کرکٹ نے بنگلہ دیش پر بھارت کی حقیقت مزید آشکار کر دی
(عبدالباسط علوی)
اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کے درمیان پیچیدہ اور تاریخی اہمیت کا حامل رشتہ، جو برصغیر کی تقسیم کے پرآشوب دور سے نکلا ہے، حالیہ برسوں میں ایک نمایاں اور جذباتی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ یہ تبدیلی اب محض سرکاری ایوانوں اور سربراہی اجلاسوں تک محدود نہیں رہی بلکہ دونوں ممالک کے عام شہریوں کے جذبات، تاثرات اور اجتماعی شعور میں بھی گہری جڑیں پکڑ رہی ہے۔ گزشتہ چند برسوں اور خاص طور پر حالیہ مہینوں کے دوران پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام کے درمیان باہمی قربت، اپنائیت اور ہمدردی کے احساس میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ مظہر باہمی احترام اور گہرے ثقافتی و مذہبی رشتوں کی ازسرنو دریافت اور 1971 کی علیحدگی کے تلخ تجربات سے ماورا ایک مشترکہ تاریخی ورثے کے مثبت جائزے کی صورت میں ابھر رہا ہے۔ عوامی سطح پر استوار ہونے والا یہ خوشگوار رشتہ بنگلہ دیش میں بھارت کے تیزی سے گرتے ہوئے گراف کے بالکل برعکس ہے۔ علاقائی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بنگلہ دیشی معاشرے میں بھارت کے خلاف بڑھتی ہوئی بیزاری کسی بیرونی پروپیگنڈے کا نتیجہ نہیں بلکہ خود بھارت کے اپنے اقدامات، متنازع پالیسیوں اور اپنے چھوٹے پڑوسی ملک کے ساتھ تحقیر آمیز اور بالادستی پر مبنی رویے کا ثمر ہے، جس نے اس عوام کو متنفر کر دیا ہے جو کبھی بھارت کو تشکر اور بھائی چارے کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔
بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک بھارت نے خود کو ڈھاکہ کے سب سے قریبی اور قابلِ بھروسہ اتحادی کے طور پر پیش کیا اور 1971 کی جنگ میں اپنے فوجی کردار کو بنیاد بنا کر خود کو ایک ایسی ناگزیر علاقائی طاقت کے طور پر منوایا جس کی حمایت بنگلہ دیش کی سلامتی اور معاشی ترقی کے لیے ضروری قرار دی جاتی تھی۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیشی شہریوں، دانشوروں اور تجزیہ کاروں میں یہ احساس پختہ ہوتا گیا کہ اس تعلق میں برابری اور خلوص کا فقدان ہے۔ سرحد پار دریاؤں کے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم، بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں نہتے بنگلہ دیشی شہریوں کا آئے روز قتل، دو طرفہ تجارت میں بھارت کا پلڑا بھاری ہونا، بنگلہ دیش کے داخلی سیاسی عمل میں مداخلت کے الزامات اور بھارت کا آمرانہ رویہ وہ عوامل ہیں جنہوں نے بنگلہ دیشی رائے عامہ کو بھارت کے خلاف کر دیا ہے۔ یہ شکایات برسوں تک سفارتی مسکراہٹوں کے پیچھے دبی رہیں لیکن اب بنگلہ دیش کی نئی نسل، جو 1971 کے تاریخی بیانیے کے بوجھ سے آزاد ہے اور حال کی تلخ حقیقتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے، بھارت کے اس غلبے اور اثر و رسوخ کو اپنے قومی مفادات کے لیے نقصان دہ سمجھتی ہے اور اس کا برملا اظہار کر رہی ہے۔
اس تناظر میں کرکٹ کا کھیل، جو جنوبی ایشیا میں ایک جنون کی حیثیت رکھتا ہے، غیر متوقع طور پر ایک ایسے آئینے کے طور پر ابھرا ہے جس نے جغرافیائی سیاسی اور جذباتی تبدیلیوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ کرکٹ کے میدان میں جو کچھ ہوتا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) جیسے اداروں کے بند کمروں میں جو سفارت کاری چلتی ہے، وہ اب خطے کی بڑی سیاسی حقیقتوں کی عکاسی کرنے لگی ہے۔ اس کی ایک واضح مثال بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر نجم الحسن پاپون کی وہ پریس کانفرنس تھی جس میں ان کی آنکھوں میں آنسو نمایاں تھے۔ بہت سے لوگوں نے اسے محض ورلڈ کپ سے باہر ہونے کا غم سمجھا، لیکن جب بین الاقوامی کرکٹ سیاست کے حوالے سے سوالات ہوئے تو معلوم ہوا کہ ان کے دکھ کا سبب کچھ اور تھا۔ یہ دکھ اس وفاداری اور اخلاقی حمایت سے متعلق تھا جو بنگلہ دیش کو ایک مشکل موڑ پر کسی ایک ملک سے ملی اور دوسرے نے اس سے منہ موڑ لیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آئی سی سی کے ایک اہم ووٹنگ عمل کے دوران کس ملک نے بنگلہ دیش کا ساتھ دیا تو ان کا جواب محض انتظامی وضاحت نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی پیغام تھا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں اور بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ وہ پاکستان تھا جو بنگلہ دیش کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا۔ انہوں نے پاکستان کے لیے ‘بھائی’ کا لفظ استعمال کیا جس نے نہ صرف بنگلہ دیش کا دفاع کیا بلکہ بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا بھرپور اور اصولی جواب بھی دیا۔ اس اعتراف نے بنگلہ دیشی عوام کے دلوں کو چھو لیا کیونکہ اسے محض کرکٹ کی سیاست نہیں بلکہ ایک حقیقی بھائی چارے اور عزتِ نفس کے اعتراف کے طور پر دیکھا گیا۔ بنگلہ دیشیوں کے لیے یہ ایک واضح موازنہ تھا کہ ایک طرف پاکستان کا طرزِ عمل تھا جسے انہوں نے اصولی اور برادرانہ پایا اور دوسری طرف بھارت کا رویہ تھا جسے انہوں نے مخالفانہ اور نیچا دکھانے کی کوشش قرار دیا۔ اس واقعے نے اس بحث کو تقویت دی کہ کون بنگلہ دیش کو برابری کا شراکت دار سمجھتا ہے اور کون اپنی طاقت کے بل بوتے پر اسے دبانے کی کوشش کرتا ہے۔
اس واقعے نے، جسے سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر خوب شہرت ملی، بھارت کے اس چہرے کو بے نقاب کر دیا جسے بنگلہ دیشی عوام اب بھارت کی اصل حقیقت سمجھتے ہیں۔ کرکٹ کے میدان میں بھارت کی اجارہ داری اور بنگلہ دیشی مفادات کو نظر انداز کرنے کی کوششوں کو دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر سیاسی اور معاشی تعلقات کے عکس کے طور پر دیکھا گیا۔ یہ احساس عام ہو گیا کہ بھارت اپنی بڑی معیشت اور سفارتی اثر و رسوخ کو اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے بجائے اپنی شرائط منوانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس کے برعکس، آئی سی سی ووٹنگ میں پاکستان کے موقف کو بنگلہ دیش میں اصولی سفارت کاری اور مخلصانہ حمایت کی مثال کے طور پر سراہا گیا، جس نے اس تاثر کو تقویت دی کہ پاکستان تاریخی تلخیوں کے باوجود بنگلہ دیش کی خودمختاری اور بین






