عنوان: زندگی بہت مختصر ہے
تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
زندگی واقعی بہت مختصر ہے اتنی مختصر کہ انسان پلٹ کر دیکھے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سب کچھ لمحوں میں گزر گیا ہو۔ وقت مٹھی میں بند ریت کی طرح ہے، جتنا تھامنے کی کوشش کریں اتنا ہی پھسل جاتا ہے۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہم اس مختصر سی زندگی کا بڑا حصہ رنجشیں رکھنے، نفرتیں پالنے، شکوے شکایتیں جمع کرنے اور ماضی کے زخموں کو بار بار کریدنے میں ضائع کر دیتے ہیں جبکہ ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کب یہ سانسوں کی ڈور ٹوٹ جائے۔
ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی ہمیں نفرت کے لیے نہیں بلکہ محبت کے لیے ملی ہے۔ یہ ہمیں بدلے اور انتقام کے لیے نہیں بلکہ درگزر اور برداشت کے لیے عطا ہوئی ہے۔ انسان اپنی انا کو اتنا بڑا بنا لیتا ہے کہ معافی مانگنا اسے ذلت محسوس ہوتا ہے اور معاف کرنا کمزوری، حالانکہ اصل طاقت تو معاف کرنے میں ہے۔ جو شخص معاف کر دیتا ہے وہ دراصل خود کو آزاد کر لیتا ہے، جبکہ نفرت پالنے والا انسان خود اپنے ہی اندر قید ہو جاتا ہے۔
انسانی فطرت عجیب ہے، وہ دکھ کو برسوں سینے سے لگائے رکھتا ہے اور خوشیوں کو لمحوں میں بھلا دیتا ہے۔ ایک تلخ جملہ زندگی بھر کا بوجھ بن جاتا ہے جبکہ سینکڑوں اچھی باتیں یادوں کی دھول میں گم ہو جاتی ہیں۔ ہم اس حقیقت کو نظرانداز کر دیتے ہیں کہ جس شخص سے آج ہم ناراض ہیں، جس سے بات بند ہے ہو سکتا ہے کل وہ اس دنیا میں موجود ہی نہ ہو۔ وقت کسی کو مہلت نہیں دیتا نہ ہمیں، نہ ہمارے پیاروں کو۔
زندگی کی سب سے بڑی سچائی یہی ہے کہ یہاں کچھ بھی مستقل نہیں۔ رشتے، عہدے، طاقت، شہرت، دولت سب عارضی ہیں۔ آج جو ہمارے ساتھ ہے وہ کل بچھڑ سکتا ہے اور آج جو ہنستا مسکراتا نظر آتا ہے، کل خاموشی کی چادر اوڑھ سکتا ہے۔ اس کے باوجود ہم معمولی باتوں پر رشتے توڑ لیتے ہیں، دلوں میں دیواریں کھڑی کر لیتے ہیں اور اپنی انا کو سب کچھ سمجھ بیٹھتے ہیں۔
ہم نے خوشی کو بھی مشکل بنا لیا ہے، حالانکہ خوشی تو چھوٹی چھوٹی باتوں میں چھپی ہوتی ہے۔ کسی کو توجہ سے سن لینا، کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لے آنا کسی کے دکھ میں شریک ہو جانا، یہ سب وہ عمل ہیں جو انسان کو اندر سے امیر بنا دیتے ہیں۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان نے کیا حاصل کیا، اصل کامیابی یہ ہے کہ اس نے کیسا انسان بن کر زندگی گزاری۔
بدقسمتی سے ہم نے نیکی کو بھی مشروط کر دیا ہے۔ ہم صرف ان لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں جو ہمارے فائدے میں ہوں جو ہماری تعریف کریں یا ہماری سوچ سے اتفاق کریں۔ حالانکہ اصل نیکی وہ ہے جو بغیر کسی صلے اور بغیر کسی دکھاوے کے کی جائے جو صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو اور جو خاموشی سے دلوں کو جوڑ دے۔
وقت کا ضیاع سب سے بڑا نقصان ہے کیونکہ وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ دولت دوبارہ کمائی جا سکتی ہے، مقام دوبارہ حاصل ہو سکتا ہے، مگر جو لمحہ نفرت میں گزر گیا وہ کبھی محبت میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ جو دن رنجش میں ضائع ہو گیا وہ کبھی خوشی میں نہیں بدلا جا سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان وقت کی قدر کرے اور اپنی توانائی مثبت کاموں میں لگائے۔
زندگی ہمیں بار بار موقع دیتی ہے کہ ہم خود کو بہتر بنائیں مگر شرط یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں، اپنی انا کو ایک طرف رکھیں اور یہ مان لیں کہ ہم کامل نہیں۔ جب انسان یہ سچ قبول کر لیتا ہے تو اس کے لیے دوسروں کو معاف کرنا آسان ہو جاتا ہے اور زندگی بوجھ کے بجائے نعمت بن جاتی ہے۔
آج کے شور زدہ معاشرے میں جہاں آوازیں بہت ہیں مگر سننے والا کوئی نہیں، وہاں سب سے بڑی ضرورت برداشت، خاموشی اور محبت کی ہے۔ سوشل میڈیا نے الفاظ کو تیز دھار ہتھیار بنا دیا ہے اور دلوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم رکیں، خود سے سوال کریں کہ کیا یہ رنجش واقعی اتنی اہم ہے کہ ہم اپنی زندگی کا سکون قربان کر دیں۔
آخر میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ زندگی بہت مختصر ہے۔ اسے مسکرا کر جینے کی کوشش کیجیے کیونکہ مسکراہٹ صدقہ ہے۔ معاف کیجیے کیونکہ معافی سکون دیتی ہے۔ محبت بانٹیے کیونکہ محبت ہی اصل دولت ہے اور نیکی کمائیے کیونکہ ایک دن یہی نیکی ہمارے کام آئے گی۔ جب ہم اس دنیا سے رخصت ہوں گے تو نہ ہمارے عہدے یاد رہیں گے نہ ہماری بحثیں، بس ہماری یادیں باقی رہ جائیں گی، اور یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم کیسی یادیں چھوڑ کر جائیں۔
زندگی واقعی بہت مختصر ہے اسے محبت میں گزار لیجیے۔






