#کالم

امتحان در امتحان

Untitled 14

جمع تفریق۔۔ ناصر نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور زندگی امتحان در امتحان جواس میں اپنے آ پ کو کامیاب سمجھتے ہیں دراصل وہ بھی جیتے نہیں شکست خوردہ ھی ھیں، چھوٹے بڑے ،صاحب حیثیت، طاقتور ،اعلی حسب و نسب، تاجر، صنعت کار اور منفرد ترین عہدوں کے شہسوار بھی جب اس دنیا سے رخصت ہوئے تو کچھ بھی ساتھ نہ لے جا سکے ،وہ جانتے تھے کہ سکندر جیسا عالمی فاتح بھی دنیا میں خالی ہاتھ آ یا اور خالی ہاتھ ہی واپس چلا گیا، پھر بھی دنیا کی رنگینیوں نے خواہشات کو جنم دیا ہر کسی نے جو ہو سکا وہ کیا، جو نہیں ہو سکا اس کی تمنا بھی کی لیکن٫٫ جمع تفریق،، ایسی ہوئی کہ حاصل ضرب صفر ہی نکلا ،جائز ناجائز جو اکٹھا کیا وہ اسی امتحان گاہ میں چھوڑ کر واپس جانا پڑ گیا اس لیے کہ نظام قدرت یہی ہے ٫٫موت ،،ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی کو استثنی حاصل نہیں، دیندار ہو کہ بے دین موت کا یقین سب کو ہے پھر بھی جب تک جان میں جان ہوتی ہے اسکا غرور اور ضد یہی ہوتی ہے کہ ہم کسی سے کم نہیں، حالانکہ ایک روز آ تا ہی ہوتا ہے کہ وہ خود کم ہو جاتا ہے۔۔ جو ہے اسے تھا کہہ کر یاد کیا جاتا ہے لیکن یاد کیے جانے کے حوالے کچھ با عزت اور کچھ باعث ندامت ہوتے ہیں، اشرف المخلوقات کہلائے جانے کے باوجود کچھ آ دم زادے جانوروں سے بھی بدتر دکھائی دیتے ہیں سوال ہے کیوں؟ اس لیے کہ خواہشات، حرص اور ایک دوسرے پر سبقت کی چاہت کے بہکاوے میں سب کچھ بھول گئے، اسی لیے یاد دہانی کرائی گئی کہ ٫٫ آ دمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا ،،جدید دور میں کتابوں سے دوری اور آ لات سوشل میڈیا نے آ دم زادوں کے لیے معلومات کے نت نئے راستے روشناس کرا دیے اور ایک نسل بلکہ ہمارا کل یہی کچھ سمجھ رہا ہے کہ ہمیں نہ کتاب کی ضرورت ہے اور نہ ہی تحقیق کی، دنیا ہمارے ہاتھ میں ہے نئے دنیاوی تقاضوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے حالانکہ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ضروری نہیں کہ سارے سبق کتابوں سے سیکھے جائیں، کچھ سبق زندگی اور کچھ دوست رشتہ دار بھی سکھا دیتے ہیں لیکن سیکھے گا تو وہ جسے اس کا ادراک ہوگا ورنہ صرف 2025 کو مڑ کر دیکھ لیں تو نتیجہ سامنے آ جائے گا کہ سال گزشتہ یوں گزر گیا کہ کچھ لوگ بدل گئے، کچھ لوگوں نے ہمیں بدل دیا، ایسے میں کیا ہماری سوچ ،خواہش اور انداز زندگی بھی بدلا کہ نہیں؟ جواب اپنے آ پ سے پوچھ لیں، آ واز آ ئے گی کہ نہیں، آ پ ضمیر سے مخاطب ہوں کہ ایسا کیوں ہوا ؟سو قسم کے تحفظات ذہن میں آ ئیں گے، مشکل وقت تھا، اپنے پرائے ہوئے تو نئے دوستوں سے تعلقات استوار کرنے پڑے ،اب مستقبل کی فکر لاحق ہے بھاگ دوڑ کریں گے منزل تک تو پہنچ ہی جائیں گے جبکہ حالات کی ٫٫جمع تفریق،، غیر جانبدارانہ انداز میں کر لیں، تو درست جواب مل جائے گا کہ مشکل وقت کا فائدہ ضرور ہوا کہ زندگی سے فالتو لوگ نکل گئے جنہیں آ پ غلط فہمی یا خوش فہمی میں اپنا ہمدرد اور وفادار سمجھ رہے تھے۔۔۔ سمجھنے کی بات ہے کہ ہمارا معاشرہ تضاد سے بھرا پڑا ہے اسی میں ہم پل کر بڑے ہی نہیں، بوڑھے بھی ھوگئے ہیں بلند بانگ دعوے ہر دور میں کیے گئے کہ بس سب کچھ بدلنے والا ہے اب ماضی کی کہانیاں دفن ہو جائیں گی، تبدیلی آ ئے گی لیکن سوچ کسی کی نہیں بدلی لہذا دعویدار خود دفن ہو گئے جو ابھی باقی ہیں وہ مستقبل میں دفن ہو کر مٹی کے ڈھیر بن جائیں گے، بس یہی وجہ ہے کہ ہم باتوں اور نعروں سے آ گے نہیں بڑھ سکے، ہمارا معاشرہ اتنا خوبصورت اور ذمہ دار ہے کہ یہاں باپ اور خاندان کی عزت بیٹی کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور جائیداد کے کاغذات بیٹے کے ہاتھ میں دیے جاتے ہم ٫٫کلمہ گو،، کے لئے پیغام ہے کہ بیٹیاں باعث رحمت ہیں لیکن ایک سے دو کیا ،ایک بھی ہو جائے تو اسے زحمت ہی تصور کیا جاتا ہے اس منافقت اور تضاد بیانی پر صرف ماتم کیا جا سکتا ہے اس لیے کہ معاشرے کا ہر فرد کسی نہ کسی شکل میں اپنا حصہ بقدر جثہ بلا سوچیں سمجھے ڈال رہا ہے اور دعوی انقلاب کا ہے، وہ نہیں جانتے انقلاب ناکام ہو تو بغاوت کہلاتی ہے اور اس کی سزا پورے معاشرے کو بھگتنی پڑتی ہے
موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو حقیقت کھل جائے گی کہ دنیا امتحان گاہ ہے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آ دم زادوں کو روزانہ کی بنیاد پر انفرادی اور اجتماعی امتحانات دینے پڑ رہے ہیں خاندان کی سطح پر موازنہ کریں کہ ریاستوں اور ممالک کے حوالے سے جائزہ لیں چہرے اور انداز صرف بدلتے دکھائی دیں گے امتحان ختم نہیں ہونگے، فلسطین اور کشمیر کی تحریکوں کی جدوجہد اور قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے لیکن نائن الیون کے بہانے مسلم دنیا کو جس سخت ترین امتحان سے گزرنا پڑا اسے کیسے بھولا جا سکتا ہے ،عراق پر ایٹمی مہلک ہتھیاروں کا الزام لگا کر طاقت کا مظاہرہ کیا گیا ،دنیا تماشائی بنی رہی، لیبیا اور شام کی مشقیں ھڈ دھرمی کے زور سے باندھیں گئیں، کسی نے کیا کر لیا؟ افغانستان کو ہمیشہ کے لیے غیر مستحکم کر کے تماشہ بنا دیا گیا امریکہ بہادر بڑی دھوم اور نیٹو فورسز کی گھن گرج سے وارد ہوئے اور پھر بھی ویتنام کی طرح ناکامی پر بھاری بھرکم ساز و سامان چھوڑ کر فرار ہو گئے، جہاد افغانستان کے سہولت کار ضیاء الحق نہ رہے لیکن طالبان ،جدید اسلحہ اور منشیات کا تحفہ پاکستان کے حصے میں آ گیا اور پوری قوم بھگت رہی ھے،وینزویلا جیسے امیر ترین ملک کا صدر دنیا کی سپر پاور طاقت کے گھمنڈ میں اٹھا کر لے گئی ،دنیا کے ایک مختلف اور بڑے واقعے پر بھی مصلحت پسندی کے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے