#اداریہ

پاکستان کا کرکٹ کے عالمی مقابلوں میں شرکت بارے فیصلہ کیاہوگا؟

Fahad 01

أج کااداریہ

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ٹیم سری لنکا بھجوانے سے متعلق حتمی فیصلہ جمعے یا پیر تک ملتوی کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام ٹورنامنٹ کے مکمل بائیکاٹ کی بجائے صرف بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے کی تجویز پر غور کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشہ روز چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ’وزیرِ اعظم نے تمام آپشنز کو مدِ نظر رکھ کر معاملہ سلجھانے کی ہدایت دی ہے۔
واضح رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے انڈیا میں کھیلنے سے انکار پر بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کرتے ہوئے سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا تھا۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے آئی سی سی کے فیصلے کو ’نا انصافی‘ قرار دیتے ہوئے اسے دہرا معیار قرار دیا تھا
اُن کا کہنا تھا کہ ’بنگلہ دیش پر بھی وہی اُصول لاگو ہونا چاہیے، جو کسی اور پر ہوتا ہے۔ اگر ایک ملک سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کسی ملک میں کھِیلنے سے انکار کرتا ہے تو پھر بنگلہ دیش کو بھی یہ حق ہونا چاہیے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اس صورتحال میں ورلڈ کپ کے لیے ٹیم سری لنکا بھیجنے کا فیصلہ اب حکومت کرے گی اور اگر بنگلہ دیش کے ساتھ انصاف نہ ہوا تو پھر آئی سی سی چاہے تو 22 ویں ٹیم شامل کر لے
جب محسن نقوی سے پوچھا گیا کہ ’اگر پاکستان بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نہیں کھیلتا ہے تو ’پلان بی‘ کیا ہے، تو اُنھوں نے جواب دیا کہ ’پہلے فیصلہ آنے دیں، ہمارے پاس پلان اے، بی، سی اور ڈی ہیں۔‘ میڈیا ذرائع کے حوالے سے یہ رپورٹ کر رہا تھا کہ پاکستان، کولمبو میں 15 فروری کو شیڈول انڈیا کے ساتھ میچ کے بائیکاٹ یا میچ کے دوران سیاہ پٹیاں باندھ کر کھیلنے پر غور کر رہا ہے۔
دوسری جانب بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے نائب صدر راجیو شکلا کا کہنا ہے کہ رواں سال بھارت کی میزبانی میں کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیش کو سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی تاہم پاکستان نے اس معاملے میں ’بے وجہ مداخلت‘ کی۔ راجیو شکلا کا کہنا تھا کہ ’ہم تو چاہتے تھے کہ بنگلہ دیش کھیلے۔ ہم نے انھیں سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن انھوں نے ٹیم نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ ہماری سرکار کہہ رہی ہے کہ ہم ٹیم نہیں بھیج سکتے، ہم کولمبو میں ہی کھیلیں گے
آخری لمحے پر پورے شیڈول کو تبدیل کرنا بہت مشکل کام ہے اس لیے آئی سی سی کو سکاٹ لینڈ کو لانا پڑا۔ بنگلہ دیش کو سوچنا چاہیے تھا، کھیلنا چاہیے تھا۔ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ وہ کھیلے۔‘
انھوں نے پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اس میں بے وجہ پڑا ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کو اکسانے میں پاکستان کا بہت بڑا کردار ہے۔‘
’پاکستان کو یہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پاکستان نے بنگلہ دیشیوں کے ساتھ کیا زیادتی کی، دنیا جانتی ہے اور بنگلہ دیشی بھی جانتے ہیں۔ تب وہ ملک الگ ہوا تھا۔‘
بی سی سی آئی کے نائب صدر نے مزید کہا کہ پاکستان اب بنگلہ دیش کا ’ہمدرد بن کر انھیں غلط راستے پر لے جانے کی کوشش کر رہا ہے جو کہ غلط ہے
یاد رہے کہ چند روز پہلے بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز کھیلنے کے لیے بھارت جانے سے انکار کیا۔ بنگلادیش بورڈ کا مؤقف تھا کہ سکیورٹی خدشات پر اُس کے میچز سری لنکا منتقل کیئے جائیں۔
تاہم آئی سی سی نے بنگلا دیش بورڈ کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو میگا ایونٹ میں شامل کر لیا۔
 گزشتہ دنوں ذرائع سے یہ خبر سامنے آٗئی تھی کہ بنگلا دیش کے ورلڈ کپ میں شرکت سے انکار کی صورت میں پاکستان کے بھی بائیکاٹ کا امکان ہے
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے پاکستان کرکٹ  ٹیم کا اعلان تو ہو گیا لیکن کیا پاکستان ورلڈ کپ کھیلے گا ؟
ذرائع کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کرنے یا نہ کرنے سے متعلق وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے بھی مشاورت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ مشاورت ہورہی ہے، حکومت کردار ادا کرے گی ،جو فیصلہ ہوگا آگاہ کردیاجائے گا۔
 چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی کا کہنا ہےکہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کا مؤقف اصولوں پر مبنی ہے، آئی سی سی کے دوہرے معیار کو مسترد کرتے ہیں۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سیاست زدہ کرکٹ کسی کے مفاد میں نہیں، سب کو کرکٹ کے اصولوں پر چلنا چاہیے، ہمارے کھلاڑی با صلاحیت اور ہر لحاظ سے مقابلہ کرنا جانتے ہیں، کسی بھی میدان میں کامیابی ٹیم ورک سے حاصل ہوتی ہے
کرکٹ ماھرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس کرکٹ کے عالمی مقابلوں میں شرکت نہ کرنے کے جواز موجود ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو ائی سی سی اور بی سی سی أئی کی ساکھ کو سخت دھچکا لگے گا اور أمدن پر بھی خاصا فرق پڑیگا۔
گزشتہ دنوں ذرائع سے یہ خبر سامنے آٗئی تھی کہ بنگلا دیش کے ورلڈ کپ میں شرکت سے انکار کی صورت میں پاکستان کے بھی بائیکاٹ کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا آغاز 7 فروری سے ہونا ہے،ایونٹ میں پاکستان کے میچز سری لنکا میں شیڈولڈ ہیں۔

پاکستان کا کرکٹ کے عالمی مقابلوں میں شرکت بارے فیصلہ کیاہوگا؟

عنوان: زندگی بہت مختصر ہے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے