پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن قسط:18
(شاہد بخاری)
”اک ہم سفر اچھا لگا“پر محی الدین پرے کچھ یوں روشنی ڈالتے ہیں۔
ڈاکٹر اقبال اپنی تخلیقات کی طرح”اک ہم سفر اچھا لگا“میں "خود بھی بہت اچھے لگ رہے ہیں امنگوں سے بھر پور پیار و انتظار کرتے ہوئے،وسوسوں اور اندیشوں میں ابھرتے ڈوبتے تیرتے ہوئے، کہیں روتے ہنستے،منزلوں سے بے پرواہ سفر کرتے ہوئے۔کیا یہ شاعر کا دوسرا جنم ہے یا پہلے جنم کا Preview؟ کلام کا تاثرMixedہے۔۔۔”
اک ہمسفر اچھا لگا“، شاعر کے ان خوب صورت اور زندہ لمحوں کی کہانی ہے جو اس کے مطلعء دل پر اترتے ڈوبتے ابھرتے شیریں لمحوں کی روداد ہے جو دس سالوں پر محیط ہے۔“
نمونہ کلام:
نام خارج ہو چکا ہے گو کتابِ زیست سے
میرے ہونے کا گماں ہیں تیری یادیں آج بھی
اک زلف تصور میں لہرائے تو کیا کیجئے
اک یاد گئی رُت کی تڑپائے تو کیا کیجئے
دھڑک رہے ہیں میری شاعری کے سینے میں
ہزاروں دلکش و رنگیں عذاب یادوں کے
ذرا اک یاد نے چھیڑا اسی پل آنکھ بھر آئی
کہیں آنسو نکلنے میں بھی کوئی دیر لگتی ہے
پھر اک جشن سا قلب و نظر میں رقصاں ہے
پھر ایک یاد پرانی بلا رہی ہے مجھے
میں بکھرنے کو تھا کہ چاہت کے
چند لمحے مجھے سنبھال گئے
آج بھی تڑپا ہے اس کے نام پر
مجھ میں زندہ ہے میرا دل آج بھی
ہجر راتوں میں کتنے فن مہکے
ان گنت بے شمار شعر ہوئے
تیری یادوں کی جب چلی پُروا
کس قدر یاد گار شعر ہوئے
بس اتنا ہے ذکر سے اس کے شعر میں جاں پڑ جاتی ہے
کون وفا میں جان گنوائے سب کہنے کی باتیں ہیں
پھر کسی در پہ تھک کے اے اقبالؔ !
بیٹھ جائیں تو کیا تماشا ہو !
خواہش کی یہی ضد کہ اسی شہر کی جانب
ہر روز کسی ایک ضرورت کا بہانہ
زہے نصیب کہ میں پیار کے مدار میں ہوں
کوئی بھی رُت ہو سدا موسمِ بہار میں ہوں
یہ طوفانِ حوادث ریزہ ریزہ کرنے والا ہے
بکھر جاؤں تر ا ہو کر ذرا اچھا نہیں لگتا
تیرے ہر کام میں ہے مصلحت پر تیری دنیا میں
کوئی بھوکا کوئی بے گھر ذرا اچھا نہیں لگتا
وہ جتنی چاہے دعائیں سمیٹ سکتا ہے
امیرِ شہر کو کچھ بددعا کا خوف نہیں
امیرِ شہر نے خرید کر رکھ لی
سروں میں جتنی تھی دانشوروں کے دانائی
وہی امیر کے ٹکڑے وہی غریب کا پیٹ
زمانے بیت گئے پر صداقتیں ہیں وہی
جیب میں کب سے ہے لمبی سی خریداری کی لسٹ
کچھ خریدوں گا تبھی تو لوٹ کے گھر جاؤں گا
زندگی اک دائرے میں گھوم کر رہ جائے گی
میں سدا دفتر سے گھر اور گھر سے دفتر جاؤں گا
کروں تو کیسے کروں حل حیات کا پرچہ
سوال ایسے ہیں جو داخلِ نصاب نہیں
آج دل نے ہار اپنی مان لی
آج میں دراصل ہارا یوں لگا
میں اپنے گاؤں سے اک دیپ ساتھ لایا ہوں
تمہارے شہر میں ہر سمت تیرگی ہے تو کیا؟
میں کیوں بے کار دستک دے رہا ہوں
مجھے دروازہ خود ہی کھولنا ہے
’’اک ہم سفر اچھا لگا“ سے چند منظومات:
اکیسویں صدی
یہ پیار کی باتیں کرتا ہے
میں حلف اٹھاتا ہوں لوگو
اسے پاگل خانے لے جاؤ
اسے دار پہ جا کے لٹکاؤ
گر پیار یہاں پھر عام ہوا
ہم سارے مارے جائیں گے
٭٭
دیوانے کی بڑ
یہ شاعر لوگ بھی پاگل ہیں
اس دور کی باتیں کرتے ہیں
اب جس کا کوئی وجود نہیں
پھولوں کی باتیں کرتے ہیں
کلیوں کی باتیں کرتے ہیں
چاہت کی بزم سجاتے ہیں
اور حسن کی مالا جپتے ہیں
کمپیوٹر دور میں رہتے ہیں
پنگھٹ پہ نغمے لکھتے ہیں
یہ ایٹم بم کی دنیا میں
غمزوں سے گھائل ہوتے ہیں
یہ ڈِسکو دور کے باسی ہیں
زلفوں سے جی بہلاتے ہیں
اس گونگی بہری دنیا میں
جب کوئی بھی ان کی سنتا نہیں
دروازوں سے سر ٹکراتے ہیں
دیواروں سے باتیں کرتے ہیں
٭٭
وہ
مجھ میں انینجل بھی ہے اور ا یلک بھی
کوئی پر ٹیس ملی نہیں مجھ کو
جو ملی ہے وہ عین میگی
میری اپنی حیات کی دشمن
پیار کرتی ہے اور ڈرتی ہے
وہ میری جان ہے مجھ پہ مرتی ہے
کاش جینا بھی سیکھ لے مجھ سے
٭٭
کاش!
اے مری جان کسی روز تسلی سے محبت کر لیں
بھول جائیں کہ ہمیں اور کوئی کام بھی ہے
اور رخسار و لب و زلف کی جنت میں کہیں کھو جائیں
ایسے کھو جائیں شب و روز کے ہنگامے ہمیں ڈھونڈنے نکلیں
تو کوئی نہ نشاں ہاتھ لگے
کوئی بھی فرض کا آسیب تعاقب میں نہ ہو
کوئی صبح کا تقاضا ہو نہ ہو شام کا غم
نہ کوئی وقت گزرنے کا ہو دھڑکا دل میں
نہ کسی آس کی قندیل کو ہو خوفِ سحر
نہ کوئی پیاس دل و جاں کی ادھوری رہ جائے
سبدِ لمس ہو قربت کے
گُلو ں سے معمور
مزرعہء گوش میں نغمات کے پھل پھول کھلیں
آنکھ کی کشت میں رنگوں کی ہو رم جھم ہر سو
زندگانی پہ ترا میرا عَلم لہرائے
اے مری جان کسی روز تسلی سے محبت کر لیں
٭٭
محبت
ایک تنہا چراغ طوفاں میں
ایک شیریں سی بات کانوں میں
نفرتوں کی شکار دنیا کے
زندگی کا پیام موت کے نام
٭٭
ابدی پیاس
نہیں وہ فاسٹس میں جس کو لافانی بناتا ہے
خیالوں میں فقط ہیلن کا اک بوسہ
مجھے ہیلن بھی مل جائے تو تسکیں ہو نہیں سکتی
٭٭
ایک انکشاف
کہا یہ کیٹس نے مجھ سے
غلط یہ بات کہ ہر چیز میں
اک حسن ہوتا ہے
یہ فینی کا تصور ہے
جو ہر شے میں جھلکتا ہے
اسے دلکش بناتا ہے
٭٭
سلامِ آخر
گر جدائی ہی مقدر ٹھہرا
جان اقبال! جدا ہو جائیں
اپنے ہاتھوں سے فنا ہو جائیں
٭٭
شیکسپیئر
شیکسپیئر کسی کا نام نہیں
شیکسپیئر کوئی مقام نہیں
کوئی مذہب کوئی نظام نہیں
دوستو یہ کتابِ ہستی ہے
جس میں سارے ہی نام آتے ہیں
جس میں سارے مقام آتے ہیں
سارے مذہب نظام آتے ہیں
٭٭
بیادِ شیلی
نہ چھینو مجھ سے شیلی کو مجھے اک گیت لکھنا ہے
مجھے اک ہار گانا ہے
مجھے اک آس کے احساس میں مدہوش رہنا ہے
زمیں سے دور جانا ہے
محبت اوڑھنا ہے نفرتوں کی ماری دنیا میں
غموں سے ہاری دنیا میں
بتانا ہے کہ سرما کے بطن سے موسمِ گلبار پھوٹے گا
طلسمِ ظلم ٹوٹے گا
٭٭
تیرا نام
ساز کے لب پہ دلنشیں آواز
تیرہ شب میں کوئی چراغ لئے
گرم ملبوس کانپتے تن پر
٭٭
وقت
یہ گھڑی جو لگی ہے بازو پر
اک دکھاوے کی شے ہے
کچھ بھی نہیں
تو جو آئے ہے سحر میری
تیرے چہرے پہ سارے پل تحریر
تیری زلفوں میں مہ و سال اسیر
٭٭
رومانی دل
لاکھ سچی ہو ورڈز ورتھ کی بات
مجھ کو گھیرے ہے بائرن جذبات
میں تو تڑپوں گا صورتِ شیلی
دن ہو قمری کہ عندلیب ہو رات
٭٭
خراجِ تحسین
میری دنیا پہ تھی حکمراں تیرگی
شعر ملٹن نے کی ہر طرف روشنی
میں نے چاسر سے تا ایلیٹ سب پڑھے
جان ڈن کی مگر کچھ الگ بات تھی
موت کی وادیوں میں بھٹکتا تھا دل
شیکسپیئر ملا، مل گئی زندگی
میں نے اے زندگی جب بھی دیکھا تجھے
تیر اچہرہ لگا کیٹس کی شاعری
میں نے فطرت کے شاعر کو جب بھی پڑھا
میرے احساس پہ چھا گئی بے خودی
جب بھی پڑھیے اسے پڑھتے جائیے اسے
ہارڈی کا ہو ناول کہ ہو شاعری
٭٭
دل گھڑیال
کچھ بھی بجا ہو چھ بجتے ہیں
وقت سحر ہو چھ بجتے ہیں
پچھلا پہر ہو چھ بجتے ہیں
چھ بجتے ہیں وہ آتے ہیں
٭٭
نسخہءکیمیا
جو لکھا تاریخ نے جھوٹا
جو لکھا ہے ادب نے جھوٹا
جتنے حرف ہیں سارے جھوٹے
سچا میرا پیار، باقی سب بے کار
٭٭
بہ نذرِ جون ڈنؔ
ہم عجیب انساں ہیں
غم کی ساری شاموں کو
دُکھ کی ساری راتوں کو
قلب و جاں کے لا کر میں
احتیاطِ کامل سے
رکھ کے چین پاتے ہیں
او ر اگر خوشی آئے
اُس کی ساری صبحوں کو
اس کے سارے جلوؤں کو
اپنے اپنے چہروں پر
دو گھڑی سجاتے ہیں
اور بھول جاتے ہیں
("یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کے کتابی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار سیریز کے تحت 2022 میں شائع ہوئی تھی”جس کی تلخیص بہ اجازت چٹھی AOL بتاریخ27مئی 2025 قسط وارشائع کر رھے ہیں)






