#کالم

بھارت میں اقلیتوں کا عرصہ حیات تنگ

Fahad 01

أج کا اداریہ

بھارتی ریاست اڑیسہ میں ایک مسیحی پادری پر ھندو جنونی گروہ کا ظالمانہ تشدد ‘ مندر کے سامنے سجدہ کرنے اور جے شری رام پکارنے پر مجبورکیا گیا ۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ 4 جنوری کو پیش آیا لیکن یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس کی تفصیلات اب سامنے آئی ہیں۔
بعض خبروں میں بتایا گیا کہ پادری کو مبینہ طور پر جبراً گوبر بھی کھلایا گیا تاہم ایس پی پولیس ابھینو سونکر کے مطابق گوبر کھلانے کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔
پادری نائک کی اہلیہ نے بتایا کہ انھوں نے اس واقعے کی شکایت مقامی پولیس سٹیشن میں اسی روز درج کروائی تھی لیکن کوئی کارروائی نہ ہونے کے بعد انھوں نےاعلی حکام سے رجوع کیا جس کے بعد پولیس نے 13 جنوری کو باضابطہ کیس درج کیا۔
معلوم ہوا ہے کہ دھین کنال ضلع کے پادری بپن بہاری نائک قریب کے ایک گاؤں میں اپنے ایک دوست سے ملنے گئے تھے۔
’وہاں وہ مقامی مسیجی برادری کے لیے دعا اور عبادت کر رہے تھے کہ اچانک وہاں مبینہ طور پر دائیں بازو کی ایک ہندو تنطیم سے تعلق رکھنے والے پندرہ بیس لوگ پہنچ گئے جنھوں نے پادری نائک پر جبری تبدیلی مذہب کا الزام لگایا۔‘
’ہجوم نے انھیں پکڑ لیا اور ان کے چغے اور چہرے پر سندور مل دیا۔ انھیں مارا پیٹا اور گلے میں چپلوں کا ہار پہنا کر گاؤں میں گھمایا گیا۔
انھیں نالی کا گندا پانی پلایا گیا اور ایک ہندو مندر کے سامنے سجدہ کرنے اور جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔
رواں ماہ کے پہلے ھفتے پیش انے والا واقعہ کوئی پہلا ایساواقعہ نہیں ہے جس میں انتہا پسند ہندووں کے ھاتھوں مذہبی اقلیتی رہنما کے ساتھ ناروا سلوک رپورٹ ھوا ھو اور اس پر مقدمہ بنانے اور چلانے پر پس وپیش سے کا لیا گیاہو۔
ایونجلیکل فیلوشپ آف انڈیا (ای ایف آئی) کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں مسیحیوں کو ڈرانے دھمکانے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔
جن میں انتہاپسند ہندو تنظیموں کے ارکان کی جانب سے پادریوں پر مبینہ حملے، اور انھیں زبردستی اپنے مذہبی اجتماعات منعقد کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہندو اکثریتی ملک بھارت میں مسیحی ایک چھوٹی اقلیت ہیں۔
کرسچن نمائندوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے جب ریاست اور مرکز میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیے ’سخت‘ قانون بنانے کاارادہ رکھتی ہے۔
بھارتی اقلیتی نمائندگان موجودہ مسودۂ قانون کو سخت ظالمانہ اقدام قرار دیتے ہیں۔ اس میں ان لوگوں کے لیے 10 سال تک کی قید کی سزا تجویز کی گئی ہے جو کسی کو ’زبردستی‘، ’دھوکہ دہی‘ یا شادی کے ذریعے مذہب تبدیل کروانے میں ملوث پائے جائیں۔ اور ایک مذہب کو چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کرنے والوں کو تمام سرکاری مرعات سے ممکنہ طور پر محروم کیا جانا بھی شامل ہے۔
ایسے ہر فیصلے کی چھان بین کی جائے گی کیونکہ مذہب تبدیل کرنے والوں کو ایسا کرنے سے دو ماہ قبل متعلقہ حکام کو آگاہ کرنا ہوگا، اور یہ حکام ایسا کرنے کی اجازت دینے سے پہلے اس کی وجوہات کی تفتیش کرتے ہیں۔
یہ مسودۂ قانون اس قانون کی طرز پر مرتب کیا گیا ہے جو گزشتہ برس شمالی ریاست اتر پردیش میں منظور کیا گیا تھا اور جہاں بی جے پی کی ہی حکومت ہے۔ وہاں اس قانون کا نام نہاد مقصد ’لو جہاد‘ کو روکنا ہے۔ یہ اصطلاح ان مسلمانوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو ہندو عورتوں سے شادی کرتے ہیں، اور سخت گیر ہندوؤں کے مفروضے کے مطابق ایسے مسلمان ہندو عورتوں کو محبت کا جھانسا دے کر مسلمان بنا لیتے ہیں۔ پرِنٹ نیوز ویب سائٹ کے مطابق اس قانون کی منظوری کے بعد اس کے تحت زبردستی مذہب تبدیل کروانے کے سینکڑوں مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
بھارت میں  تبدیلی مذہب ایک متنازع موضوع ہے۔ سخت گیر ہندو طویل عرصے سے یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ کرسچن مشنری غریب ہندوؤں کو پیسے یا دوسرے لالچ دے کر زبردستی مذہب تبدیل کرواتے ہیں۔ مشنری ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
مگر دلت (جنھیں پہلے اچھوت کہا جاتا تھا) ہندو مت میں ذات پات کے جابرانہ نظام سے جان چھڑانے کے لیے مسیحی مذہب اختیار کرتے رہے ہیں۔ قانوناً تحفظ حاصل ہونے کے با وجود اس برادری کو نہ صرف امتیازی سلوک بلکہ تشدد کا بھی سامنا رہا ہے
حال ہی میں اڑیسہ کے گاؤں میں پیش أنے والے اک واقعے بارے مسیحی تنطیموں کا کہنا ہے کہ وہ لالچ اور جبر سے تبدیلی مذہب کے فعل میں قطعی طور پر ملوث نہیں۔ ان کا کہنا ہے ہندو تنظیمں مسیحی برادری کو تبدیلی مذہب کا بہانہ بنا کر دانستہ طور پر ہدف بنا رہی ہیں۔
کرسچین فورم کے سربراہ ارون پنا لال نے بی بی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
’اس صورتحال میں پورے معاشرےکو سوچنا ہو گا سب کو مل کراس کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا۔ ملک ایک سیکولر آئین کے تحت ہی آگے بڑھے گا۔ اگر اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی گئی تو اقلیتوں کا اس ملک میں رہنا مشکل ہوجائیگا۔

بھارت میں اقلیتوں کا عرصہ حیات تنگ

راکھ پر لکھے سلگتے سوال

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے