور اکثریت کے سامنے کچھ نہ کر سکے اور اب انہیں 28 ویں ترمیم کی پریشانی لاحق ہے میرے خیال میں وہ بھی اپنے مخصوص وقت پر آ ئے گی، پارلیمنٹ، سوشل میڈیا اور ٹاک شوز میں زیر بحث بھی آ ئے گی، کچھ شقوں پر سیاسی لڑائیاں بھی ہوں گی، خدشات اور تحفظات کا اظہار سامنے آ ئے گا لیکن وہ بھی منظور ہو جائے گی کیونکہ فارمولا ٫٫کچھ دو کچھ لو،، ہی چلے گا تاہم عوامی حوالوں سے دو قوانین اس وقت خصوصی توجہ کا باعث ہیں کم عمر شادیوں کے حوالے سے مذہبی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے پیر سیاست مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں سرکار کی اس پابندی کی میں نہ صرف مخالفت کروں گا بلکہ ایسی شادیاں خود کراؤں گا، ان کی اس ادا پر حافظ حمد اللہ کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کو اس مہم اور حکومت مخالف تحریک میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کرنا چاہیے بلکہ وہ یہ کام شاید جلد از جلد چاہتے تھے اس لیے انہوں نے یہ نعرہ مستانہ بھی لگایا ہے کہ٫٫ اگر مجھے غصہ آ گیا تو میں کسی 16 سالہ لڑکی سے شادی بھی کر لوں گا،، دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ دھمکی حکومتی مخالفت میں بطور سیاسی نعرہ دی ہے کیونکہ وہ یہ ضرور جانتے ہوں گے کہ ٫٫ڈومیسٹک وائلنس بل،، کی منظوری کے بعد دوسری شادی اور طلاق کی دھمکی بھی اب جرم اور قابل سزا ہے اس لیے کہ مشترکہ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد اس پر صدر پاکستان زرداری نے بھی دستخط کر دیے ہیں اس بل کی منظوری کو عام لوگ آ دم زادوں کی شامت اور حوا کی بیٹی کا راج قرار دے رہے ہیں اس سلسلے میں٫٫ وی لاگ،، کے ذریعے میں نے حافظ حمداللہ کو اطلاع دے دی ہے کہ آ پ سے قبل اداکارہ ،ہدایت کارہ سنگیتا نے غصے میں شادی کی تھی اور انہوں نے ایک پروگرام میں غلطی تسلیم بھی کی ہے کہ غصے میں شادی کر تو لی لیکن وہ تین سال سے زیادہ نہیں چل سکی بلکہ میں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا غصے میں کی گئی شادی جائز ہوگی کہ ناجائز ؟ اس لیے کہ دین فطرت اسلام میں غصہ حرام قرار دیا گیا ہے میرے خیال میں حافظ حمد اللہ اور مذہبی حلقوں کو مولانا فضل الرحمن سے مشاورت کر کے٫٫ ڈومیسٹک وائلنس بل،، کے خلاف بھی باقاعدہ تحریک چلانی چاہیے کیونکہ اسلام مردوں کو چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے بلکہ طلاق کا حق بھی، پھر اسے بل کے ذریعے کیوں قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے؟
میں نے اپنے دوست، دانشور ٹوٹو میاں آ ف موچی دروازہ کو جب خبر دی کہ ٫٫ڈومیسٹک وائلنس بل،، پر صدر مملکت زرداری نے دستخط کر دئیے ہیں لہذا اب یہ نافذ العمل ہو چکا ہے ذرا سنبھل کر، ورنہ بڑھاپے میں جیل جاؤ گے تمہیں روز روز لڑنے، جھگڑنے کی عادت چھوڑنی ہوگی کیونکہ نئے قانون کے مطابق بیوی کو گھورنے پر تین سال قید ہوگی،
بولے پہلے ہی کون سا آ زار پھر رہے ہیں ایک سزا اور سہی ۔۔پھر مسکرائے اور کہنے لگے٫٫ یہ قانون اسلام، ریاست، اخلاقیات اور روایات کے خلاف ہے پہلے کسی کی بیوی کو گھور کر دیکھنا قابل اعتراض تھا اب اپنی بیوی کو بھی گھور نہیں سکتا ،یہ ظلم ہے بلکہ سہیل وڑائج کے مطابق ٫٫کھلا تضاد،، ہے
میں نے پوچھا ۔۔اس میں تضاد کیا ہے؟
فرمایا۔۔ ہم کلمہ گو ہیں ہمیں چار شادیوں کا حق مالک کائنات نے دیا ہے پہلے کوئی دوسری شادی کرے نہ کرے دھمکی سے کام چل جاتا تھا بیگم صاحبہ معمولی سی دھمکی سے تیر کی طرح سیدھی ہو جاتی تھیں اب آ دم زادوں کا یہ استحقاق بھی چھین لیا گیا ہے پھر کہنے لگے۔۔ میں نے بڑے غور سے اس بل کی شقیں پڑھی ہیں یہ بل ہمارے مشترکہ خاندانی سسٹم کے لیے بھی٫٫ ہتھوڑا،، ثابت ہوگا بل کے مطابق کہ بیوی کو زبردستی دیگر گھر والوں کے ساتھ رکھنا بھی جرم ہوگا ،یہی نہیں سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ






