امریکہ کی دنیا پر راج کرنے کی خواہش
اورنگ زیب اعوان
بچپن سے سنتے آ رہے ہیں. کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس. یہ محاورہ موجودہ دور میں امریکہ پر پورا اترتا ہے. وہ جس
ملک کے خلاف چاہتا ہے. اعلان جنگ کر دیتا ہے. اس سے کوئی سوال کرنے والا نہیں. اپنی طاقت کے نشہ میں دھت کسی بھی ملک میں گھس کر اس کی سلامتی کو چیلنج کرتا ہے. عراق میں فوجی مداخلت کرکے اس کے قدرتی وسائل پر قبضہ کیا گیا. اس کے صدر صدام حسین کو پکڑ کر پھانسی کی سزا دی گئی. وینزویلا کے موجودہ صدر کو اس کی سرکاری رہائش گاہ سے اس کی اہلیہ سمیت گرفتار کر لیا گیا. پاکستان کی سرزمین میں گھس کر اسامہ بن لادن کو گرفتار کیا گیا. ان سب ظالمانہ کاروائیوں کے پیچھے اس کا ایک ہی مقصد کارفرما ہے. وہ ہے دنیا میں اپنی طاقت کی دھاگ بیٹھنا . وہ دنیا کو باور کروانا چاہتا ہے. کہ اس سے طاقت ور دنیا میں کوئی نہیں. امریکہ کی دوسرے ممالک کے قدرتی وسائل بالخصوص تیل کے ذخائر پر قابض ہونے کے جنون نے اسے ایک وحشی درندہ بنا دیا ہے. اس کے غیر منصفانہ اقدامات کی وجہ سے دنیا کی معیشت تنزلی کا شکار ہو چکی ہے. ایران کے اندر امریکہ کی جانب سے بغاوت کی کوشش کی جا رہی ہے. امریکہ خود کو دنیا کی مہذب ترین قوم کہتا ہے. کیا مہذب ترین اقوام ایسا کرتی ہیں. وہ خود زندہ رہنے کے لیے سب کو مارتیں ہیں. ہرگز نہیں. دنیا باہمی تجارت کے اصول کے تحت چلتی ہے. ناکہ لوٹ کھسوٹ کے نظام کے تحت. کسی ملک کے پاس تیل کے ذخائر ہیں. تو کسی کے پاس اسلحہ کی بھرمار ہے. تو کسی کے پاس زرعی اجناس کی. کسی کے پاس جدید ٹیکنالوجی کی فراوانی ہے. ہر ملک دوسرے ملک کو اپنی مصنوعات فروخت کرکے بدلہ میں اس سے اس کی مصنوعات خریدتا ہے. یہی نظام دنیا ہے. مگر امریکہ کی دھونس دھاندلی نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے. اکثر ممالک کی معیشت بالکل تباہ ہو چکی ہے. وہاں خانہ جنگی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے. ہم جب کسی کے گھر کو آگ لگاتے ہیں. تو یہ بھول جاتے ہیں. کہ یہ آگ ہمارے گھر تک بھی پہنچ کر رہے گی. ماضی میں امریکہ نےجب بھی کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی. وہ مداخلت اس کے لیے وبال جان بن گئ. اس کے اپنے ملک میں دہشت گردی کی کاروائیاں ہوئیں . دنیا بھر میں یہ مشہور ہے. کہ امریکہ قانون پسند ملک ہے. مگر عملی طور پر ایسا نہیں. یہاں بھی ذاتی پسند و ناپسند کا نظام چلتا ہے. وینزویلا کے صدر کو جب گرفتار کرکے امریکی عدالت میں پیش کیا گیا. تو اس کے جج نے ایک بار سوال نہیں کیا. کہ کیا یہ گرفتاری قانونی ہے. آپ نے کس طرح سے ایک ملک کے موجودہ صدر کو اس کے ملک سے گرفتار کیا ہے. امریکہ کی ان غیر منصفانہ کاروائیوں کی وجہ سے اس کی ساخت پوری دنیا میں متاثر ہوئی ہے. امریکی عوام بھی امن کی داعی ہے. وہ بھی سوچ رہی ہے. کہ ہماری حکومت پوری دنیا کے امن کو برباد کرنے پر کیوں بضد ہے. آخر کار سب انسان ہیں. سب کو آزادی سے زبدگی گزرانے کا حق حاصل ہے. ہم دوسرے انسانوں سے زندگی کا حق چھین کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں. اگر امریکہ پوری دنیا کے تیل کے ذخائر پر قابض ہو بھی جاتا ہے. تو پھر کیا ہوگا. جب دنیا کی معیشت ہی برباد ہو جائے گی. اس سے تیل کون خریدے گا. تیل فروخت کرنے کے لیے دیگر ممالک کو معاشی طور پر مضبوط رہنے دینا ہوگا. کیا ہی اچھا ہو. کہ تمام ممالک اپنے اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے. ہنسی خوشی زندگی گزارے. اپنے قدرتی وسائل سے دوسرے ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدات طے کرے. اور نفرتوں کو مٹائے. حکمرانی ظلم سے نہیں. لوگوں کے دل جیت کر کی جاتی ہے. امریکی پالیسیاں دنیا بھر میں اس کے خلاف نفرت پیدا کر رہی ہیں. آئیں مل کر دنیا میں محبتیں تقسیم کرے. اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنا دیں.






